عراقی قیدیوں سے امریکی فوجیوں کی بدسلوکی کی تصاویر شائع ہونے پر بی بی سی عربِک سروِس کو عراقیوں کی جانب سے ملنے والے کچھ خطوط حسب ذیل ہیں:
زینب، عراق جارج بش امریکہ کی اچھائی ظاہر کرنا چاہتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم نے امریکہ کا ڈارک سائیڈ دیکھا ہے۔ ہم معذرت نہیں چاہتے اور نہ ہی وضاحت۔ ہم چاہتے کہ جن مجرموں نے یہ سب کچھ کیا ہے انہیں فوری طور پر سزا دی جائے۔
علی کمال، بغداد ایک عراقی کی حیثیت سے مجھے ابو غریب میں قیدیوں کے ٹارچر کی تصاویر دیکھ کر کوئی تعجب نہیں ہوا۔ یہ ہمارے لئے نیا نہیں ہے۔ اب فرق صرف یہ ہے کہ ہم اس کے بارے میں بات کرسکتے ہیں اور اس کی مذمت کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ اب بھی ہمارے ساتھ ہورہا ہے۔
احمد طلال، بصرہ میرے خیال میں امریکی انتظامیہ اپنے فوجیوں کی غلطیوں کے ازالے کے لئے ایک دوسری غلطی کررہی ہے۔ عراق میں امریکی فوجیوں کی بدسلوکی کی تصاویر کی اشاعت کے بعد ہونے والے شدید ردعمل کی وجہ سے گرفتار شدہ افراد کو چھوڑا جارہا ہے۔ لیکن کوئی یہ سوال نہیں اٹھا رہا ہے کہ کسے رہا کیا جارہا ہے؟ کیا وہ چور ہیں؟ ڈاکو ہیں؟ دہشت گرد ہیں؟ امریکی ایک اور بڑا مسئلہ پیدا کررہے ہیں۔ وہ ملک کو چلانے میں ناکامیاب رہے ہیں اور اسے ایک نئے ویت نام یا صومالیہ میں تبدیل کررہے ہیں۔
احمد الغبن، الاحمدیہ، بغداد میں نے پہلی بار امریکی فوجیوں کو بغداد کے ضلع الطالبیہ میں گزشتہ سال گیارہ اپریل کو دیکھا۔ میں اتنے بڑے سوپر پاور کے فوجیوں کو دیکھنے کی جستجو میں تھا۔ میں نے سنا کہ فوجی ہمارے پڑوس میں اس وقت آئے جب انہیں مقامی لوگوں نے بتایا کہ سابق حکومت کے لوگوں نے سوئمنگ پول (الصفا سوئمنگ پول) میں ہتھیار چھپا رکھے ہیں۔ میں نےفوجیوں کو دیکھا۔ انہیں عراقیوں نے گھیر لیا تھا۔ میں اپنے بھائی کے ساتھ ان فوجیوں کے قریب گیا اور اپنا تعارف کرایا۔ لوگ ناچ رہے تھے، گارہے تھے، اور ان ’آزاد کرانے والوں‘ کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ کچھ لوگوں نے انہیں کھانا دیا، کچھ لوگوں نے ان فوجیوں کو اپنے گھر بلایا، کچھ لوگ انہیں خوشی سے چوم رہے تھے۔ فوجیوں کے آنے کے ایک گھنٹے بعد پاس ہی ایک دھماکہ ہوا۔ امریکی فوجیوں نے وہ ہر کچھ کیا جو وہ ہمیں تحفظ فراہم کرنے کے لئے کرسکتے تھے۔ انہوں نے جگہ خالی کرایا، ہماری مدد کی تاکہ ہم اپنے بچوں کو محفوظ مقام تک پہنچا سکیں۔ وہ ہم سے کہتے رہے: ’’ڈرو نہیں۔ حالات ہمارے کنٹرول میں ہیں۔ اوکے، اب تم گھر جاسکتے ہو۔‘‘ ایک سال بعد میں خود سے پوچھتا ہوں: ’’یہ اچھے خیالات اور رویے کہاں چلے گئے؟ یہ سب کچھ کیوں بدل گیا؟ ہم لوگوں نے اس موقع کا فائدہ اٹھاکر ایک نئے عراق کی تعمیر کیوں نہیں کی؟ یہ تشدد اور خون خرابہ کیوں؟‘‘
