عراق کی نوجوان قیادت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق پر امریکی قبضے کے بعد عراق کے جن مذہبی رہنماوں کا نام بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں نمایاں طور پر سامنے آیا ہے ان میں مقتدیٰ الصدر سرفہرست ہیں۔ عراق پر امریکی قبضے سے پہلے بین الاقوامی سطح پر مقتدیٰ الصدر کا نام کوئی نہیں جانتا تھا۔ لیکن مارچ دو ہزار تین میں عراق پر حملے کے بعد مقتدیٰ الصدر ایک شدت پسند امریکہ مخالف رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ نجف سے تعلق رکھنے والے مقتدیٰ الصدر نے جون دو ہزار تین میں امریکی قبضے کے خلاف جدوجہد کرنے کے لیے جیش مہدی کے نام سے ایک عسکری تنظیم بھی قائم کی۔ مقتدیٰ الصدر عراق کے سیاسی افق پر سن انیس سو نناوے میں اپنے والد محمد صادق الصدر کے قتل کے بعد نمودار ہوئے۔ تیس سالہ مقتدی الصدر کو ان کے حامی اپنی عمر سے کہیں زیادہ دانشمند رہنما تصور کرتے ہیں جب کہ ان کے مخالفین انھیں ایک جذباتی اور ناتجربہ کار لیڈر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے عراق میں امریکی کی نامزد کردہ گورننگ کونسل کے متبادل ایک حکومت تشکیل دینے کا بھی اعلان کیا تھا۔ مقتدیٰ الصدر نے ایک ہفتے وار رسالے کی بھی اشاعت شروع کی۔ اس رسالے کی اشاعت پر امریکی قبضے کی مخالفت کرنے کی پاداش میں گزشتہ ماہ ساٹھ دن کی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں مذہبی رہنما ہونے کے لیے عمر اور تجربہ بہت ضروری ہیں مقتدیٰ الصدر وہ خوش نصیب ہیں جنہوں نے بہت کم عمری میں یہ مقام حاصل کر لیا ہے۔ امریکی قبضے کے ابتدائی دنوں میں مقتدیٰ الصدر کے حامی بغداد کے مضافاتی علاقوں کا گشت کر کے لوگوں میں خوراک تقسیم کرتے تھے۔ بہت کم عمری ہی میں ان کا نام سیاسی قوت کا ایک استعارہ بن کر سامنے آیا ہے اور بغداد کے علاقے صدام شہر کا نام بدل کر ان کے نام پر صدر شہر رکھ دیا گیا ہے۔ عراق کے معتدل مزاج رہنما آیت اللہ سیستانی کے برعکس مقتدیٰ الصدر عراق کی شیعہ قیادت کو عراق کے سیاسی مستقبل میں اہم کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے رہے ہیں۔ اپریل دوہزار تین میں مقتدیٰ الصدر کے حامیوں پر شیعہ رہمنا عبدالمجید الخوئی کے قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ مقتدی الصدر کے حامیوں کا آیت اللہ سیستانی کے حامیوں کے ساتھ تصادم بھی ہو چکا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||