’ کشیدگی کا حل نقشۂ راہ ہی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی اتحاد نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ختم کرنے کا واحد راستہ وہ بین الاقوامی امن منصوبہ ہی ہے جسے نقشۂ راہ کہا جاتا ہے۔ آئرلینڈ میں یورپی اتحاد کے وزرائے خارجہ کے مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ صدر جارج بش نے اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلاء کے یکطرفہ فیصلے کی حمایت کی ہے، پھر بھی امن کے نقشۂ راہ کی حیثیت یا اہمیت قائم ہے۔ ادھر برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے بھی کہا ہے کہ غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کا اسرائیلی فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے نقشۂ راہ کی طرف لوٹنے کا ایک موقع ہے۔ امریکی صدر جارج بش سےمذاکرات کے بعد بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں ٹونی بلیئر نے کہا کہ امن کا منصوبہ مذاکرات کے ذریعے طے کیا جانے والا حتمی حل نہیں ہے تاہم اس سے بین الاقوامی برادری کو فلسطینی ریاست کے قیام کی شروعات میں مدد ملے گی۔ برطانوی وزیرِ اعظم نے اپنے انٹرویو میں عراق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہاں استحکام سے دنیا بھر کے دہشت گردوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے۔ اسرائیلی منصوبے کے تحت اس کی فوج غزہ سے نکل جائے گی لیکن غربِ اردن میں وہ اپنی کئی بڑی بستیاں قائم رکھے گی۔ یورپی اتحاد کے وزراء کے کہنا ہے کہ اتحاد انیس سو سڑسٹھ کی اس سرحد میں کوئی تبدیلی تسلیم نہیں کرے گی جو چھ دن کی جنگ کے باعث بنی تھی۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کوئی بھی سمجھوتہ ہو اس میں اتفاقِ رائے، انصاف اور حقیقت پسندی کے ساتھ فلسطینی مہاجرین کے اپنی زمین پر واپسی کے حق کا حل ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||