BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 October, 2004, 02:00 GMT 07:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق پر بش انتظامیہ کے بدلتے پینترے
امریکی وزیر دفاع
امریکی وزیر خارجہ اپنے بیان کی وجہ سے ایک بار پھر شہ سرخیوں میں ہیں
عراق پر دھاوا بولنے سے پہلے بش انتظامیہ نے یہ تاثر دینے کی بھر پور کوشش کی تھی کہ صدام حسین اور القاعدہ میں روابط ہیں۔ کولن پاؤل نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا تھا کہ عراق میں القاعدہ کے تربیتی کیمپ ہیں۔ نائب صدر ڈک چینی نے زوردار طریقے سے کہا تھا کہ گیارہ ستمبر سے پہلے عراقی ایجنٹ القاعدہ والوں سے پراگ میں ملے تھے۔

لیکن پیر کے روز نیویارک میں ایک تِھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ کچھ اور ہی کہہ رہے تھے کہ انٹیلیجنس کی برادری میں اس بارے میں اختلافات ہیں کہ رابطہ کس قسم کا تھا۔ لیکن جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے مجھے اس رابطے کے بارے میں کوئی ٹھوس شہادت دیکھنے کو نہیں ملی ہے

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ عراق میں اور خود بغداد کے اندر القاعدہ کے آدمیوں کی موجودگی کے بارے میں ہمارے پاس ٹھوس شہادتیں موجود ہیں اور باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ رابطے برسوں سے جاری ہیں اور امکان یہ ہے کہ کیمیاوی اور جراثیمی ایجنٹ کی ٹریننگ بھی دی جاتی رہی ہے۔

یہی نہیں بلکہ ڈونلڈ رمسفیلڈ نے حملے کے دوسرے جواز کے سلسلے میں بھی اپنا راگ بدل دیا ہے۔ پیر کے جلسے میں انہوں نے عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے بارے میں کہا کہ اتفاق یہ ہے کہ وسیع تباہی کے ہتھیار نہیں ملے۔ انٹیلی جنس غلط کیوں ثابت ہوئی میں اس بارے میں کچھ کہنے سے قاصر ہوں۔ کیونکہ مجھے معلوم نہیں۔

لیکن اسی کے ساتھ انہوں نے یہ ٹکڑا بھی لگا دیا کہ صدام حسین سے نجات حاصل کرکے دنیا کا بھلا ہوا ہے۔ تو کیا وزیر دفاع نے نئی راگنی الاپنی شروع کردی ہے۔ وہ تھنک ٹینک یعنی Council of Foreign Relations جس کے اجلاس میں پیر کو انہوں نے سوالوں کے جواب دیئے تھے اس کے ایک سینیئر فیلو چارلس کُپچن کا کہنا ہے کہ رمسفیلڈ نے واقعی اپنی راگنی بدل لی ہے۔ کیونکہ نائب صدر ڈک چینی اور بش انتظامیہ کے دوسرے لوگ اب بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ القاعدہ اور صدام حسین میں رابطے تھے۔ اور میرا خیال ہے کہ رمسفیلڈ نے جو کچھ کہا ہے وہ وائٹ ہاؤس کے ہدایت پر نہیں ہے کیونکہ رمسفیلڈ اکثر اوقات قطار میں سے نکل کے اپنی الگ بات کرنے لگتے ہیں۔ لیکن ا نکے اس بیان سے معاملات میں پیچیدگی ضرور پیدا ہوگی۔

ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ منگل کی شام سے پہلے ہی وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ کی طرف سے بیان آگیا کہ پیر کو جو بات میں نے کہی اس کا غلط مطلب نکالا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد