| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنگ کے بعد سے سوامریکی ہلاک
عراق کے شہر کربلا میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب عراقیوں کی فائرنگ سے تین امریکی فوجی اور دو عراقی پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔اس تازہ لڑائی میں دو امریکی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ امریکی فوجیوں کی ان نئی ہلاکتوں سے صدر جارج بش کی طرف سے عراق میں اختتامِ جنگ کے اعلان کے بعد سے اب تک مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد ایک سو تک پہنچ گئی ہے۔ اتحادی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ امریکی فوجیوں پر گھروں کی چھتوں سے فائرنگ کی گئی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس جھڑپ میں کئی حملہ آور بھی مارے گئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں جمعہ کی صبح پھر فائرنگ شروع ہوگئی اور لوگوں کو بچاؤ کے لئے ادھر ادھر بھاگنا پڑا۔حالیہ ہفتوں میں اس شہر میں شیعہ مکتبِ فکر کے متحارب گروہوں میں کئی جھڑپیں ہوئی ہیں
ایک غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق تازہ ترین لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب فوج نے ایک شیعہ عالم کے صدر دفتر کے قریب نصف شب سے کچھ پہلے رات کے کرفیو کا نفاذ کرنا چاہا۔ اطلاعات کے مطابق بیس مسلح افراد اس عمارت کی حفاظت کر رہے تھے۔ جب ان سے کہا گیا کہ وہ عمارت کے اندر چلے جائیں تو انہوں نے انکار کر دیا اور یوں فائرنگ کا آغاز ہوگیا۔ اس جھڑپ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ ایک گھنٹے سے زیادہ جاری رہی اور عورتیں اور بچے بچنے کے لئے ادھر ادھر بھاگتے رہے۔ اس علاقے میں جو بغداد کے جنوب میں پچاسی کلومیٹر واقع ہے، پولینڈ کے فوجی تعینات ہیں۔ تاہم امریکی فوجی بھی یہاں مختلف کارروائیوں میں شریک ہوتے رہتے ہیں۔ پولینڈ کے فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ جھڑپ میں ان کے ملک کا کوئی فوجی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔ کربلا میں کثیرالقومی فوج کے ترجمان نے بتایا: ’اب تک ہم نے جس بات کی تصدیق کی ہے وہ یہ ہے کہ اس جھڑپ میں تین امریکی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو زخمی ہیں۔ ہم نے یہ تصدیق بھی کی ہے کہ دو عراقی پولیس اہلکار بھی مارے گئے ہیں جبکہ پانچ زخمی ہوئے ہیں۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||