عراق میں انتقالِ اقتدار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی انتظامیہ نے پیر کے روز بغداد میں منعقد ہونے والی ایک سادہ سی تقریب میں ملک کی عبوری حکومت کو تیس جون کی معینہ تاریخ سے دو روز قبل ہی اقتدار منتقل کر دیا ہے۔ تقریب میں موجود عبوری عراقی وزیرِ اعظم نے اسے ایک تاریخی دن قرار دیا۔ اس تقریب میں شرکت کرنے کے بعد امریکی منتظم پال بریمر نے عراق چھوڑ دیا ہے اور وہ بغداد ایئر پورٹ سے کسی نامعلوم مقام کی طرف پرواز کر گئے ہیں۔ اس کی تصدیق استنبول میں ناٹو کے اجلاس کے آغاز پر عراقی وزیرِ خارجہ نے کی۔ کہا جا رہا ہے کہ دو دن پہلے اقتدار کی منتقلی کا مقصد گوریلا حملوں کا ناکام بنانا ہے۔ آپ کی نظر میں عراق میں نئی عبوری حکومت کو کس حد تک اختیارات حاصل ہوں گے؟ کیا اس سے ملک میں امن و آمان اور سیاسی استحکام آئے گا؟ کیا اقتدار کی معینہ تاریخ سے پہلے منتقلی کا کوئی فائدہ ہوگا؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں جاوید جمال الدین، ممبئی: نئی حکومت کو سب سے پہلے سب کو اعتماد میں لینا ہو گا۔ عراق کے موجودہ وزیراعظم کو خودمختار سربراہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ عراق میں جب تک امریکہ کی فوج موجود ہے اس وقت تک وہاں امن و استحکام بحال ہونا مشکل ہے۔ عزالدین، برطانیہ:بہ خدا یہ حکومت کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ امریکہ ملوث ہے۔ پوری دنیا میں جہاں کہیں امریکہ ملوث ہے وہاں امن ناممکن ہے۔ جاوید، جاپان:امن تو ناممکن ہے کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو اقتدار کی لالچ میں یہ سب ڈھونگ رچا رہے ہیں۔ جب گھر کے آدمی ہی چور ہوں تو شکایت کس سے کریں۔ اگر عراق میں امن ہوگا تو جو لوگ اس وقت حکمران بنے بیٹھے ہیں ان کی حکمرانی تو ختم ہو جائےگی۔ مر تو عام عراقی رہے ہیں۔
فیصل، پاکستان:کسی چیز کو حاصل کرنا مشکل نہیں، اس پر قائم رہنا بڑی بات ہوتی ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہوگا۔ حماد صدیق، برطانیہ:جب تک امریکی فوج موجود رہےگی امن قائم نہیں ہو سکتا۔ سلام ہے عراقیوں کو جنہوں نے دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو ناکوں چنے چبوا دئیے۔ عمران شاہد، برطانیہ:امریکہ اس حکومت کے ذریعہ ایک تیر سے دو نشانے کرنا چاہتا ہے۔ ایک طرف تو وہ دنیا کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ اس نے عراق کی حکومت خود عراقیوں کے ہاتھ میں دے دی ہے جبکہ دوسری طرف وہ اس کٹھ پتلی حکومت کے ذریعہ اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اقوام متحدہ کا اعتماد حاصل کئے بغیر عراق میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ عاطف مرزا، اوسٹریلیا:تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے لےکر آزادی تک کے اس سفر میں نہ جانے کتنے عراقیوں نے اپنی جانیں کھو دیں۔ امریکہ کے خواب کو پورا کرنے میں جو لوگ مارے گئے وہ بھی ستمبر 11 کو مارے جانے والوں کی طرح دہشت گردی کا شکار تھے۔ عراق کی حالت آنے والے دنوں میں بہتر ہوگی۔ علی نقوی، اوسٹریلیا: اقتدار کی منتقلی سے غلطیاں نہیں سدھاری جا سکتیں۔ امریکہ اور برطانیہ کا اٹھایا ہوا ہر قدم غلط ہے اور صدام پر ایک منصفانہ مقدمہ نہیں چلایا جائےگا۔ ممتاز شاہ، پاکستان:اقتدار کی منتقلی صرف ایک دکھاوا ہے۔ جب تک امریکی فوج عراق میں موجود ہے تب تک عراقی غلام ہی رہیں گے۔ نئی حکومت کا انتخاب عراقیوں نے نہیں امریکہ نے کیا ہے۔ معظم، جنوبی کوریہ: کچھ بھی نہیں ہوگا کیونکہ امریکہ اب بھی وہاں ہے اور جس کی لاٹھی اسی کی بھینس۔ نئی حکومت صرف ایک کٹھ پتلی ہو گی۔ اصل بادشاہ تو امریکہ ہے۔ شاہدہ اکرم، متحدہ عرب امارات: ابھی بھی عراقیوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور آگے بھی کوئی خاص امید نظر نہیں آتی۔ کٹھ پتلیوں کی اپنی کوئی شناخت یا شخصیت نہیں ہوتی۔ نئی عبوری حکومت بھی ایسی ہی حکومت ہے۔ امریکہ جگہ جگہ اپنے پٹھو بٹھا رہا ہے اور کوئی کچھ نہیں کر پا رہا۔ سید حماد رضا بخاری، پاکستان: یہ سال کا سب سے بڑا مذاق ہے۔ اشرف محمود، لاہور: عراقی عبوری حکومت کو اتنے ہی اختیارات حاصل ہوں گے جتنے افغانستان میں حامد کرزئی اور پاکستان میں شب و روز بدلتے وزیراعظموں کی حکومتوں کو حاصل ہیں۔ پاکستان، عراق اور افغانستان جیسے ممالک کے علاوہ دیگر مسلم ملکوں پر بھی ایسے رہنماؤں کی حکومت قائم ہے جن کی جڑیں عوام میں نہیں ہیں۔ یہ مصنوعی قیادتیں بالواسطہ یا بلاواسطہ وہاں کے استحصالی گروہوں اور امریکہ کی پروردہ ہیں۔ کسی بھی ملک میں امن و امان اور سیاسی استحکام حقیقی عوامی قیادت ہی فراہم کر سکتی ہے۔ عراق میں عوامی قیادت صرف اسی وقت سامنے آ سکتی ہے جب غیرملکی قابض افواج وہاں سے نکل جائیں اور عراق پوری طرح خودمختار ہو جائے۔ اگر یہ نہیں ہوتا تو باقی سب کہانیاں ہیں۔
محمد شعیب، دبئی: صدر بش کی طرف سے عراق میں انتقالِ اقتدار اور عراق میں یہ کہہ کر گھسنا کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں، سراسر امریکی صدر کی وحشی اور شیطانی حرکت ہے۔ باپ کی نافرمانی کا بدلہ صدام حسین سے لینے کی خاطر صدر بش نے لاکھوں عراقیوں کو قتل کروا دیا۔ اور اب جب ان کا غصہ تھوڑا ٹھنڈا ہوا ہے تو وہ اقتدار عراقی عوام کے حوالے کرنا چاہتے ہیں لیکن اس میں بھی انہوں نے اپنا نمائندہ ہی بٹھایا ہے۔ انتقال اقتدار محض ایک پتلی تماشا ہے جس کی ڈور صدر بش ہی کے ہاتھ میں ہو گی۔ اس قدر تباہی برپا کرنے کے بعد بش یہ ہرگز نہیں چاہیں گے کہ عراق میں کسی نافرمان رہنما کی حکومت قائم ہو کیونکہ یہ ساری بربادی صدر بش نے عراق میں فرمانبردار حکمران مقرر کرنے کے لیے ہی تو پھیلائی ہے۔ خدا عراقیوں کو بش جیسے ظالم انسانوں سے محفوظ رکھے اور عراقیوں میں اس قدر حوصلہ پیدا کرے کہ عالم کفر کو عراق کی طرف بری کی طرف بری نظر ڈالنا بھی نصیب نہ ہو۔ ہارون رشید، سیالکوٹ: عراق میں جب تک صدام کے حامی موجود ہیں اس وقت تک امن قائم کرنا مشکل نظر آتا ہے کیونکہ یہ عناصر حکومت کو ناکام کرنا چاہیں گے۔ یاسر، میرپور: ’عراق میں انتقالِ اقتدار‘۔۔۔ ہا ہا ہا ہا۔۔۔ یہ نہ صرف عراقیوں بلکہ پوری دنیا کے ساتھ بہت بڑا مذاق ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے بھی باعث شرمندگی ہے۔ احمد صدیقی،کراچی: جب تک سرزمین عراق پر امریکی موجود ہیں اس وقت تک عبوری حکومت کو عراق کی آزاد حکومت تسلیم کیسے کیا جا سکتا ہے؟ شیریار خان، سنگاپور: عراق کی نئی حکومت کے پاس وہی اختیارات ہوں گے جو قابض فوج نے اسے دیئے ہیں۔ لیکن اصل جمہوری اختیارات انتخابات کے بعد ہی ملیں گے جب عراقی عوام خالص جمہوری طریقے سے اپنے رہنماؤں کا انتخاب کریں گے۔ عراق میں قیام امن ایک بتدریج عمل کے ذریعے سے ہی ممکن ہو سکے گا۔ عراقی عوام کو پہلے یہ احساس دلانا ہو گا کہ ملکی معاملات میں کسی غیرملکی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ محمد کاشف، بریڈفورڈ: عراقی میں استحکام اسی وقت آئے گا جب ملک کا کنٹرول پہلے اقوام متحدہ کے پاس جائے جو وہاں کثیر ملکی فوج کے ذریعے امن قائم کرے۔ اس کے بعد عراق میں عبوری حکومت قائم کر کے انتخابات کرائے جائیں۔ ایک قابض فوج کی جانب سے قائم کردہ حکومت کو عراق کے باشندے جب تسلیم ہی نہیں کریں گے تو امن و استحکام کا سوال بےمعنی ہو جائے گا۔ محمد عمران، چکوال: یہ بات سب جانتے ہیں کہ عراق کے بارے میں فیصلہ کون کرے گا۔ نئی عراقی حکومت محض ایک اداکار کا کردار ادا کرے گی اور تمام اہم فیصلے واشنگٹن کی جانب سے کیے جائیں گے۔ عبدالغفور، ٹورانٹو: عراق میں موجود امریکی فوج کی مخالفت بڑھنے کے ساتھ امریکہ پر اس دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ وہ عراق سے جلد از جلد نکل جائے۔ انتقال اقتدار کا عمل عراق کو جمہوری ملک نہیں بنا سکے گا کیونکہ اصل میں عراق کو ایسے اداروں کی ضرورت ہے قانون کی بالادستی کے علاوہ جمہوریت کے قیام کو بھی یقینی بنا سکیں۔ لیکن اگر مؤثر ادارووں کا قیام ممکن نہ ہوا تو غیر جمہوری انتہا پسند ایک بار پھر زور میں آ جائیں گے۔ میری رائے میں عراقی حکومت ’ آؤٹ سائیڈرز‘ یعنی غیر ملکی قابضوں کی ہی ایک شکل ہے۔ عبدل عزیز احمد، سعودی عرب: عراق میں اقتدار کی منتقلی امریکہ کے نیک ارادوں کا ثبوت ہے۔ بد قسمتی سے اس پہلو پر عربی میڈیا نے خاص توجہ نہیں دی ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ اقتدار کی منتقلی کے بعد دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ ریاض ہاشم، کینیڈا: میرے خیال میں یہ عراق کے حفاظت کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ اللہ کرے جمہوری اور آزاد عراق کی عمر بہت لمبی ہو۔ ہئیدر، بغداد: میرے خیال میں اقتدار کی منتقلی سے ملک کی حفاظت میں اضافہ ہوگا۔ مگر شاید کچھ مشکلیں بھی پیش آئیں گی۔ کچھ دہشت گردوں کا ارادہ غیر قانونی طور پر عراق آکر یہاں کے لوگوں دلوں میں دہشت پیدا کرنا ہے۔ اس سے نئی حکومت کو دشواری ہو سکتی ہے۔ حصام مناف، بغداد: میرے خیال میں عراقی حکومت کو کئی مشکلوں کا سامنہ کرنا پڑےگا، جیسے کہ بے روزگاری۔ میرا خیال ہے کہ اس طرح کے مسائل دہشت گردی سے زیادہ سنگین اور خطرناک ہیں۔ واجد علی، برمنگھم، برطانیہ: امریکہ نے ایسی کوئی مضبوط بنیاد نہیں مہیا کی جس پر عراقی جمہوریت کی تعمیر کی جا سکے بلکہ بش انتظامیہ نے اندرونی طور پر سیاسی فائدے حاصل کرنے کے لئے ایک عارضی پالیسی تشکیل دی ہے کیونکہ جلد ہی امریکہ میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہ طوفان سے پہلے آنے والی خاموشی ہے۔ عراق انقلاب سے پہلے کے عالم ہے اور یہ دلدل مزید گہری ہوگی۔
حیدر علی پیروانی، ڈیون، انگلینڈ: پچھلی ایک صدی کے زیادہ تر عرصے میں عراق کبھی بھی ایک مستحکم مملکت نہیں رہا۔ اس میں کئی طرح کی تقسیمیں ہیں اور ایک دوسرے کے دشمن سردار بھرے ہیں۔ اس کا جلد از جلد کوئی نہ کوئی حل ڈھونڈھنا ہوگا۔ محمد، نجف، عراق: آج وہ دن ہے جس کا میں پیدا ہونے کے بعد سے انتظار کرتا رہا ہوں۔ آج کے بعد دہشت گردوں اور آزادی کے لئے لڑنے والوں کے درمیان فرق ہمیشہ کے لئے واضح ہوجائے گا۔ اب عراق آزاد اور خود مختار ہے اس لئے اب یہاں کسی لڑائی اور دہشت گردی کی ضرورت نہیں ہے۔ جعفر بدینی، نوشکی، بلوچستان، پاکستان: میرے خیال میں امریکہ ایک دفعہ پھر بے وقوفی کر رہا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس سے عراق میں امن ہوگا مگر عراق کی عوام اس وقت تک جہاد جاری رکھے گی جب تک عراق کی سر زمین پر ایک بھی امریکی فوجی ہے۔ مبشر سید، ماڈل ٹاؤن، پاکستان: امریکہ جس طرح ساری دنیا میں اپنی طاقت کا بے پناہ استعمال کر رہا ہے، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ نئی حکومت بھی عراقیوں کے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکتی کیونکہ یہ امریکہ نواز ہے۔ جب تک امریکہ اپنی فوج عراق سے نہیں نکالے گا تب تک مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ آدم میرانی، اربیل، عراق: میں آج اپنے تمام عراقی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں اور میرا ان سب لوگوں پر ہنسنے کوو دل کر رہا ہے جو سمجھتے تھے کہ یہ کبھی نہیں ہوگا یا اس میں دیر ہوگی۔ دو دن پہلے سے اچھا کیا ہوگا۔ پھر ان تمام دہشت گردوں کو جو تیس کو بم دھماکے کرنے والے تھے، پھر سے سوچنا پڑے گا۔ میں بہت خوش ہوں کہ یہ ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب سب ٹھیک ہوجائے گا۔ سعید سلطان عباسی، دادوسندھ، پاکستان: عراقی عوام کا موڈ تضادات سے بھرا ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگ محسوس کریں گے کہ ایک آمر سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارا ملا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان میں حملہ آوروں کے گھمنڈ کے خلاف ایک دبا ہوا غصہ بھی بھرا ہے۔ سامراجی اپنی فتح کا لمحاتی جشن منا لیں لیکن یہ دیرپا ثابت نہ ہوگا۔ صرف عراق کے لئے ہی نہیں بلکہ امریکہ، برطانیہ اور ان دوسرے ممالک کے عوام کے لئے بھی جنہوں نے خود کو اس دلدل میں پھنسا لیا ہے۔ عراق میں اقتدار کی منتقلی ایک نیا امریکی سامراجی منصوبہ ہے جس میں وہاں کے عوام کا حکمرانوں کے ہاتھوں استحصال کروانا ہے۔ حسین منصور، حیدرآباد، پاکستان: عراق میں اقردار کی منتقلی ان مسائل کا حل نہیں ہے جن کی واہ سے عراق اب خانہ جنگی سے دوچار ہے۔ اتحادیوں کو ویسے بھی عراق چھوڑنا تھا لیکن ان کا اصل منصوبہ عراق میں تیل کے ذخائر پر اپنے چوکیدار بٹھانا تھا جس کا منصوبہ انیس سو نوّے میں ہی بنا لیا گیا تھا۔ اقتدار کی منتقلی سے بڑھتی ہوئی خانہ جنگی کم نہیں ہوسکتی کیونکہ عراق میں بھی اب فرقہ وارانہ فسادات شروع ہونے والے ہیں۔ فیصل، دوبئی، متحدہ عرب امارات: امریکی اس کی منصوبہ بندی بہت دنوں سے کر رہے تھے۔ عراق میں ہونے والی پیش قدمی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ امید ہے کہ اب سکون ہوجائے گا۔ بلال خان، راوالپنڈی، پاکستان: شکل چاہے جو بھی ہو، عراق میں اصل قبضہ تو امریکہ کا ہی رہے گا۔ اقتدار کی منتقلی تو صرف ایک ڈھونگ ہے۔ شباب خان، پشاور، پاکستان: جی ہاں، میں نئی عراقی حکومت کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ الزرقاوی کو جلد از جلد پکڑا جانا چاہئے۔ اس طرح کے انتہا پسندوں کو سعودی اور یقیناً امریکی حمایت حاصل رہی ہے لیکن یہ اب دنیا میں امن کے لئے حقیقی خطرہ بن چکے ہیں۔ انشاءاللہ عراق اگلے برس کے انتخابات کے بعد ترقی کی شاہراہ پر ہوگا۔
اختر نواز، لاہور، پاکستان: تصحیح فرمالیں، یہ انتقال نہیں، انتقالِ پرملال تھا اور میرا یقین ہے کہ یہ برسی تک بھی نہیں جائے گا۔ اس کی زیادہ سے زیادہ عمر چالیسویں تک ہے۔ قادر صمد، برطانیہ: یہ جمہوریت کے لئے ایک تاریخی دن ہے۔ اب آزادی اور پینتیس سالہ آمریت کے خاتمے کا وقت ہے۔ خلیل آخون، بہاول نگر، پاکستان: کھسیانی بلی کھمبا ناچے۔ یہ تو سب کو ہی معلوم ہے کہ اقتدار منتقل ہو کر بھی امریکہ کے پاس ہی ہے۔ باقی دنیا میں دوسرے ممالک کے حکمرانوں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر امریکہ چلا رہا ہے لیکن یہاں تو وہ خود ملوث ہے۔ اب جان چھوٹنے کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ مجید، اسلام آباد، پاکستان: عراق کی حکومت افغانستان کی حکومت کی نقل ہوگی۔ جیسے افغانستان میں بہت بدعنوانی ہے، امید ہے کہ عراق میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ یہ امریکہ کی تخلیق کردہ حکومت ہے نہ کہ عراقی عوام کی منتخب کردہ۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ زیادہ دیر رہے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||