موصل: 19 امریکی فوجی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شمالی شہر موصل میں ایک امریکی اڈے پر حملے میں ہلاک ہونے والے چوبیس افراد میں سے انیس امریکی فوجی ہیں۔ امریکی فوجی اڈے کی طعام گاہ پر ہونے والے اس حملے میں چونسٹھ کے قریب افراد زخمی ہوگئے تھے۔ نامعلوم حملہ آوروں نے منگل کی صبح امریکی فوجی اڈے کی طعام گاہ کو راکٹوں اور مورٹر گولوں سے نشانہ بنایا۔ ابتداء میں یہ واضح نہیں ہو سکا تھا کہ حملے میں کتنے امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے والوں میں عراقی نیشنل سکیورٹی گارڈز کے ارکان بھی شامل ہیں۔ عراق میں تیس جنوری کو ہونے والے انتخابات کے تناظر میں خاص طور پر پچھلے چند روز سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق منگل کی صبح پولیس نے شہر کے وسط میں مزاحمت کاروں کے ایک حملے کو ناکام بنایا تھا۔ شدت پسند اسلامی تنظیم انصارالسناء نے دعوی کیا ہے کہ یہ خود کش حملہ تھا جو اس کے ایک رکن نے کیا تھا۔ بی بی سی کے ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اس حملے نے چند نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا مزاحمت کار عراقی نیشل گارڈز میں شامل ہو گئے ہیں اور کیا فلوجہ کے بعد مزاحمت کاروں نے موصل کو اپنا مرکز بنا لیا ہے۔ موصل میں نومبر کے مہینے سے مزاحمت کاروں نے کئی پولیس سٹیشنوں اور سرکاری عمارات کو نشانہ بنایا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||