دھماکے:30 عراقی 7 امریکی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں ہونے والے متعدد دھماکوں اور ایک راکٹ حملے میں سات امریکی اور تیس عراقی ہلاک اور بیالیس عراقی زخمی بتائے جاتے ہیں۔ ان سے دو دھماکے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق عراق کے جنوبی ساحل پر تیل کی تنصیبات کے قریب ہوئے ہیں اور برطانوی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک دھماکہ البقراء کے تیل ٹرمینل کے قریب ہوا ہے۔ تاہم ٹرمینل کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے پانچ امریکی بغداد کے شمال میں تاجی نامی اڈے پر داغے جانے والے راکٹ کے حملے میں ہلاک ہوئے۔ درین اثناء فلوجہ میں جاری مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کی اطلاعات ہیں اور یہ طے پایا ہے کہ شہر میں آتشیں اسلحہ ممنوع ہو گا اور عراقی و امریکی دستے شہر میں مشترکہ گشت کریں گے۔ یہ بھی طے پایا ہے کہ عراقی کسی قسم کا اسلحہ نہیں رکھیں گے اور عراقی رہنما گزشتہ ہفتے طے پانے والی مفاہمت کے مطابق عراقیوں سے بھاری اسلحہ واپس لینا شروع کریں گے۔ خبروں کے مطابق ایک راکٹ تاجی میں واقع امریکی فوجی اڈے پر آ لگا جہاں امریکی فرسٹ کیولری ڈویژن تعینات ہے۔ اس کے علاوہ بغداد کے نواحی علاقے صدر میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں۔ صدر میں آباد بیشتر لوگ شیعہ مسلمان ہیں۔ اس کے علاوہ عراق کے معزول صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت میں چار پولیس اہلکار اور دیگر افراد ایک گاڑی میں نصب بم کے پھٹنے سے زخمی ہوئے۔ بتایا گیا ہے کہ گاڑی میں چھپا کر لگایا گیا بم امریکی فوجی اڈے کے پاس پھٹا۔ تکریت کی پولیس کے بقول اس واقعہ میں سولہ افراد زخمی ہو ئے ہیں جن میں بارہ کا تعلق پولیس سے ہے۔ امریکی فوجیں بغداد کے قریبی علاقے صدر میں بھی چھڑپوں میں ملوث رہی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج نے صدر کی ایک مسجد پر بھی چھاپہ مارنے کی کوشش کی اور لڑائی کے باعث گاڑیوں اور عمارتوں کو آگ لگ جانے کے سبب ایک عراقی ہلاک اور تین بری طرح جھلس گئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||