BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 January, 2005, 12:28 GMT 17:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں کب کیا ہوا؟
نجف
1920: عراق کو برطانوی مینڈیٹ کے تحت کر دیئے جانے کا اعلان ہوتا ہے۔

1921: مکہ کے شریف فیصل بن حسین بن علی عراق کے پہلے بادشاہ بنائے جاتے ہیں۔

1932: عراق ایک آزاد ریاست بنتا ہے۔

1958: ملک میں ایک فوجی بغاوت کے ذریعے بادشاہت کا خاتمہ ہوتا ہے۔ بغاوت کی رہنمائی بریگیڈ یئر عبدالکریم قاسم اور ان کے ساتھی کرنل عبدالسلام محمد عارف کرتے ہیں اور عراق ایک جمہوریہ بنتا ہے جس کے وزیراعظم فوجی رہنما بریگیڈ یئر عبدالکریم قاسم بنتے ہیں۔

1963: عرب سوشلسٹ بعث پارٹی کی رہنمائی میں قاسم حکومت ایک بغاوت کے ذریعے ختم ہوتی ہے اور عبدالسلام محمد عارف صدر بنتے ہیں۔

1963: بعث پارٹی کی حکومت کو عبدالسلام محمد عارف اور چند افسران ختم کردیتے ہیں۔

1966: ملک کے صدر عبدالسلام محمد عارف کی ایک ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاکت کے بعد ان کے بھائی عبدالرحمٰن محمد عارف صدر کا عہدہ سنبھالتے ہیں۔

1968: بعث پارٹی کی رہنمائی میں ایک اور بغاوت کے نتیجے میں عارف حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے اور جنرل احمد حسن الا بکر صدر بن جاتے ہیں۔

1970: ملک کی انقلابی کمانڈ کونسل اور کردش ڈیموکریٹک پارٹی کے ملا مصطفٰی بارزانی کے درمیان امن سمجھوتہ طے پاتا ہے۔

1972: عراق اور سویت یونین کے درمیان ایک پندرہ سالہ امن اور تعاون کا معاہدہ طے پاتا ہے۔

1972: عراقی نیشنلسٹ ملک کی پٹرولیم کمپنی کو قومی تحویل میں لے لیتے ہیں۔

1974: امن معاہدہ کے تحت عراق کردوں کو محدود خود مختاری دیتے ہیں لیکن کردش ڈیموکریٹک پارٹی اس کو مسترد کردیتی ہے۔

1975: الجیریا میں اوپیک کے اجلاس کے موقع پر عراق اور ایران بارڈر کے تنازعے کے حل کے لئے ایک معاہدہ طے کرتے ہیں۔

1979: صدر الا بکر اپنے عہدے سے استعفٰی دیتے ہیں اور ان کی جگہ نائب صدر صدام حسین لیتے ہیں۔

1980: بغداد میں ایک یونیورسٹی میں نائب وزیراعظم طارق عزیز پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری ایران نواز دعوہ پارٹی قبول کرتی ہے۔

1980: ایران عراق کے سرحدی علاقوں میں بمباری کرتا ہے جسے عراق جنگ کا آغاز قرار دیتا ہے۔عراق ایران کے ساتھ کئے گئے معاہدے کو ختم کرکے ایران کی فضائیہ کے اڈوں پر حملہ کرتا ہے اور ایران بھی عراق میں فوجی اور اور اقتصادی نشانوں پر حملے کرتا ہے۔

1981: اسرائیل بغداد کے قریب عراق کے نیوکلئیر ریسرچ سینٹر پر حملہ کرتا ہے۔

1988: عراق کی حکومت مبینہ طور پر کرد علاقوں میں ہلبجہ کے مقام پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرتا ہے۔

1988: عراق ایران جنگ میں فائر بندی کا اعلان ہوتا ہے جس کی نگرانی اقوام متحدہ کی طرف سے کرنا طے پاتا ہے۔

1990: ایک ایرانی نژاد صحافی فرزاد بازوفت کو، جو لندن آبزرور سے تعلق رکھتا تھا، عراق کی فوجی تنصیبات کی جاسوسی کرنے کے الزام میں پھانسی لگائی جاتی ہے۔

1990: عراق کویت پر حملہ کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی قرارداد 660 کے تحت اس کی مذمت کی جاتی ہے اور مکمل انخلا کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد قرارداد 661 کے تحت عراق پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں لیکن عراق کویت کو اپنے ملک میں شامل کرلینے کا اعلان کرتا ہے۔

1991: اقوام متحدہ کی ایک اور قرارداد 678 کے منظور کئے جانے کے بعد اتحادی فوج کے طرف سے فضائی حملے شروع ہوتے ہیں اور پہلی خلیجی جنگ کا آغاز ہوتا ہے۔

1991: زمینی کارروائی کے نتیجے میں کویت کی آزادی کے بعد عراق جنگ بندی قبول کرتا ہے اور عراقی فوج ملک کے جنوب اور شمال میں ہونے والی اندرونی بغاوتوں کو کچلتی ہیں۔

1993: امریکی افواج کویت میں صدر جارج بش پر ہونے والی حملے کی ایک کوشش کے جواب میں بغداد میں عراقی انٹیلی جنس کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرتے ہیں۔

1994: صدام حسین ملک کے وزیراعظم بن جاتے ہیں اور عراقی پارلیمینٹ کویت اور اس کے ساتھ اپنے ملک کی سرحدوں کو تسلیم کرلیتی ہے۔

1995: صدام حسین کے داماد جنرل حسین کامل الماجد اور ان کے اہل خانہ عراق چھوڑ دیتے ہیں اور اردن میں پناہ حاصل کرتے ہیں۔

1995: صدام حسین ایک ریفرنڈم کے ذریعے آئندہ سات برس کے لئے ملک کے صدر بن جاتے ہیں۔

1996: صدام حسین کے داماد اور ان کے بھائی کو معافی کا وعدہ کیا جاتا ہے اور وہ عراق واپس آتے ہیں لیکن انہیں ہلاک کردیا جاتا ہے۔

1996: صدام حسین کے بیٹے اودھے ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوجاتے ہیں۔

1998: اقوام متحدہ کے اسلحے کے معائنہ کاروں سے تعاون کرنے کے طویل تنازعے کے بعد اقوام متحدہ کا سارا عملہ عراق چھوڑ دیتا ہے اور امریکہ اور برطانیہ عراق کے کیمیائی اور نیوکلیئر ہتھیاروں کے مبینہ تنصیبات پر حملہ کرتے ہیں۔

1999: نجف میں شیعہ مسلمانوں کے رہنما آیت اللہ سید محمد صدیق الاصدر کو ہلاک کردیا جاتا ہے۔

2001: صدام حسین کے بیٹے قُصیٰ کو بعث پارٹی کا سربراہ مقرر کیا جاتا ہے جس سے ان افواہوں کو تقویت ملتی ہے کہ انہیں ملک کے آئندہ رہنما کے طور پر تیار کیا جارہا ہے۔

2002: امریکہ کے نئے صدر جارج بش عالمی رہنماؤں کو عراق کے ’خطرے‘ سے آگاہ کرتے ہیں اور اسی ماہ برطانوی وزیر اعظم عراق پر ایک دستاویز شائع کرتے ہیں۔

2003: اقوام متحدے کے اسلحے کے معائنہ کار عراق میں کام دوبارہ شروع کرتے ہیں اور ان کے سربراہ ہانس بلکس تصدیق کرتے ہیں کہ عراق نے تعاون بڑھا دیا ہے لیکن وہ مزید وقت کا مطالبہ کرتے ہیں۔

2003: امریکی صدر بش صدام حسین اور ان کے بیٹوں کو عراق چھوڑنے کے لئے کو اڑتالیس گھنٹے کا نوٹس دیتے ہیں اور کئی ملکوں کی مخالفت کے باوجود امریکہ اور برطانیہ عراق پر حملہ کرتے ہیں۔

2003: امریکہ اور اس کے اتحادی فوجیں بغداد پر قبضہ کرتی ہیں اور سابق حکومت کے رہنماؤں کی گرفتاریاں شروع ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ عراق کی نئی عبوری انتظامیہ کو تسلیم کرتی ہے اور عراق پر لگائی گئی پابندیاں اٹھا لی جاتی ہیں۔

2003: صدام حسین تکریت کے قریب گرفتار کئے جاتے ہیں لیکن عراق میں سیکورٹی کے حالات بدتر ہوتے جاتے ہیں اور بڑے پیمانے پر تشدد کی کارروائیاں شروع ہوتی ہیں۔

2004: امریکہ ملک کا اقتدار عبوری حکومت کے حوالے کرتا ہے لیکن نجف، فلوجہ اور دیگر علاقوں میں تشدد جاری رہتا ہے۔

2005: ملک میں سیکورٹی حالت کی بدتر صورتحال کے باوجد جنوری کی تیس تاریخ کو عراق میں جنگ کے بعد پہلے الیکشن کروائے جانے کا اعلان ہوتاہے۔

پہلی کڑی: عراقی خواتین کے تاثراتمیں عراقی ہوں
پہلی قسط: عراقی خواتین کے تاثرات
انٹیلیجنس کی وارننگ
’شدت پسندی عراق سے پوری دنیامیں پھیلےگی۔‘
روبوٹ فوجیامریکی مشینی فوجی
عراق میں روبوٹ فوجی بھیجنے پر غور
آپ اور عراقی اتتخابآپ اور عراقی اتتخاب
ان انتخابات سے آپ کی کیا امیدیں ہیں؟
عراقتشدد کے سائے میں
انتخابی تیاریاں اور تشدد کے واقعات ساتھ ساتھ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد