موصل میں بڑا فوجی آپریشن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شمالی شہر موصل میں ایک ہزار سے زیادہ امریکی فوجیوں نے ایک بڑا آپریشن شروع کردیا ہے۔ شہر کو ملانے والے تمام پانچ پلوں کو سیل کردیا گیا ہے اور امریکی فوج شہر میں داخل ہوکر ان پولیس سٹیشنوں کا کنٹرول سنبھال رہی ہے جن پچھلے ہفتے مزاحمت کاروں نے قبضہ کر لیاتھا۔ امریکی ہیلی کاپٹر اور جنگی طیاروں نے شہر کے اوپر پرواز کے بعد وہاں سے دھماکوں کی آواز بھی سنائی دی ہے۔ کچھ اطلاعات کے مطابق موصل کے جنوب میں ایک امریکی بیس پر راکٹوں سے حملہ بھی کیا گیا ہے اور دو پولیس سٹیشنوں کو دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے۔ دوسری طرف بغداد میں کے شمال میں ایک امریکی فوجی قافلے پر حملے میں ایک امریکی فوجی ہلاک ہوگیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی فوج نے عراق کی عبوری پارلیمینٹ کے ڈپٹی سپیکر ناصر عائف کو گرفتار کرلیا ہے۔ مسٹر ناصر کی جماعت عارقی اسلامک پارٹی کے ایک ترجمان نے کہا وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملے میں مداخلت کریں اور مسٹر ناصر کی رہائی کو یقینی بنائیں۔ عراقی اسلامک پارٹی نے، جو سنی مسلمانوں کی جماعت ہے، پچھلے ہفتے فلوجہ میں امریکی آپریشن کے خلاف احتجاجاً حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||