بغداد حملے میں چار ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں وزارت تیل کے دفاتر کے پاس کیے گئے مبینہ راکٹ حملے کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ امریکی فوجیوں سے ملاقات کی غرض سے غیراعلانیہ دورے پر صوبہ الانبار پہنچے ہیں۔ رمزفیلڈ نے فوجیوں سے کہا ہے کہ امریکہ اس وقت تک اپنی فوج میں کمی کرنےکا ارادہ نہیں رکھتا جب تک اگلے سال کے اوائل میں عراق میں انتخابات نہیں ہو جاتے۔ ڈونلڈ رمزفیلڈ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اس غیر متوقع دورے کا مقصد عراقی سکیورٹی فورسز کی تربیت اور انتخابات سے پہلے کی جانے والی تیاروں کی بابت فوجی سربراہان کے خیالات جاننا ہے۔
بغداد میں ہونے والے اس حملے کے نتیجے میں وزارت تیل کی عمارت کے پاس ایک بڑا گڑھا پڑ گیا ہے۔ شدت پسند پہلے بھی اس مقام کو حملوں کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ اس امکان کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ حمہ آور وزارت تیل کے دفاتر کے قریب واقع پولیس ٹریننگ اکیڈمی کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک پولیس افرسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہےلاک ہونے والوں میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہیں پولیس میں بھرتی کیا گیا تھا۔ بغداد ہی میں ہونے والے ایک اور حملے میں خودکش حملہ آور نے وزارت ثقافت کی عمارت کے پاس خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے باعث قریب سے گزرنے والے افراد زخمی ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||