صدام القاعدہ روابط پر شک کا اظہار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے عراق کے سابق صدر صدام حسین اور القاعدہ کے درمیان کسی ممکنہ تعلق کے امکان پر شک کا اظہار کیا ہے۔ صدام حسین اور القاعدہ کے درمیان ممکنہ رابطے امریکی صدر بش کی طرف سے عراق پر جنگ کی ایک بڑی وجہ تھی۔ نیویارک میں ایک تھنک ٹینک سے خطاب کے دوران جب مسٹر رمزفیلڈ سے اس ممکنہ تعلق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق میں نے اس سلسلے میں ایسے کوئی ٹھوس اور واضح ثبوت نہیں دیکھے جو دونوں کو آپس میں ملاتے ہوں۔ مسٹر رمزفیلڈ کے ایسے فی البدیع ریمارکس پر پہلے بھی کئی بار تنازعات پیدا ہوچکے ہیں۔ اگر ڈونلڈ رمزفیلڈ کا مطلب واقعی وہی تھا جو انہوں نے کہا تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بش انتظامیہ اس معا ملے پر اپنے موقف کو تبدیل کررہی ہے۔ مسٹر رمزفیلڈ ماضی میں کئی مرتبہ صدرام حسین اور القاعدہ کے درمیان لنک کی بات کرچکے ہیں جبکہ نائب صدر ڈک چینی تو اس کے مزید وضاحت میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ صدام حسین نے القاعدہ کو پناہ فراہم کی تھی۔ امریکی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ تشدد کی لپیٹ میں آئے ہوئی کئی عراقی شہر امریکی اور عراقی افواج کے کئی بڑے حملوں کے بعد ہی شدت پسندوں سے پاک ہوں گے۔ سمارہ پر ایک بڑے امریکی حملے کے بعد مسٹر رمز فیلڈ نے کہا ہے کہ دوسرے کئی شہروں پر بھی ایسے ہی آپریشن ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں عراق میں خانہ جنگی کا تو خطرہ نہیں نظر آتا لیکن وہ انتہا پسندوں کے غلبے کو خارج از امکان نہیں دے سکتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||