مشرق وسطٰی کے اخبارات کی تشویش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں شیعہ برادری اور اتحادی افواج کے درمیان بڑھتی ہوئی پر تشدد کارروائیوں پر مشرق وسطٰی کے اخبارات نے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ کئی عرب تجزیہ کاروں نے بڑھتے ہوئے تشدد آمیز واقعات کی ذمہ داری اتحادیوں پر عائد کی ہے جبکہ چند عراقی اخبارات کے مطابق ان جھڑپوں کی ذمہ داری دونوں فریقین پر عائد ہوتی ہے۔ اِنہیں اخبارات میں متنبہ کیا گیا ہے کہ شیعہ رہنما امریکی فوج کو اشتعال دلا کر عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کو مؤخر کرسکتے ہیں۔ ایران کے اصلاح پسند اور سخت گیر موقف کے حامی اخبارات نے تشویش ظاہر کی ہے کہ پر تشدد واقعات شیعہ برادری کے لئے خاص طور پر نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ عراقی اخبار البیان لکھتا ہے کہ اتحادیوں نے مقتدٰی الصدر کو مشتعل کرکے مسلح تنازعہ پر مجبور کردیا ہے۔ کشیدگی اور تنازعہ امریکی فوجیوں کے عراق میں قیام میں مزید تاخیر کا باعث بن سکتا ہے۔ امریکی فوجیوں کے ملک سے انخلاء کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔ اخبارات کا بند کیا جانا اتنے خطرے کی بات نہیں ہے جتنا کہ کسی کو مسلح تنازع میں ملوث کرنا۔ لندن سےشائع ہونے والے عربی روزنامے القدس العربی میں کہا گیا ہے کہ عراق کی شیعہ برادری کے ساتھ امریکہ کی دوستی ختم ہوگئی ہے۔ یہ ایسے روابط تھے جو اس سے زیادہ وقت کے لئے قائم بھی نہیں رہ سکتے تھے کیونکہ امریکی قابض افواج عراقیوں کے دل جیتنے میں ناکام رہی ہے۔ اردن کے اخبار الدستور کے مطابق عراقیوں کی جانب سے تحمل اور برداشت کا مطالبہ عراق کے خلاف ایک سازش ہے۔ چند عراقی، قابض افواج کو عراقیوں کے مذہب، قرآن اور مساجد کا احترام کرنے کی تنبیہ کرنے کے بجائے اپنے ہی لوگوں کو تحمل سے کام لینے کی نصیحت کررہے ہیں۔ مصر کے روزنامے الاحرام میں کہا گیا ہے کہ عراق میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے نمٹنے کے لئے قابض ممالک کو فوری اقدامات لینے ہوں گے۔ انہیں چاہئے کہ وہ اپنی پالیسی میں ردوبدل کریں، عراقی شہریوں کو مشتعل کرنے سے باز رہیں اور مظاہرین پر فائرنگ کرنے کا سلسلہ بند کریں۔ سعودی عرب کا اخبار الوطن لکھتا ہے کہ عراق میں روزانہ ہونے والی ہلاکتیں امریکہ کے لئے ایک بحران کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مقتدٰی الصدر مزاحمت کی علامت ہیں اور جوابی کارروائی کی طاقت رکھتے ہیں۔ اومان سے شائع ہونے والے الوطن میں لکھا گیا ہے کہ حماس اور حزب اللہ کے ساتھ مقتدٰی الصدر کا اتحاد بہت اہمیت کا حامل ہے۔ عراق میں مستقبل کی جھلک کچھ اسی طرح نظر آتی ہے جیسے کہ آج فلسطین اور غزہ کی صورتحال ہے۔ متحدہ عرب امارات کے روزنامے البیان کے مطابق عراقی شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال قابض افواج کے لئے بے سود ہے۔ اس سے محض مسلح تنازعہ کو ہوا ملے گی۔ فلسطینی اخبار الایام لکھتا ہے کہ مقتدٰی الصدر کا اتحاد شیعہ برادری کی خاموشی توڑے گا اور یہ عراق کی گورننگ کونسل کا خاتمہ بھی کرے گا۔ ایران کا سخت گیر موقف رکھنے والا اخبار خراسان لکھتا ہے کہ قابض قوتوں کے خلاف احتجاج پرامن ہونا چاہیے جیساکہ آیت اللہ السییستانی اور عبدالعزیز الحکیم نے بھی کہا ہے۔ تجربہ سے ثابت ہے کہ انتہا پسندی کا کوئی فائدہ نہیں۔ مقتدٰی الصدر کے حامیوں کی کارروائیاں شیعہ برادری کے خلاف مظالم کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ بات عراقی رہنماؤں کے قتل تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ جبکہ اصلاح پسند موقف کا حامی ایرانی اخبار شرق لکھتا ہے کہ اگر پر تشدد کارروائیوں پر قابو نہ پایا گیا تو شیعہ اور سنی برادری کا ایک اتحاد سامنے آسکتا ہے۔ ممکن ہے کہ ایران کو اپنی خارجہ پالیسی عراق میں امریکی فوج کے قیام کے خلاف مزید سخت کرنی پڑے۔ ایران اور عراق کے بنیاد پرست رہنماؤں کا اتحاد ایران میں اصلاح پسندوں پر دباؤ مزید بڑھا دے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||