عراق میں چھ اتحادیوں کے اغوا کا دعویٰ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکہ کے خلاف نبرد آزما افراد نے دو امریکی اور چار اطالوی شہریوں کواغوا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹر کے ایک رپورٹر کا کہنا ہے کہ اس نے دو غیر ملکیوں کو جو کہ اس کے خیال میں اٹلی کے شہری تھے کو بغداد کے مضافات میں ایک مسجد میں دیکھا ہے۔ رائٹر کے رپورٹر نے دونوں افراد کو ضلع ابو غریب کی مسجد میں دیکھا۔ اس کے مطابق ’دونوں شخص روتے ہوئے چلا رہے تھے کہ وہ اطالوی ہیں۔ایک کے کاندھے میں زخم تھا۔ دونوں مرد تھے اور انھوں نے نیلے رنگ کی ٹی شرٹش پہنی ہوئی تھیں۔‘ ادھر اٹلی میں اغوا کا یہ معاملہ ابھی غیر واضح ہے۔ روم میں اطالوی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ تمام فوجی، عام شہری اور امدادی کارکنوں کی گنتی کی جا چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس امر کا جائزہ لے رہے ہیں کہ شائد وہ ایسے اطالوی شہری ہوں جن کا انھیں پتہ نہ ہو۔ یہ قیاس آرائی بھی کی جا رہی ہے کہ دونوں کسی خفیہ ایجنسی کے رکن نہ ہوں۔یا پھر کسی نجی کمپنی کے سیکیورٹی گارڈز۔ ایک اطلاع کے مطابق امریکی صدر جارج بش نے اطالوی وزیرِ اعظم سلوائیو برلسکونی سے عراق کی صورتحال پر بات چیت کی ہے۔ اطالوی اپوزیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراق میں خراب ہوتی صورت حال پر پارلیمان کو اعتماد میں لے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||