مشینی فوجی عراق جائیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے انسانی فوجیوں کو عراق میں مزاحمت کاروں کے خود کش حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے وہاں مشینی فوجی بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔ مشینی فوجیوں کی پہلی کھیپ جس میں اٹھارہ فوجی شامل ہوں گے، کچھ ہی مہینوں میں عراق میں پہنچ جائے گی۔ تین فٹ قد کے روبوٹ فوجی جدید کیمروں سے آراستہ ہوں اور ان کو بند کمروں میں بیٹھے امریکی ماہرین ریموٹ کے ذریعے کنٹرول کریں گے۔ امریکہ کو امید ہے کہ مشینی فوجیوں کے میدان جنگ میں اترنے کے بعد اس کے اصلی فوجیوں کی ہلاکتیں کم ہو سکیں گی۔ ان ریموٹ کنٹرول مشینی فوجیوں کے پاس مشین گنیں ہوں گی اور وہ حریف مزاحمت کاروں کے ساتھ بغیر کسی جانی خطرے کے لڑائی کر سکیں گے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ریموٹ کنٹرول مشینی جنگجو زیادہ تیزی اور مہارت کے ساتھ دشمن کا مقابلے کرنے کے قابل ہے اور وہ ماہر نشانہ باز ہیں۔ مشینی فوجیوں کو میدان جنگ میں اتارنے کی کئی وجوہات ہیں۔ ان فوجیوں کو نہ بھوک لگتی ہے، نہ انہیں وردی کی ضرورت ہے ، نہ تربیت کی اور نہ ہی یہ پینشن مانگیں گے۔جنگ ختم ہونے پر اس نئے فوجی کو مشینی بارک میں رکھ دیا جائے گا۔ عراق میں امریکی فوج پہلے ہی ریموٹ کنٹرول روبوٹ کو استعمال کر رہی ہے لیکن یہ میدان جنگ میں پہلی دفعہ اتریں گے۔ اس سے پہلے ان کو بموں کو ناکارہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||