| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بستیاں ختم کرنے کی بات پر احتجاج
دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ہزاروں اسرائیلی باشندوں نے تل ابیب میں حکومت کے منصوبے کے خلاف مظاہرہ کیا جس کے تحت غربِ اردن کی کچھ یہودی بستیوں کو ختم کر دیا جائے گا۔ اس حکومتی منصوبے کے تحت جو وزیرِ اعظم ایریئل شیرون نے پیش کیا ہے چند چھوٹی بستیوں کو بھی خالی کرا لیا جائے گا۔ ایریئل شیرون روایتی طور پر یہودی بستیوں کے حامی رہے ہیں۔ اس مظاہرے میں شیرون کابینہ کے کئی ارکان بھی شامل تھے اور اندزوں کے مطابق تقریباً ایک لاکھ افراد حکومت منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کرس مورس نے کہا ہے کہ اس منصوبے کی وجہ سے اسرائیل میں ایک واضح تقسیم نظر آ رہی ہے۔ تا حال ایرئیل شیرون نے صرف یہ تجویز کیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں چند بستیور کو ختم کر دیا جائے لیکن یہودی آباد کار کہتے ہیں کہ ایک دفعہ یہ سلسلہ چل پڑا تو ختم نہیں ہوگا۔ وزیرِ اعظم شیرون کا کہنا ہے کہ فلسیطینیوں کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت کے لئے ضروری ہے کہ کچھ یہودی بستیان ختم کر دی جائیں۔ اسرائیل میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں نے کہا کہ وہ کسی یہودی بستی کو ختم نہیں کرنے دیں گے جبکہ بائیں بازو والے کہتے ہیں کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کی پیشکش مشرقِ وسطیٰ میں حقیقی امن کے فروغ کے لئے کافی نہیں ہے۔ ادھر وزیرِ اعظم شیرون نے کہا ہے کہ وہ شام سے بات چیت کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ کہ شام دہشت گردوں کی سرپرستی سے دستبراد ہو جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||