بصرہ: گورنر کے دفتر کا محاصرہ ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مقتدیٰ الصدر کے حامیوں نے بصرہ کے گورنر کے دفتر کا محاصرہ ختم کرتے ہوئے خاموش احتجاج کا وعدہ کیا ہے۔ بصرہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق مقتدیٰ الصدر کے حامیوں نے امریکی اتحاد والی قابض فوج کے خلاف خاموشی سے دھرنا دینے اور اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان افراد کا دعویٰ ہے کہ مقتدیٰ الصدر کے نائب شیخ یعقوبی کو امریکی افواج رہا کر دیں۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ برطانوی فوجوں نے گورنر کے دفتر کی طرف پیش رفت کی جس کے بعد گولیوں کی آوازیں بھی سنیں گئیں لیکن فوجیوں کو واپسی کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ امریکی فوجیوں نے ہفتے کے روز شیخ یعقوبی کو گزشتہ برس قتل ہونے والے مذہبی رہنما آیت اللہ عبدل ماجد ال خوئی کی ہلاکت کے سلسلے میں گرفتار کیا ہے۔ اس سے قبل بغداد کے شیعہ آبادی والے ضلع میں مذہبی مسلح افراد کی جانب سے بغاوت کے بعد امریکی گن شپ ہیلی کاپٹروں کو طلب کرکے مظاہرین پر گولیاں چلائی تھیں۔ اسی کارروائی کے دوران سخت گیر شیعہ رہنما مقتدٰی الصدر کے حمایتیوں نے عراق کے کم سے کم چار شہروں میں پرتشدد مظاہرے کیے تھے۔ ان کی ملیشیا نے ملک کے اہم شہروں پر قبضے کی کوشش کی تھی جس کے بارے میں اتحادی قابض فوج کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ادھر فلوجہ میں بھی امریکی فوج نے کارروائی کا آغاز کیا ۔ یہ سنّی اکثریت والا علاقہ ہے جہاں گزشتہ ہفتے چار امریکیوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو مسخ کر دیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||