لاپتہ امریکی فوجی ’یرغمال‘ ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں شدت پسندوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ہفتے قبل لاپتہ ہونے والا امریکی فوجی ان کی حراست میں ہے۔ عربی ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ سے نشر ہونے والی ایک ویڈیو ٹیپ میں نقاب پوش افراد نے ایک شخص کو دکھایا جو کہ فوجی کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ امریکی فوجی کو یرغمال بنانے کا دعویٰ اس وقت کیا گیا ہے جب کچھ غیر ملکی اغوا شدگان کو رہا کیا جا رہا ہے جبکہ دو اور غیر ملکی شہریوں کو اغوا کیا گیا ہے۔ شام میں پیدا ہونے والے ایک کینیڈین شہری کو رہا کیا گیا ہے جبکہ ڈین مارک اور امریکہ کے دو شہریوں کو اغوا کیا گیا ہے۔ الجزیرہ سے نشر ہونے والی ٹیپ میں کہا گیا کہ یرغمال ہونے والا شخص امریکی ہے اور اس کی مناسب دیکھ بھال ہو رہی ہے۔ ’اس کے ساتھ اسی طرح سلوک کیا جا رہا ہے جس طرح اسلام میں قیدیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اور انکی صحت اچھی ہے۔‘
ٹیپ میں ایک نقاب پوش نے یہ بھی کہا کہ ’ہم نے اسے اس لیے قید کر رکھا ہے کہ اس کے بدلے ان افراد کو رہا کرایا جا سکے جن کو اتحادی فوج نے قید کیا ہوا ہے‘۔ ٹیپ میں دکھائے جانے والے قیدی نے پھر اپنا نام بتایا اور کہا کہ وہ کیتھ میتھیو ہیں اور ان کا دس ماہ کا ایک بچہ ہے۔ ’میں عراق کو آزاد کرنے آیا تھا۔ لیکن میں آنے کے لئے بالکل راضی نہیں تھا، کیونکہ میں اپنے بچے کے پاس رہنا چاہتا تھا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||