BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 December, 2003, 13:59 GMT 18:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئے منصوبے پر مذاکرات شروع
حماس نے اپنے رہنما کی ہلاکت کے بعد جنگ بندی ختم کردی تھی

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں فلسطینی شدت پسند گرپوں کے درمیان اسرائیل کے ساتھ مشروط جنگ بندی کے لئے مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

یہ مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب امریکہ کے اندر مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لئے ایک غیر سرکاری منصوبے پر حمایت حاصل کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس منصوبے کا مرکزی نکتہ جنگ بندی ہے جس کے تحت رکی ہوئی امن کوششیں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں اور تشدد کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

اسرائیل کے نائب وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا تو ممکن ہے اسرائیل غزہ اور غربِ اردن میں فوجی کارروائیوں میں کمی کر دے۔

مصری حکومت کے زیرِ انتظام فلسطینی گروپوں کے ان مذاکرات میں بارہ ایسے گروپ شریک ہیں جو اسرائیل کے خلاف مسلح جد و جہد میں شامل ہیں۔

مصر کے وزیرِ خارجہ احمد مہر کہتے ہیں کہ امن سمجھوتے کے امکانات روشن ہیں لیکن ان مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسرائیل جنگ بندی کے لئے کتنی جلدی تیار ہوتا ہے۔

تاہم غربِ اردن میں اسرائیل کی جانب سے حالیہ حملوں کے باعث کسی بڑی پیش رفت کا امکان پس منظر میں چلا گیا ہے۔مقبوضہ علاقوں میں ہونے والے ان حملوں میں نو برس کے فلسطینی بچے سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ادھر حماس کے سیاسی دھڑے کے سربراہ نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ماضی میں عارضی طور پر جنگ بندی کا معاہدہ اس لئے ناکام ہو گیا تھا کہ اسرائیل ’جرائم‘ سے باز نہیں آیا۔

گزشتہ سال جون میں امریکی اور فلسطینی قیادت کے دباؤ کے باعث حماس اور اسلامی جہاد نے ہتھیار ایک طرف رکھ دینے پر رضا مندی ظاہر کر دی تھی۔

لیکن حماس نے اس معاہدے کو سات ہفتے بعد اس وقت ختم کر دیا تھا جب اسرائیلی فوج نے حماس کے ایک بانی اسماعیل ابو شناب کو اسرائیلی بس پر ہونے والے خود کش حملے کے بعد جوابی کارروائی میں ہلاک کر دیا تھا۔ بس پر حملے میں اکیس اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے۔

اسرائیل کا کہنا تھا کہ ابو شناب اسرائیل کے خلاف دہشگردی کی سازش کر رہے تھے اور اسرائیل کو اس طرح کی کارروائیاں روکنے کا حق حاصل تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار پال وڈ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت کا اب بھی کم و بیش یہی موقف ہے۔

جمعرات کو اسرائیل کے نائب وزیرِ دفاع نے کہا کہ اگر فلسطینی کسی معاہدے پر تیار ہوتے ہیں تو غالباً اسرائیل اپنی کارراوئی کی شدت میں کمی کر دےگا بشرطیکہ اسرائیل کے خلاف کسی نئی حملے کی تیاری نہ کی جا رہی ہو۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد