عراق: 5 امریکیوں سمیت 17 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تازہ اطلاعات کے مطابق بغداد کے شمال میں ہونے والے ایک راکٹ حملے میں پانچ امریکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ خبروں کے مطابق ایک راکٹ تاجی میں واقع امریکی فوجی اڈے پر آ لگا جہاں امریکی فرسٹ کیولری ڈویژن تعینات ہے۔ اس کے علاوہ بغداد کے نواحی علاقے صدر میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں۔ صدر میں آباد بیشتر لوگ شیعہ مسلمان ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بظاہر مارٹر یا راکٹ حملوں کے نتیجے میں کم از کم آٹھ عراقی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ عراق کے معزول صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت میں ایک گاڑی میں نصب بم کے پھٹنے سے چار پولیس اہلکار اور دیگر افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ گاڑی میں پوشیدہ بم امریکی فوجی اڈے کے پاس پھٹا۔ تکریت کی پولیس کے بقول اس واقعہ میں چار پولیس اہلکار ہلاک اور سولہ افراد زخمی ہو گئے ہیں جن میں بارہ کا تعلق پولیس سے ہے۔ تکریت اتحادی فوجوں کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں کا بڑا مرکز رہا ہے۔ امریکی فوجیں بغداد کے قریبی علاقے صدر میں بھی چھڑپوں میں ملوث رہی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج نے صدر کی ایک مسجد پر بھی چھاپہ مارنے کی کوشش کی اور لڑائی کے باعث گاڑیوں اور عمارتوں کو آگ لگ جانے کے سبب ایک عراقی ہلاک اور تین بری طرح جھلس گئے۔ صدر بھی ان علاقوں میں شامل ہے جہاں امریکی فوج کا شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ صدر شیعہ مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر کی طاقت کا مرکز ہے اور ماضی میں یہاں امریکی فوج کو چھپ کر حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||