BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 January, 2004, 19:46 GMT 00:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیعہ اکثریت کے مطالبے پر غور
براہ راست انتخاب کا مطالبہ عراق میں شیعوں کی طرف سے کیا گیا ہے
براہ راست انتخاب کا مطالبہ عراق میں شیعوں کی طرف سے کیا گیا ہے

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ عراق میں اقتدار کی منتقلی کے منصوبوں کو اکثریتی شیعہ فرقے کی مخالفت کے پیش نظر تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔

عراق میں امریکی انتظامیہ کے سربراہ پال بریمر نے امریکی صدر کی جارج بش سے ملاقات کے بعد کہا کہ شعیوں کے اعتراضات کو دور کیا جاسکتا ہے۔

بریمر اور بش کی ملاقات عراق اکثریتی شیعہ فرقے کے رہنما آیت اللہ سیستانی کی طرف سے براہ راست انتخابات کرانے کے مطالبے کے بعد عمل میں آئی۔

پال بریمر نے کہا کہ وہ آیت اللہ سیستانی کی بڑی قدر کرتے ہیں اور ان کے ساتھ بہت ساری باتوں پر اتفاق ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن شیعہ فرقے کے اعتراضات دور کرنے کے لیے اپنے منصوبے میں رد و بدل کر سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ مشکل نظر آتا ہے کہ اقتدار کی منتقلی سے پہلے براہِ راست انتخابات ہو سکیں۔

حکام کے مطابق صدر بش اقتدارکی منقتلی کے لیے علاقائی اجلاسوں کے ذریعے آئندہ عراقی پارلیمنٹ کے ارکان کے انتخاب کے طریقے کار میں ردوبدل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کیا یہ اقدام شیعہ اکثریتی فرقے کو مطمئن کرنے کے لیے کافی ہوں گے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر صدر بش مقررہ ڈیڈ لائن تک عراق میں اقتدار کی منتقلی میں کامیاب نہ ہو پائے تو اس کا اثر نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات پر پڑ سکتا ہے جس میں جارج بش دوبارہ امریکی صدر منتخب ہونے کی کوشش کریں گے۔

پال بریمر نے کہا ہے کہ وہ پیر کو اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان سے نیو یارک میں ملاقات کریں گے تاکہ اقتدار کی منتقلی میں اقوامِ متحدہ کے کردار کے بارے میں بات کر سکیں۔

دریں اثنا ترکی نے کہا ہے کہ اگر عراق میں لسانی بنیادوں پر فیڈریش بنائی گئی تو عراق میں مزید تباہی پھیلے گی۔

ترکی کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف نے کہا ہے کہ اقتدار کی منقتلی کے بعد اگر عراقیوں نے فیڈرل طرز کا نظام نہیں اپنایا تو بہتر ہوگا کہ یہ جغرفیائی بنیادوں پر ہو۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اٹھارہ صوبوں کی بنیاد پر اگر فیڈرل نظام بنایا جائے تو یہ سب سے زیادہ مستحکم نظام ہو گا۔

کرودوں کی طرف سے شمالی عراق میں پائے جانے والے تیل کے ذخائر کے بارے میں مطالبات کی بلاواستہ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل پر مجموعی حق ہونا چاہئے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد