BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق پر عالمی اخبارات کی رائے
News image
دنیا بھر کے اخبارات نے عراق میں صدام حکومت کے خاتمے کے ایک برس بعد بھی بڑھتے ہوئے تشدد اور غیرملکیوں کے اغوا پر شدید کوفت اور بےیقینی کا اظہار کیا ہے۔

ایک مشہور امریکی روزنامے نے زور دیا ہے کہ عراق میں اتحادی مشن کے مقاصد واضح کئے جائیں جبکہ ایک اسرائیلی تبصرہ نگار نے اس صورت حال کو لبنان میں اسرائیلی موجودگی کے مترادف قرار دیا ہے جس کا اختتام انتہائی تضحیک آمیز طرز سے ہوا تھا۔

بعض جاپانی روزناموں نے لکھا ہے کہ ان کے شہریوں کو عراق میں اغوا کئے جانے کے باوجود اغوا کنندگان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے جانے چاہئیں۔

دنیا بھر کے اخبارات میں عراق کی صورت حال پر شائع کئے گئے بعض تجزیوں اور آراء سے اخذ اقتباسات درج ذیل ہیں۔

دی نیو یارک ٹائمز، امریکہ: ہمیں عراق میں ایک واضح مشن، کامیابی کا ایک قابلِ یقین طریقِ کار، عراق سے نکلنے کا قابل عمل منصوبہ جو اخلاقی اعتبار سے بھی سود مند ہو، اور عراق میں بین الاقوامی مداخلت کی اشد ضرورت ہے۔

دی واشنگٹن پوسٹ، امریکہ: بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ کو عراق میں درپیش مسائل یکدم پیدا ہو گئے ہیں لیکن یہ دراصل صدا م حکومت کے خاتمے کے بعد کی گئی یکے بعد دیگرے غلطیوں کا نتیجہ ہیں۔ (عراقی صورت حال کے ماہرین)

سنکئی شیمبن: جاپان: ہم اغوا کنندگان کی دھمکیوں کے آگے کبھی گھٹنے نہیں ٹیک سکتے۔

یومی اوری شیمبن، جاپان: ہم ان غیر اخلاقی دھمکیوں سے زیر نہیں ہو سکتے بلکہ ہمیں اس صورت حال سے مضبوطی سے نمٹنا ہو گا۔

عکاظ، سعودی عرب: امریکہ کے پاس اب کوئی راستہ نہیں بچا کیونکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ عراق میں جمہوری فروغ کا امریکی منصوبہ ناکام رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کی ثقافت جنگ ہے جسکی دنیا کو کوئی ضرورت نہیں کیونکہ انسانیت کے فروغ کا واحد راستہ امن ہے۔

یدیئت اہرونات، اسرائیل: عراق جو کہ ظلم و جبر کی روایات کا اب بھی وفادار ہے، نفرت، خوف، تلخی اور خون کے سمندر میں غرق ہو چکا ہے۔ اسے صدر بش کا علاقائی جمہوریت کا خواب اب بھی یاد ہے جو بغداد اور رملہ سے لے کر دیگر عرب ممالک تک پھیل جانا تھا۔ (مبصر)

الصنارہ، اسرائیلی عرب: صدام حسین کی حکومت ختم ہو گئی لیکن عراقیوں پر یہ بات آشکار ہوئی کہ ان پر بد سے بدتر حکومت کا غلبہ آ گیا ہے اور امریکہ اور اس کے اتحادی صدام سے کہیں زیادہ برے ہیں۔

پیپلز ڈیلی، چین: اگر عراق امریکی فوج کے لئے ’دوسرا ویت نام‘ نہیں ہے تو بھی وہ ایک خوفناک دلدل ہے۔۔۔عراق میں امریکہ مخالف جذبات عروج پر پہنچ گئے ہیں جس کے باعث ملک بھر میں قومی سطح پر امریکی قبضے کے خلاف مہم کا آغاز ہو سکتا ہے۔۔۔ امریکہ کا ’آزادی دلانے والا‘ خود ساختہ امیج بالکل اسی طرح پاش پاش ہو گیا ہے جیسے ایک برس پہلے صدام حسین کا مجسمہ زمیں بوس ہو گیا تھا۔

کراسنیا زویزدا، روس: جون میں عراقیوں کو اختیارات منقتل کرنے سے پہلے ان سے طاقت واپس لینی ہو گی۔ عراق میں جاری مزاحمت میں اضافہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ عراقی بیرونی قبضے میں زندگی بسر نہیں کرنا چاہتے۔ اور بڑی سے بڑی فوجی تعداد بھی انہیں اس کے برعکس سوچنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔

لا فگارو، فرانس: امریکی عراق میں لوگوں اور ان کی املاک کی سلامتی کو دوبارہ بحال کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کے عوام کم سے کم تحفظ کی ضمانت ضرور چاہتے ہیں اور سلامتی کے بغیر عراق میں آزادی محض ایک لفظ بن کر رہ جائے گی۔

اے بی سی، سپین: عراق میں صورت حال خطرناک تر ہوتی جا رہی ہے۔ شیعہ اور سنی دھڑے متحد ہو رہے ہیں جو کہ قابض فوجوں کے لئے ایک واضح چیلنج ہے۔ دونوں فریقوں کے الحاق سے عراقی حالات میں ایک نئی بےیقینی پیدا ہو جائے گی۔

برلائنر زیتنگ، جرمنی: انہوں نے جنگ تو جیت لی لیکن عراق میں امن ہار بیٹھے۔ عراق میں سب سے بری چیز یہ ہو رہی ہے کہ وہ روز بروز اس مبینہ ’خواب‘ سے دور ہوتا جا رہا ہے جس کی بنا پر بیرونی طاقتیں عراق میں داخل ہوئی تھیں۔ (تبصرہ)

در سٹینڈرڈ، آسٹریا: امن کا خاتمہ پہلے روز ہی ہو گیا تھا جب بغداد پر لٹیروں، ڈاکوؤں اور قاتلوں کا غلبہ ہو گیا تھا۔ (تبصرہ)

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد