شیعہ احتجاج: مزید فوج عراق بھیجنے پرغور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھڑک اٹھنے والے تشدد کے حالیہ واقعات میں بیس اتحادی فوجیوں سمیت پچاس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ تشدد کے ان واقعات سے نبٹنے کے لیے امریکی وزارتِ دفاع نےعراق میں موجود اپنے کمانڈروں سے مزید فوجی کمک بھیجنے کے بارے میں پوچھا ہے۔ پینٹاگن کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ عراق میں تشدد کے حالیہ واقعات ان کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ تاہم انہوں نے اسے عراق کی شیعہ آبادی
واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق امریکی فوجی کمانڈر تشدد کے حالیہ واقعات کے خطرے سے پوری طرح آشنا ہیں۔ عراق کےشیعہ اکثریتی علاقوں میں پیر کے روز بھی تشدد کے واقعات جاری رہے۔ جن شہروں سے تشدد کے واقعات کی اطاعات موصول ہوئی ہیں ان میں بغداد، نجف ، دیوانیہ اور بصرہ شامل ہیں۔ تشدد کے واقعات شیعہ رہنما مقتدی الصدر کے حامیوں کی طرف سے مقتدی صدر کے ایک قریبی ساتھی کی گرفتاری اور ان کے ایک اخبار کے بند کئے جانے کے خلاف احتجاج کی وجہ سے بھڑک اٹھے تھے۔ صدر بش نے مقتدی الصدر کے حامیوں کی طرف سے احتجاج کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ جون تک عراق کے عوام کو اقتدار منتقل کرنے کے اپنے منصوبہ پر کاربند رہے گا۔ رپبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں کے چند اہم رہنماوں نے عراق میں اقتدار کی منتقلی کے بعد خانہ جنگی شروع ہوجانے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن ایڈورڈ کینیڈی نے امریکی صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے امریکہ کو ایک اور ویتنام میں دھکیل دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||