BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 March, 2004, 09:11 GMT 14:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی اخبارات کا امریکہ پر غصہ

News image
شیخ یاسین
پاکستانی اخبارات نے فلسطینی تنظیم حماس کے بانی اور صدر شیخ احمد یاسین کے قتل کیے جانے پر اسرائیل کی شدید مذمت تو کی ہے لیکن امریکہ کو بھی بالواسطہ طور پر اس واقعہ کا ٹھہرایا ہے۔

پاکستانی اخبارات نے اپنے اداریوں میں اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ کی حمایت ہی سے اسرائیل کو ایسی بزدلانہ اور گھٹیا کارروائی کرنے کا حوصلہ ملا ہے۔

اردو روزنامہ جنگ نے منگل کو اپنے اداریہ بعنوان ’حماس کے قائد شیخ احمد یاسین کی شہادت کا المیہ‘ میں لکھا ہے کہ شیخ احمد یاسین کی شہادت کوئی معمولی واقعہ نہیں اور یہ کہ اب فلسطینی گروہوں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف مزاحمت میں اضافہ حالات کو سنگین تر اور قیام امن کے امکانات کو کمزور تر کرتا چلا جاۓ گا۔

دائیں بازو کے انگریزی اخبار دی نیشن نے آج اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ شیخ یاسین کی اسرائیل کے ہاتھوں ہلاکت کوئی حیران کن بات نہیں ہے کیونکہ اسرائیل نے انہیں اپنا ہدف قرار دے رکھا تھا۔ اخبار لکھتا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی قیادت کی ہیئت اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

دی نیشن کا کہنا ہے کہ ایرئیل شیرون تو یاسر عرفات کو بھی نشانہ بنانا چاہتے تھے اور اقوام متحدہ کی مسودہ قرارداد میں اس کی مخالفت کی گئی لیکن امریکہ نے اس قرارداد کو ویٹو کر کے اسرائیل کی حوصلہ افزائی کی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ شیخ یاسین کو بروز سوموار ہلاک کر دیا گیا۔

اخبار کا کہنا ہے کہ فلسطین کا معاملہ حل کروانا اب امریکی ایجنڈے پر نہیں ہے کیونکہ صدر بش نے اپنے اسٹیٹ آف یونین خطاب میں اس کا ذکر نہیں کیا اور امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے سن دو ہزار چار کے لیے امریکی مقاصد میں اس کو شامل نہیں کیا۔ اخبار کے مطابق اس لیے اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ نے یہ معاملہ اسرائیل پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ جو چاہے ہتھکنڈے آزمائے۔

دی نیشن کا کہنا ہے کہ شیرون اب آزاد ہیں کہ وہ جس شخصیت کو چاہیں قتل کریں اور لوگوں کا قتل بھی عام کریں۔ اخبار سوال اٹھاتا ہے کہ شیرون کی اس پالیسی کا آخر مقصد کیا ہے جس سے فلسطینی لوگوں میں شدت پسندی کے رجحانات میں اضافہ ہو رہے ہیں؟

اخبار کے مطابق کہیں اس کا مقصد یہ تو نہیں کہ اس طرح جو شدت پسندی پیدا ہوتی ہے اس سے اسرائیل کو اپنے قبضے اور فلسطینیوں کے خاتمے کا جواز ملتا ہے۔

انگریزی روزنامہ دی نیوز نے اسرائیلی دہشت گردی کے عنوان سے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ اگر صدر بش واقعتاً دہشت گردی کو تحفظ دینے والی اقوام کو سزا دینے کا عہد کیے ہوۓ ہیں تو انہیں یہ کام اسرائیل سے شروع کرنا چاہیے جس کا وزیراعظم خون کے دھبوں سے آلود دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے اور جو بیروت کے صابرہ اور شتیلہ کیمپوں میں پندرہ ہزار انسانوں کے قتل کا ذمہ دار بھی ہے۔

دی نیوز کا موقف ہے کہ یہ بات کہنا دور از کار نہیں کہ امریکہ کی اسرائیل کے لیے اندھی حمایت اس دہشت گردی کا محرک ہے جس کا امریکہ کو دنیا بھر میں سامنا ہے۔

انگریزی روزنامہ ڈان نے ’شیخ یاسین کا قتل‘ کے عنوان سے ایک اداریہ میں لکھا ہے کہ بیشتر مغربی ممالک نے شیخ یاسین کے قتل کی مذمت کی ہے لیکن امریکہ کا ردعمل خاموشی پر مبنی ہے اور اس نے صرف یہ کہا ہے کہ دونوں فریقین محتاط رہیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ صدر بش کا سکوت پر مبنی ردعمل شاید اس لیے ہے کہ یہ امریکہ میں انتخابات کا سال ہے لیکن انتخابات ہوں یا نہ ہوں امریکہ کی اسرائیل کے لیے حمایت مسلسل اور بے روک ہے جس نے مسٹر ایرئیل شیرون کے توسیع پسندانہ مقاصد کی اتنی حوصلہ افزائی کی ہے کہ اس نے امریکہ کے دیئے ہوۓ امن کے نقشہ راہ کو بھی تباہ کر دیا ہے۔

ڈان کا خیال ہے کہ فوری طور پر خطرہ یہ ہے کہ اسرائیل کی طرف سے یہ پاگل پن کا اقدام خطہ میں تشدد کی نئی لہر پیدا کرے گا جس کے نتائج بعد میں محسوس کیے جائیں گے۔

لبرل انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز نے شیخ یاسین کے قتل کو عراق جنگ سے منسلک کیا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ یہ کوئی راز نہیں ہے کہ اسرائیل کی دلچسپی تھی کہ صدام حسین کو نکالا جاۓ۔

اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ عراق جنگ کا ایک اثر یہ ہوا کہ امریکہ کی توجہ امن کے نقشہ راہ سے ہٹ گئی جو اب مردہ ہو چکا ہے اور شیرون یہی چاہتے تھے۔ اس سے شیرون کو وہ گنجائش میسر آگئی کہ وہ فلسطینیوں کو یکطرفہ طور پر دبا سکے۔

ڈیلی ٹائمز کا خیال ہے کہ اس گھٹیا حرکت کے نتیجہ میں صدر بش کی انتخابات میں کامیابی پر برا اثر پڑ سکتا ہے اور اگر صدر بش کو انصاف سے مطلب نہیں تو کم سے کم اپنے مفاد میں شیرون اور اس کے ساتھیوں کو باز رکھنا چاہیے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد