’فائر بندی پر عمل کریں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شیعہ رہنما مقتدی الصدر کے ساتھیوں کے مطابق انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ فائر بندی پر عمل کریں۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ وہ سیاسی نظام میں حصہ لینے کے لیے اپنا منصوبہ ظاہر کریں گے۔ مسٹر صدر کی مہدی ملیشیا اور امریکی فوج کے درمیان عراق میں لڑائی کئی مہینوں سے جاری ہے۔ پچھلے ہفتے امن سے متعلق ایک معاہدہ نجف میں جاری لڑائی کے حوالے سے طے پایا تھا لیکن اس کے بعد بھی امریکی فوج اور مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں ہیں۔ یہ اعلان اس وقت ہوا ہے جب مسٹر صدر کے ترجمان مہدی فوج اور امریکی فوج کے درمیان لڑائی ختم کرانے کے لیے ایک امن معاہدے پر سمجھوتہ کر رہے ہیں۔ عراق کی عبوری حکومت نے کئی بار مسٹر صدر اور ان کے حامیوں سے اصرار کیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار پھینک دیں اور ملک کے سیاسی نظام میں حصہ لیں۔ مسٹر صدر کے ایک ترجمان شیخ علی سمیسم نے لبنان کے المنار ٹیلی ویژین کو بتایا کہ ’نجف اور مختلف صوبوں کے حالات کی وجہ سے ہم نے مہدی فوج کے تمام اراکین سے درخواست کی ہے کہ وہ فائربندی پر اکتفا کریں اور اس وقت تک انتظار کریں جب تک صدر کے حامی حضرات سیاسی پروگرام کے بارے میں اپنے منصوبے کا اظہار نہیں کرتے ہیں‘۔ ایک اور ترجمان شیخ نعیم کابی نے کہا ہے کہ ’انہوں نے عراق میں جاری فوجی کارروائی روک دی ہے اور انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی نظام میں حصہ لینے کے لیے سوچ بیچار کر رہے ہیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||