محمد عباسی، بغداد امریکی اور برطانوی رہنماؤں سے جس طرح کی ہمیں معذرت ملی اور ’فوجیوں کے رویے پر تعجب‘ جیسے جو شرمناک بیانات دیے گئے ہیں وہ سب بین الاقوامی سطح پر پیدا ہونیوالے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ہیں۔ یہ شرمناک جرم جو ہوئی ہے اس کے لئے کافی نہیں ہے۔ غلط بیانی کرکے عراق پر حملہ کیا گیا تھا۔ اور قابض لوگ ان لوگوں کے ساتھ تباہ کن فورس کا استعمال کرنا چاہتے ہیں جو عراق پر قبضے کے مخالف ہیں۔
سرمد زینی، بغداد میں ایک ڈاکٹر ہوں۔ میں نے چار سال قبل بغداد یونیورسٹی سے گریجویٹ کی ڈِگری حاصل کی جہاں میں اب ایک اسسٹنٹ لیکچرار کی حیثیت سے کام کرتا ہوں۔ میں صدام حسین کے دور میں ڈاکٹروں کے ساتھ ہونے والے سلوک اور اب امریکی قبضے کے دوران ہونے والے سلوک کے بارے میں لکھنا چاہتا ہوں۔ صدام حسین کے دور میں ایک میڈیکل گریجویٹ کا مستقبل تاریک تھا۔ گریجویشن کے دوسال بعد ڈاکٹروں کو سرکاری اسپتالوں میں تین ڈالر فی ماہ کے حساب سے کام کرنا پڑتا تھا۔ اس آمدنی کا کچھ حصہ وزارت دفاع اور حکومت کے دیگر منصوبوں کے لئے چلا جاتا تھا۔ اس کے بعد ہمیں اٹھارہ ماہ ملٹری سروِس کرنی پڑتی تھی، اس دوران بھی ہمیں تین ڈالر ماہانہ آمدنی ملتی تھی۔ وہ گریجویٹ جو امیر تھے اور ملٹری سروِس نہیں کرنا چاہتے تھے انہیں سات سو ڈالر کے عوض چھٹکارا مل جاتا تھا۔ پوسٹ گریجویٹ کی تعلیم کے لئے بیرون ملک جانا غیرقانونی تھا جس کی سزا سات سال کی قید تھی۔ ایسا کرنا کافی خطرناک تھا۔ ایک سال ساڑھے تین سو ڈاکٹروں نے گریجویشن کیا جن میں سے تین سو عراق سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ جو لوگ ملک میں رہے اور ملٹری سروس کی انہیں دیگر مشکلات کا سامنا رہا۔ یونیورسٹیوں میں کرپشن کی وجہ سے پوسٹ گریجویٹ کی تعلیم وہی لوگ حاصل کرسکتے تھے جن کی اعلی حکام تک رسائی تھی۔ جب صدام حسین کو اقتدار سے امریکیوں نے سبکدوش کردیا تو ڈاکٹروں کے لئے امید کی ایک کرن جاگی۔ ان کی آمدنی بڑھ گئی، اور کچھ لوگ اعلی تعلیم کے لئے بیرون ملک بھی جانے لگے۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی ہوا کہ افراتفری میں اسپتالوں اور میڈیکل کالج کے وسائل کو لوٹ لیا گیا۔ ایسا دیگر عوامی اداروں کے ساتھ بھی ہوا، سوائے وزارت پٹرولیم کے۔ امریکی فوجیوں نے لوٹ مار کو روکنے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ بدقسمتی سے عراق پر حملے کے ایک سال بعد حالات خراب تر ہوگئے ہیں۔ کنبہ پروری پھر سے پیدا ہوگئی۔ ڈاکٹروں کو کوئی نہیں پوچھتا، ان کی آمدنی اس بات پر منحصر کرتی ہے کہ انہوں نے پبلِک سروِس میں کتنے سال لگائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دفتر میں کام کرنے والا کلرک ڈاکٹر سے زیادہ کماتا ہے۔ مختصر یہ کہ ہمیں لگتا ہے کہ وہ پھر سے وہیں پہپنچ گئے ہیں جہاں سے چلے تھے۔
اے اے، عراق وائٹ ہاؤس کے رہنما ہم سے چاہتے ہیں کہ ان کے فوجیوں نے جو کچھ کیا اس کے بارے میں ہم ان کا بہانہ قبول کرلیں۔ وہ یہ بھول رہے ہیں کہ فلوجہ میں امریکیوں کے سفاکانہ قتل کے بعد ہم نے جو معذرت چاہی اسے انہوں نے قبول نہیں کیا۔
|