’عراقی فوج دفاع کے لئے تیار نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی منتظم پال بریمر نے کہا ہے کہ عراق کی سیکیورٹی فورسز جون میں ہونے والے اقتدار کی منتقلی کے منصوبے کے بعد اپنے بل بوتے پر ملک کی حفاظت نہیں کر سکتیں۔ پال بریمر نے کہا کہ شورشیوں کے حالیہ حملوں سے یہ صاف ظاہر ہے کہ عراق کو ابھی بھی سلامتی کے مسائل درپیش ہیں اور ان سے نمٹنے کے لئے اسے بیرونی مدد درکار ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں ایک عراقی بیٹالین نے فلوجہ میں ان عراقیوں سے لڑنے سے انکار کر دیا تھا جنہیں امریکہ شدت پسند یا شورش کرنے والے کہتا ہے۔ عراقی فوجیوں نے کہا کہ ہم نے اپنے ہم وطنوں سے لڑنے کے لئے فوج میں ملازمت نہیں کی۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق عراق میں سلامتی کے خطرے کے اعتراف سے عام امریکی یہ سمجھیں گے کہ عراق میں سب کچھ امریکی ہی کر رہے ہیں۔ دریں اثناء چیئرمین جوائنٹس چیفس آف سٹاف جنرل رچرڈ مائیر نے شام کو خبردار کیا ہے کہ اسے غیر ملکی جنگجوؤں کو اپنے ملک کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دینے سے پہلے اس کے نتائج کا اندازہ لگا لینا چاہیئے۔ یہ تنبیہ اس وقت کی گئی ہے جب شام کی سرحد کے قریب اتحادی فوج اور جنگجوؤں میں شدید لڑائی ہوئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||