صدر سٹی میں جنگ بندی کامعاہدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی حکومت نے کہا ہے کہ شیعہ ملیشیا اور امریکی فوج کے درمیان صدر سٹی میں جاری لڑائی بند کرنے کے لیے معاہدہ ہو گیا ہے۔ ابھی تک معاہدے کی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی لیکن کہا جا رہا ہے کہ شیعہ رہنما مقتدیٰ صدر کے حامی پیر تک اپنے ہتھیار عراقی پولیس کے حوالے کر دیں گے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس کے بدلے سیاسی قیدی رہا کیے جائیں گے، ہتھیاروں کا معاوضہ دیا جائے گا اور صدر سٹی کی تعمیر و ترقی کے لیے فنڈز دیے جائیں گے۔ صدر سٹی ایک بہت بڑی کچی آبادی ہے جس میں بیس لاکھ سے زائد افراد رہتے ہیں۔ یہ معاہدہ عراقی وزیرِ اعظم ایاد علاوی کی ان کوششوں کا نتیجہ ہے جس کے تحت وہ جنوری میں انتخابات کرانے کے لیے ملک میں سکیورٹی کی صورتِ حال بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ اگست میں بھی مقتدیٰ صدر نے نجف اور کوفہ میں جنگ بندی کے لیے حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||