BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 February, 2004, 05:05 GMT 10:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی فوجیوں کی خودکُشیاں

News image
ہلاک ہونے والوں کی یاد میں سرنگوں بندوقیں
بہت پہلے احمد ندیم قاسمی کا ایک افسانہ پڑھا تھا۔ نام یاد نہیں، مگر اس کا مدھم سا مرکزی خیال آج بھی ذہن پر نقش ہے۔ غالباً انہوں نے یہ افسانہ پاکستان بھارت جنگ کے پس منظر میں لکھا تھا جس میں چوپال میں بیٹھے لوگ گاؤں کے غازیوں اور شہیدوں کی تعریف کر رہے تھے۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ فلانے کا پوتا شیردل تھا، کوئی کہہ رہا تھا فلانے کا بھتیجا بے جگری سے لڑا، کسی نے کہاں جنگ کھیڈ نئیں زنانیاں دی، کئی دیہاتی زبانی کلامی طنز کے تیروں سے ہی دشمن کی فوج کو چھلنی کر کے کشتوں کے پشتے لگانے میں مصروف تھے۔

ایسے میں بالعموم خاموش رہنے اور خلاؤں میں گھورتے رہنے والا ایک بوڑھا فوجی جو دوسری جنگ عظیم میں اتحادی فوج میں شامل تھا بول اٹھتا ہے: ’لوگو! جنگ بری چیز ہے۔ مجھے ہلاک ہونے والا وہ جرمن سپاہی نہیں بھولتا جس کی جیب میں سنہرے بالوں کا گچھا اور ایک خوبصورت لڑکی کی تصویر ملی تھی۔‘

دل کو چھولینے والا یہ اقتباس مجھے امریکی سپاہی جوزف سویل کی ہلاکت کی خبر پڑھ کر یاد آیا۔ وہ عراق پر امریکی حملے کے بعد سے وہیں تعینات تھا مگر اس کا دل اپنی بیوی، تین بچوں اور بوڑھی ماں کے پاس رہنے کے لئے تڑپتا تھا۔

چوبیس سالہ جوزف نے اپنی تیسری بیٹی کو دیکھا تک نہیں تھا کیونکہ جب وہ پیدا ہوئی تو جوزف ’عراقیوں کو آزاد‘ کروانے اور معزول صدر صدام حسین سے مبینہ وسیع تباہی کے ہتھیار چھیننے کے لئے امریکی لشکر کے ساتھ تھا۔ یہ ہتھیار اب تک نہیں مل پائے ہیں!

جوزف سے مجھے اس لئے ہمدردی پیدا ہوئی کہ اس کے سینے میں ایک بیٹے، ایک پیار کرنے والے شوہر اور ایک مشفق باپ کا دل دھڑکتا ہوا محسوس ہوا۔

موت سے پہلے اس نے اپنی ماں کو لکھا تھا: ’ماں میں نے کسی کی جان نہیں لی، اور مجھے امید ہے کہ مجھے کسی کو نہیں مارنا پڑے گا۔ جنگ و جدل کے لئے میری تخلیق ہی نہیں ہوئی ہے۔‘

اب جوزف کی ماں خود کو یوں تسلی دیتی ہے: ’خدا نے اسے یہ کہہ کر اپنے پاس بلا لیا ہے کہ یہ جگہ تمھارے لئے نہیں ہے۔‘

غیرملکی فوجیوں کی ہلاکتیں
بیس مارچ دو ہزار تین سے بارہ فروری دو ہزار چار کے دوران عراق میں ہلاک ہونے والے غیرملکی فوجی:
امریکہ: 535
برطانیہ: 57
اٹلی: 17
سپین: 8
بلغاریہ: 5
تھالینڈ: 2
ڈینمارک: 1
یوکرین: 1
پولینڈ: 1
ایسوسی ایٹڈ پریس

امریکی فوجی حکام نے اس کی بیوی ربیکا کو بتایا ہے کہ جوزف نے ایک دافع درد دوا کی زیادہ مقدار کھا کر خودکشی کی ہے۔ مگر بچوں کو سلانے کے بعد رات کی تنہائی میں سسکیوں کے درمیان ربیکا کے سامنے یہ سوال بندوق کی سنگین بن کر کھڑا ہو جاتا ہے کہ آخر اس کے شوہر نے خود کو کیوں ہلاک کیا۔ وہ جنگ سے تنگ آ چکا تھا پھر بھی مرنے سے ایک روز پہلے ہی تو ’میں نے اسے ٹیلی فون پر بتایا تھا کہ میں اسے کتنا چاہتی ہوں۔‘ مگر پھر دوسرے ہی لمحہ اسے یاد آتا ہے کہ پچھلی گفتگو کے دروان وہ گھر آنے کے لئے کتنا بےتاب تھا۔ ربیکا نے اپنے شوہر کے کہنے پر کمانڈنگ افسر سے چھٹی کی بات بھی کی تھی۔ اس نے افسر کو بتایا تھا کہ ان کی پانچ سالہ شادی شدہ زندگی میں جوزف مجموعی طور پر صرف اٹھارہ ماہ ہی اس کے پاس رہ سکا ہے۔ کیونکہ اس سے قبل وہ جنوبی کوریا میں تعینات تھا۔

ربیکا نے افسر سے التجا کی تھی کہ جوزف کو چند دن کی رخصت پر ہی گھر آنے دیا جائے۔ مگر پھر ربیکا کو جوزف کی موت کی خبر ہی مل سکی۔

