BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 April, 2004, 09:29 GMT 14:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں اغواء شدہ دو اورجاپانی رہا
News image
عراق میں جاپان کے باقی دو یرغمالیوں کو بھی رہا کر دیا گیا ہے۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ ان دو جاپانیوں کو بغداد کی ایک مسجد میں جاپانی وفد اور عراق کے مذہبی علماء کے حوالے کیا گیا ہے۔

جاپان کے ٹیلی ویژن ’این ایچ کے‘ نے بتایا ہے کہ اس نے رہا ہونے والے ایک یرغمالی نوبوٹاکا وتانابے سے، جو انسانی حقوق کے کارکن ہیں، بات کی ہے۔

نوبوٹاکا وتانابے نے جاپانی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں اور ایک فری لانس جاپانی صحافی کو رہا کر دیا گیا ہے اور دونوں کی صحت اچھی ہے۔

ان دونوں جاپانیوں کی رہائی جمعرات کو جاپان کے دیگر تین شہریوں کی رہائی کے بعد عمل میں آئی ہے جنہیں شدت پسندوں نے اغوا کرنے کے بعد یہ دھمکی دی تھی کہ اگر جاپان عراق سے اپنی فوج واپس نہیں بلاتا تو ان تینوں اغوا شدگان کو ہلاک کر دیا جائے گا۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران عراق میں بیس سے زائد غیرملکیوں کو اغوا کیا جا چکا ہے۔

عربی ٹیلیویژن الجزیرہ نے ان تین جاپانیوں کی فلم دکھائی ہے جنہیں عراق میں یرغمال بنا لیا گیا ہے۔
خود کو مجاہدین بریگیڈ کا نام دینے والے اس گروپ کا کہنا ہے کہ اگر جاپان نے تین دن کے اندر اندر عراق سے اپنے فوجی واپس نہ بلائے تو وہ ان یرغمالیوں کو ہلاک کر دے گا۔

جاپان نے اپنے پہلے رد عمل میں کہا ہے کہ اپنے فوجی عراق سے واپس بلانے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں۔ ٹوکیو میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے جاپانی فوجیوں کا اغوا جاپان کے لیے ایک مشکل تجربہ ہے اور یہ کہ اس سے جاپانی وزیر اعظم پر دباؤ بڑھ جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد