عراق بم دھماکوں میں 19 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے دارالحکومت بغداد اور شمالی شہر موصل میں پیر کو تین کار بم حملوں میں کم از کم انیس افراد ہلاک اور چھتہر زخمی ہو گئے ہیں۔ پہلا دھماکہ بغداد میں گرین زون کے باہر قائم ناکے کے قریب کار میں نصب بم پھٹنے سے ہوا جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق بارہ افراد ہلاک اور تیس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ دوسرا دھماکہ اس واقعہ کے چند ہی منٹ بعد مرکزی بغداد میں قائم ہوٹلوں کے قریب ہوا۔ اس دھماکے میں چار افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہو گئے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرزنے موقع پر موجود لوگوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک گاڑی تیزی سے گرین زون کی طرف بڑھی جہاں عراقی حکومت اور امریکی اور برطانوی انتظامیہ کے صدر دفاتر قائم ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ گاڑی گرین زون تک پہنچنے سے پہلے ہی پھٹ گئی۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب بہت سے لوگ عراقی فوج میں بھرتی کے لیے قطار بنائے کھڑے تھے۔
فلوجہ پر حملہ: نو ہلاک تیسرا دھماکہ موصل شہر میں ایک بم پھٹ جانے سے ہوا جس میں دو مزاحمت کار اور ایک راہگیر ہلاک ہو گئے۔ امریکی فوج کے مطابق دو مزاحمت کار ایک کار کو حملے کی غرض سے لیے جا رہے تھے کہ اس کار میں نصب بم پہلے ہی پھٹ گیا۔ ادھر ہسپتال کے ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی طیاروں نے مزاحمت کاروں کے زیر کنٹرول شہر فلوجہ پر علی الصبح حملے کیے جس کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایک ایسی عمارت کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے ’عراق مخالف قوتیں‘ اسلحے کی ترسیل کا کام کرتی تھیں۔ امریکی فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک اور کارروائی میں اردن نژاد ابو مصعب الزرقاوی کے حامیوں کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ فوجی حکام کے مطابق فلوجہ میں کئی ہفتوں سے درست اہداف کو نشانہ بنائے جانے کی کارروائیوں کے سبب ابو مصعب الزرقاوی کے نیٹ ورک کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||