| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر پر اخباروں کا طنز
کیا سیاروں کے درمیان بھی کوئی بدی کا محور موجود ہے؟ یا مریخ کے حکمرانوں کا بنیاد پرستوں سے کوئی تعلق ہے؟ اور ایسے کتنے سیارے ہیں جن پر امریکہ حملہ کرنے کی سوچ رہا ہے؟ عالمی اخبارات میں امریکی صدر کی طرف سے مریخ پر خلاء باز بھیجنے کے منصوبوں پر طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ فلسطینی اخبار الحیات الجدید نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ مریخ پر حملہ کرنے کی سوچ رہا ہے۔ طنزیہ تبصروں کا یہ سلسلہ عرب ملکوں سے شائع ہونے والے اخبارات تک محدود نہیں بلکے مغربی دنیا اور آسٹریلیا سے شائع ہونے والے اخبارات میں بھی ان منصوبوں کو طنز کا نشانہ بنایا گیاہے۔ آسٹریلیا سے شائع ہونے والے ایک اخبار میں کہا گیا کہ زمین کو مریخ ہر ہجم کے لحاظ سے برتری کے باعث شاید امریکی صدر کو یہ خیال آیا ہو گا کے مریخ پر حملے کیا جانا چاہیے۔ صدر جارج بش مریخ پہ دھاوا بولنے کے لیے جو بھی جواز پیش کریں، یہ بات طے ہے کہ امریکیوں کو فوری طور پر مریخ کا رخ کرنا چاہئے اور اہل آسٹریلیا کو بھی ان کے ہم رکاب رہنا چاہیے کیونکہ دل میں جس کام کی دھن سما جائے اسے ہر صورت میں کر گزرنے کا سودا بنی نوع انسان کا خاصا ہے۔ فرانس کے اخبار لی مونڈ نے بھی طنز کے نشتر چلاتےہوئے کہا کہ امریکی صدر کا اعلان گزشتہ تیس سالوں میں عالمی سطح پر خلائی شعبے میں تعاون کی روایت سے انحراف ہے۔ فرانس کے ایک اور اخبار لبرییشن نے کہا کہ اگر مسٹر بش چاند کی طرف اشارہ کریں تو ان کے ذہن میں چین کے چاند پر خلائی مشن کے منصوبے ہوں گے۔ تاہم اخبار نے کہا کہ یہ ایک بہت اچھا انتخابی نعرہ ہے۔ سوئٹزر لینڈ کا اخبار تو طنز اور تنقید میں سب سے آگے نکل گیا۔ اس نے لکھا کہ مریخ پر انسان بھیجنے کا صدر بش کا اعلان عراق سے توجہ ہٹانے کا ایک حربہ ہے جہاں امریکی صدر کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ آسٹریا کے اخبار نے کہا کہ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||