ربیکا کہتی ہے کہ جب وہ اپنی چار سالہ بیٹی جیڈا کو لے کر جوزف کی قبر پر گئی اور اسے بتایا کہ اس کا باپ اب یہاں رہتا ہے تو جیڈا کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ اب بھی اپنی توتلی زبان میں پوچھتی ہے: ’ماما! ابو کب گھر آئیں گے؟‘

یہ کہانی صرف جوزف، ربیکا اور جیڈا کی نہیں۔ کئی امریکی خاندان ایسے ہیں جن کے عزیز لام پر گئے اور پھر نہیں لوٹے۔ امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ عراق پر حملے کے بعد سے بارہ فروری تک پانچ سو پینتیس امریکی فوجی دشمن کے وار یا حادثاتی طور پر ہلاک ہو چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان میں سے بائیس فوجیوں نے خودکشی کی ہے۔ ماہرین کے مطابق فوج میں خودکشی کی یہ شرح معمول سے زیادہ ہے۔ ویسے سن اکیانوے میں جنگِ خلیج کے دوران ایک سو دو امریکی فوجیوں نے خودکشی کا ارتکاب کیا تھا۔

ایک اور امریکی فوجی کو ایک عراقی کی چیتھڑے بنی لاش دیکھنے کے تین روز بعد قے لگ گئی۔ اسے واپس امریکہ بھیج دیا گیا جہاں اس پر بزدلی کا چارج لگا دیا گیا۔ ویت نام کی جنگ کے بعد کسی امریکی پر لگنے والا یہ پہلا الزام تھا۔

جب چاروں طرف موت رقصاں ہو تو فولادی اعصاب بھی جواب دے جاتے ہیں۔ مگر محاذ جنگ سے ہزاروں میل دور بیضوی دفتر میں دم ہلاتے پالتو کتے کے بالوں میں انگلیاں پھیر کر فیصلے کرنے والوں کے اعصاب، میدان جنگ میں جلتے انسانی گوشت کی بساند اور دیواروں اور راہ گزاروں پر انسانی بھیجوں اور خون سے بننے والے نقش و نگار کے ’مکروہ‘ اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔

News image
علی کا سارا کنبہ امریکی بمباری میں ہلاک ہوگیا تھا اور اس کے دونوں بازوں کٹ گئے تھے

خودکشی وہ قدم ہے جو انسان انتہائی مایوسی اور ذہنی بحران کے عالم میں اٹھاتا ہے۔ فوجی کسی بھی ملک کے ہوں انہیں سکھایا جاتا ہے کہ تعمیلِ حکم پہلے اور سوچ بچار بعد میں۔ ویسے فوج میں زیادہ سوچ بچار اور تردد کی حوصلہ شکنی ادارے میں نظم و نسق کے لئے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ لیکن سوچنا ایک فطری عمل ہے جسے زیادہ دیر تک نہیں دبایا جا سکتا۔ کیا جن بائیس فوجیوں نے اپنی جان لی انہیں کسی لمحہ یہ خیال نہیں آیا ہوگا کہ وہ وطن اور عزیزوں سے ہزاروں میل دور کس کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کیا ان کا دشمن علی اور اس کے خاندان والے ہیں جو امریکی بمباری کا نشانہ بن گئے اور علی اپنے دونوں بازؤں سے محروم ہوگیا۔

جارحیتی دفاع بھی ایک نرالا تصور ہے!

ممکن ہے غیر مرئی طاقت اور آفاقی انصاف پر یقین رکھنے والوں کےنزدیک امریکی فوج میں خودکشی کا رجحان مظلوموں کی آہ کا نتیجہ ہو۔

صورتحال جو بھی ہو اس کی سنگینی اس امر سے جھلکتی ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں بارہ نفسیاتی ماہرین کی ایک جماعت کو عراق بھیجا گیا تھا تاکہ وہ اس رجحان کا سبب معلوم کرے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ طویل عرصے تک گھر سے دوری اور نامعلوم دشمن کا خطرہ انسان کو خودکشی پر مائل کر دیتا ہے۔ ہوسکتا ہے یہ حربہ امریکہ کے ’دشمنوں‘ کو بھی معلوم ہو اور وہ امریکی فوج کو اینگیج رکھ کر اس کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہوں۔

عراقی شہریوں کی ہلاکتوں کا ذکر تو ایک طرف کہ ’خون خاک نشیناں تھا، سو رزق خاک ہوا‘ وہاں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی زیادہ تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی عمریں اٹھارہ سے پچیس سال کے درمیان ہیں۔ عمر کے اس حصے میں جذبے اور امنگیں جوان ہوتی ہیں۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ جوانی دیوانی ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر انہیں دوسروں کی جان لینے کا ’فرض‘ سونپ دیا جائے تو کیا بعید کہ منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے وہ اپنی یا اپنوں کی جان ہی لے بیٹھیں۔

News image
کیا تمام فوجیوں کی بیویاں اتنی خوش نصیب ہیں

اپنی آہوں اور سسکیوں کے درمیان ربیکا کا ان امریکی فوجیوں کے اہل خانہ کے لئے جو اب تک نہ خود گھر لوٹے نہ ان کی موت کی خبر آئی ہے پیغام یہ ہے: ’بس خدا سے دعا مانگو کہ وہ تمہیں اپنے بیٹے اور شوہر کو زندہ سلامت دیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اس وقت کو یاد کرو جو تم لوگوں نے اکھٹے گزارا ہے، اور ان سے ملنے کی امید رکھو۔‘

کیا تمھارا خدا ہے، ہمارا نہیں!

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد