اقوام متحدہ کی نئی قرارداد پر زور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ وہ عراق میں تیس جون تک اقتدار کی منتقلی کے لئے اقوام متحدہ کی نئی قرارداد پر زور دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل کوفی عنان سے نیویارک میں ملاقات کے بعد بلیئر نے کہا ہے کہ عراق کے بارے میں بین الاقوامی برادری کا مقصد مشترکہ ہے۔ کوفی عنان سے یہ مذاکرات برطانوی وزیراعظم نے صدر بش سے ملاقات سے قبل کئے ہیں۔ ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ عراق میں موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایک نئی قرارداد کی ضرورت ہے۔ صدام حکومت کے خاتمے کے ایک برس بعد بھی اتحادی فوجیوں کو عراقی شورش کا سامنا ہے جو روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکہ کا حد سے زیادہ طاقت کا استعمال عراقیوں کو غیر ملکی افواج کے خلاف متحد کررہا ہے۔ امریکی وزیر دفاع ڈونالڈ رمز فیلڈ نے اعلان کیا ہے کہ عراق میں متعین بیس ہزار امریکی فوجیوں کے قیام کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ صدر بش کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور بش اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے لخدر براہیمی کا انتظار کررہے ہیں تاکہ وہ اس تجویز کے ساتھ عراق سے واپس آجائیں جن پر وہ وہاں موجود حکام سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ دریں اثناء امریکہ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ عراق کے مستقبل سے متعلق اقوام متحدہ کے منصوبے سے مطمئن ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے لخدر براہیمی کی تجاویز وزن رکھتی ہیں۔ ابھی براہیمی کی تجاویز پر غور کیا جارہا ہے لیکن توقع ہے کہ ان کی تجویز یہی ہوگی کہ تیس جون کو اقتدار کی منتقلی کے بعد عراق کی حکمراں کونسل کث ایک عبوری حکومت سے تبدیل کردیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||