امریکی فوجیوں کا مشن سے ’انکار‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوجی حکام نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس الزام کی چھان بین کر رہے ہیں کہ عراق میں موجود ریزرو فوجی دستے کے ارکان نے مشن پر جانے سے انکار کر دیا۔ اعلیٰ امریکی اہلکار نے کہا ہے یہ ریزرو دستہ فوجیوں کو خوراک، پانی اور ایندھن پہنچاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنوبی عراق میں تلیل کے قریب تعینات اس دستے کے انیس فوجی اپنے احکامات بجا لانے میں مبینہ طور پر ناکام رہے ہیں۔ یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی فوج کو عراق کے خطرناک ترین علاقوں میں امریکی فوج کی مدد کے لیے بھیجنے کے امکان کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اس ضمن میں برطانوی وزارت دفاع نے جمعہ کو بیان میں کہا تھا کہ اس معاملے پر ۔ور جاری ہے لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ عراق کے جنوبی شہر بصرہ سے فوج کو بغداد کے جنوبی علاقوں میں امریکی کمان میں بھیجے جانے کا متنازعہ امکان ہے۔ اس سے پہلے بغداد میں ہونے والے بم دھماکوں کے نتیجے میں پانچ گرجا گھروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تمام دھماکے تقریباً ایک گھنٹہ کے وقفے میں ہوئے البتہ ماہِ رمضان کے آغاز پر ہی ہونے والے ان دھماکوں میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ اس سے پہلے اگست میں بغداد کے چار اور شمالی شہر موصل کے ایک گرجا گھر پر کیے گئے بم حملوں کے نتیجے میں گیارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حالیہ دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ عراق میں تقریباً ساڑھے سات لاکھ عیسائی آباد ہیں۔ صدام حسین کی برطرفی کے بعد بہت سے عیسائی ہمسایہ ممالک کی رخ کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بغداد میں واقع ایک ہسپتال کے باغ میں گرنے والے مارٹر گولے کے نتیجے میں ہسپتال کا ایک ملازم ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||