عراق میں اغواء شدہ دو اورجاپانی رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں جاپان کے باقی دو یرغمالیوں کو بھی رہا کر دیا گیا ہے۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ ان دو جاپانیوں کو بغداد کی ایک مسجد میں جاپانی وفد اور عراق کے مذہبی علماء کے حوالے کیا گیا ہے۔ جاپان کے ٹیلی ویژن ’این ایچ کے‘ نے بتایا ہے کہ اس نے رہا ہونے والے ایک یرغمالی نوبوٹاکا وتانابے سے، جو انسانی حقوق کے کارکن ہیں، بات کی ہے۔ نوبوٹاکا وتانابے نے جاپانی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں اور ایک فری لانس جاپانی صحافی کو رہا کر دیا گیا ہے اور دونوں کی صحت اچھی ہے۔ ان دونوں جاپانیوں کی رہائی جمعرات کو جاپان کے دیگر تین شہریوں کی رہائی کے بعد عمل میں آئی ہے جنہیں شدت پسندوں نے اغوا کرنے کے بعد یہ دھمکی دی تھی کہ اگر جاپان عراق سے اپنی فوج واپس نہیں بلاتا تو ان تینوں اغوا شدگان کو ہلاک کر دیا جائے گا۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران عراق میں بیس سے زائد غیرملکیوں کو اغوا کیا جا چکا ہے۔ عربی ٹیلیویژن الجزیرہ نے ان تین جاپانیوں کی فلم دکھائی ہے جنہیں عراق میں یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ جاپان نے اپنے پہلے رد عمل میں کہا ہے کہ اپنے فوجی عراق سے واپس بلانے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں۔ ٹوکیو میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے جاپانی فوجیوں کا اغوا جاپان کے لیے ایک مشکل تجربہ ہے اور یہ کہ اس سے جاپانی وزیر اعظم پر دباؤ بڑھ جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||