پہلی قسط: عراقی خواتین کے تاثرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حال ہی میں بی بی سی عربِک سروس نے عراق میں حالات کے بارے میں کچھ عراقی خواتین سے بات چیت کی۔ ان خواتین نے اپنی روز مرہ کی زندگی پر روشنی ڈالی۔ اسی سیریز کی پہلی قسط ہم اس صفحہ پر شائع کررہے ہیں۔
حالیہ جنگ کے بعد سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں میری آمدنی بھی بڑھ گئی۔ دوسری جانب میرے والد کی مالی حالت خراب ہوگئی۔ ان کا ایک ورکشاپ ہے، وہ دھات کا کام کرتے ہیں اور ان کا بزنس بھی امریکی ڈالر کی قیمت میں تبدیلی کے ساتھ ہی متاثر ہوا ہے۔ عراق میں سکیورٹی کے جو حالات ہیں ان میں ہم اس بات کے لئے آزاد نہیں ہیں کہ جہاں جی میں آئے وہاں جاسکیں، بالخصوص ان مقامات تک جہاں کچھ سفر کرکے جانا پڑتا ہے۔ حال ہی میں ہم ان لوگوں سے ملے جو سرکاری تحفظ نہ ملنے سے فاقہ کشی اور بیماری برداشت کررہے ہیں، یہ حالات ان لوگوں کی وجہ سے بھی ہیں جو سکیورٹی کے حالات کا فائدہ اٹھارہے ہیں۔ کچھ مذہبی ادارے بھی عورتوں کو ڈرا رہے ہیں۔ خواتین کے قائم کردہ کپڑے فروخت کرنے والی دکانیں اور ہجامت بنانے والے سیلونوں کو دھمکی دی گئی ہے کیوں کہ وہاں مردوں کو نوکردی دی گئی ہے۔ یہ ہمارے لئے نئی بات ہے۔
کچھ لوگ ہیں جو اپنے خیالات بقیہ معاشرے پر تھوپنا چاہتے ہیں۔ دوسری ناپسندیدہ بات ہے بچوں، ڈاکٹروں اور دیگر لوگوں کا پیسے کے لئے اغوا کیا جانا۔ صحت عامہ کے نظام پر بھی ہم فکرمند ہیں کیونکہ کوئی جوابدہ نہیں ہے۔ کئی ڈاکٹر مارے گئے ہیں یا ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ اگر یہی حالات رہے تو میں اور میری فیملی ملک چھوڑنے کے بارے میں غور کریں گے۔ لیکن تمام منفی حالات کے باوجود اب یہ ممکن ہے کہ ہم آزادانہ طور پر بات کرسکتے ہیں اور حکومت پر تنقید کرسکتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے لئے یہ بھی ممکن ہوگیا ہے کہ وہ وہ اشیاء خرید سکیں جو گزشتہ حکومت کے دوران دستیاب نہیں تھے یا ان پر حکومت کی پابندی تھی۔ سماجی سطح پر عراقی عیسائی عورتوں کو شادی کے لئے لڑکے نہیں مل رہے ہیں کیوں کہ عیسائی مرد انیس سو نوے کے عشرے میں ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ عراق میں حالات بہتر ہوں گے۔۔۔۔
گزشتہ جنگ ہمارے لوگوں اور ہماری فیملی کے لئے اتنی تباہ کن نہیں تھی جتنی ’کویت جنگ‘ جس کی وجہ سے ہمیں کافی پریشانی ہوئی تھی۔ اور اس کے باوجود کہ اب بجلی کی فراہمی کم ہوئی ہے اور سکیورٹی کے خدشات درپیش ہیں، ہماری مالی حالت سدھری ہے۔ میرے لڑکے یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد لوہار کا کام کرتے ہیں اور ان کی آمدنی بڑھ گئی ہے۔ ان دنوں ایسا ہی رجحان ہے۔ عراقیوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے، بالخصوص ان لوگوں کی آمدنی میں جو سرکاری ملازمت میں ہیں۔ آمدنی میں اضافے کے ساتھ ہم گھر کے لئے نئے سامان خرید رہے ہیں۔۔۔ ہم نے ایک نیا ٹی وی خریدا ہے تاکہ پرانا ٹی وی بدل سکیں۔ گزشتہ حکومت کے دوران سیٹلائٹ ٹی وی پر پابندی تھی، لیکن اب ہمارے گھر میں موجود ہے۔ اور انٹرنیٹ کی سہولت جو ایک خواب تھی اب ہمیں دستیاب ہے۔ یہ سب تبدیلیاں جنگ کے تین ماہ کے دوران ہی آنی شروع ہوئیں۔
اور ڈیڑھ سال گزر جانے کے بعد ہم نے ایک نئی کار خریدی ہے۔ یہ کچھ ایسی چیز تھی جس کے بارے میں ہم صرف سوچ سکتے تھے، صدام حسین کے دور میں ہم صرف اس کا تصور کرسکتے تھے۔ ہم اپنی نئی کار لیکر شمالی عراق میں تفریح کے لئے گئے۔۔۔ ایسا پہلے ممکن نہیں تھا کیوں کہ بارہ برسوں سے شمالی عراق اور باقی علاقوں کے درمیان ایک سرحد سی تھی۔ اب میرے لڑکوں کی منگنی ہوگئی ہے اور اب ان کی شادی ہونی ہے۔ میں شادی کی تقریبات کے لئے تیاری کررہی ہوں۔ ہم جس بات کی وجہ سے پریشان ہیں وہ ہیں سکیورٹی کے خدشات۔ جب امن آئے گا عراقیوں کو خوشی کا موقع ملے گا۔ جیسا ہم کہتے ہیں، خدا مہربان ہے اور ہر کچھ ممکن ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||