نجف: پُرامن حل کی امید خفیف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے ترجمان قیص الغزالی نے کہا ہے کہ شہر نجف میں جاری بحران کے پرامن حل کی امید خفیف ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مقتدیٰ الصدر کے حامیوں اور امریکی فوج کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں کوئی سمجھوتہ طے نہیں پایا ہے۔ الغزالی کے مطابق امریکی فوجیں نجف پر حملہ کرنے کی تیاری میں ہیں اور مقتدیٰ الصدر کے حامی اپنے دفاع کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ تاہم امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے شیعوں کی جانب سے نجف پر حملہ نہ کرنے کی اپیلوں کا احترام کیا ہے۔ الصدر اور امریکی فوجی کے درمیان رابط کاری کرانے والے الدعویٰ پارٹی کے سینیئر رکن عدنان علی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فریقین کے درمیان مذاکرات دیگر عناصر کی مداخلت کے سبب روک دیئے گئے تھے۔ اس سے پہلے جاری مذاکرات کے دوران شام سے ملحقہ سرحد کےقریب واقع ’قائم‘ شہر میں بےچینی کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ ’سینٹ لوئس پوسٹ ڈسپیچ‘ نامی روزنامے کی جانب سے امریکی فوج کے ہمراہ آئے ہوئی اخبار نویس کے مطابق قائم شہر میں امریکی فوج اور تقریباً تین سو مسلح افراد کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ صحافی کے بقول چودہ گھنٹے جاری رہنے والی اس لڑائی میں کم از کم پانچ میرین فوجی ہلاک اور اور نو زخمی ہو گئے اور بیس سے زائد عراقیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ تاہم امریکی فوج نے اس امر کی تصدیق نہیں کی ہے۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق تشدد کے ایک اور واقعہ میں تکریت شہر کے قریب ٹینک شکن بارودی سرنگ کے پھٹنے سے ایک فوجی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||