میں کبھی نہیں بھلا پاؤں گی۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب کے شہر الخبر میں انتیس مئی دو ہزار چار کے واقعے کے بعد بیرونِ ملک سے آکر کام کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہے۔ خاص طور پر مغربی ممالک سے آنے والے بڑی تعداد میں اس شہر کو چھوڑ کر جارہے ہیں جس کی معیشت کا دارومدار تیل کی صنعت میں آکر کام کرنے والے اعلیٰ تربیت یافتہ افراد پر ہے۔ الخبر میں رہنے والی ایک پاکستانی تارکِ وطن نے یہ میل ہمیں بھیجی ہے جو وہاں اپنے چھوٹے سے کنبے کے ساتھ رہتی ہیں۔ سعودی عرب کے مشرقی صوبہ کے شہر الخبر کے رہنے والے انتیس مئی دوہزار چار کو کبھی نہیں بھلا پائیں گے۔ ہر روز کی طرح میں صبح چھ بجے جاگ تو گئی، مگر اٹھنے کی بجائے میں نے الارم بند کر دیا اور پھر سو گئی۔ جب آٹھ بجے کے قریب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ میری بیٹی اور میرے شوہر ابھی سو ہی رہے تھے۔ میں پھر ایک بار اپنی ایروبکس کی کلاس میں نہیں جاسکی تھی۔ لیکن تب تک مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس دن میرے دیر سے جاگنے کی وجہ سے میرے خاندان کی جانیں بچ گئیں۔ اس ایک گھنٹے میں میری بیٹی کے سکول کے قریب فائرنگ ہوئی تھی جب میرے شوہر نے مجھے بعد میں موبائل سے فون کر کے بتایا کہ ہیل سینٹر کے پاس، جو کہ ان کے دفتر سے بہت قریب واقع ہے، سڑک پر ایک لاش پڑی ہے۔ ’آسمان میں ہر طرف ہیلی کوپٹر ہیں اور سڑکوں پر پولیس کی گاڑیاں۔ بالکل کسی ایکشن فلم کا منظر معلوم ہوتا ہے‘۔
میں نے ٹی وی پر بی بی سی لگایا مگر وہ وضاحت سے کچھ نہیں بتا رہے تھے۔ پھر میں اپنی اردنی ہمسایہ کے پاس گئی جو عربی چینلز دیکھتی ہے۔ وہاں پہنچی تو انہیں گھبرایا ہوا اور پریشان پایا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ اوایسز کمپاؤنڈ میں رہنے والی اپنی ایک دوست سے بات کر رہی تھیں جب انہوں نے کچھ لوگوں کو اپنی دوست پر چیختے چلاتے ہوئے سنا۔ وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ کیا وہ مسلمان ہیں؟ جب ان کی دوست نے ان لوگوں سے پوچھا کہ وہ کون ہیں تو وہ پھر چلا کر پوچھنے لگے کہ کیا وہ مسلمان ہے؟ تو انہوں نے جواب میں کہا کہ ہاں میں مسلمان ہوں۔ اس پر ان لوگوں نے ان سے کلمہِ شہادت پڑھنے کو کہا۔ کلمہ پڑھنے کے بعد وہ لوگ انہیں چپ رہنے کا کہہ کر وہاں سے چلے گئے۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ اوایسز کمپاؤنڈ کو کچھ لوگوں نے گھیرے میں لے لیا تھا۔ حفاظتی کیمروں پر چار افراد کو دیکھا گیا۔ ان کی عمریں سترہ سے اکیس تک تھی۔ وہ فوجی وردیاں پہنے کمپاؤنڈ میں داخل ہوئے۔ ان کے چہروں پر کسی پریشانی یا گھبراہٹ کے نشان نہیں تھے۔ انہوں نے پچاس لوگوں کو یرغمالی بنایا اور جنہوں نے بھاگنے کی کوشش کی، انہیں مار دیا۔ شہر میں سبھی گھبرائے ہوئے تھے۔ سب کو اپنے عزیزوں کی حفاظت کی فکر تھی۔ میری ہمسائی نے مجھے بتایا کہ میری بیٹی کے سکول میں پڑھنے والا ایک بچہ فوج اور شدت پسندوں کے بیچ تصادم میں ہمارے کمپاؤنڈ سے صرف تین میل دور ماری گئی تھی۔
میری اس فلپینو ڈرائیور سے بھی بات ہوئی جس نے ایک غیر ملکی شخص کے مردہ جسم کو ایپی کارپ کمپاؤنڈ سے ہیل سینٹر تک گھسیٹ کر لے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس نے حفاظتی افواج اور تشدد پسندوں کے درمیان ہوئی جھڑپ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ وہ اب بھی راتوں کو سو نہیں پاتا۔ شہر میں ہر طرف افراتفری مچی ہوئی تھی۔ ہر کوئی اپنے گھر والوں کے لیے فکر مند تھا۔ سبھی کو کام پر گئے اپنے والد، شوہر یا بھائی کی فکر تھی۔ ہمارے کمپاؤنڈ کے منیجر نے کمپاؤنڈ کا بورڈ ہٹا دیا۔ ہمارے کمپاؤنڈ میں گورے نہیں تھے، اور اس روز ہمیں یہ بات اپنی خوش نصیبی محسوس اس دن اور پھر اس رات جو ہوا وہ اب بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہے۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ ہم کچھ دن پہلے ہی اوایسز کے سامنے والا کمپاؤنڈ چھوڑ کر دوسرے کمپاؤنڈ میں رہنے لگے تھے۔ تیس مئی کو میں اپنے شوہر کے ساتھ کچھ چیزیں خریدنے باہر گئی۔ ایپی کارپ کمپاؤنڈ کے سامنے سے گزرتے وقت میرا دل دہل گیا۔ اچانک مجھے اس شخص کا خیال آیا جسے کل اسی جگہ موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ میں نے اس بچے کے بارے میں سوچا جو جمعہ کو دیر تک کھیلتا رہا۔ اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ اس کی زندگی کا آخری دن ہوگا۔ اس بچے کی ماں اب بھی ساری رات اسے پکارتی ہے۔ کیا کوئی بھی ان ماں باپ کا درد سمجھ سکتا ہے جنہوں نے اپنے بیٹے کو ایک جلتی ہوئی گاڑی میں قید بے ہوش پڑا دیکھا، اور ان کی تمام کوششوں کے باجود اسے وہاں سے نکال نہ سکے۔ دو اور بچے کھڑکی کا شیشہ توڑ کر باہر آ تو گئے مگر اب بھی بری طرح زخمی ہسپتال میں ہیں۔ میں اور میرے شوہر ہیل سینٹر کے نزدیک پل کی طرف مڑ گئے۔ میرے شوہر نے اس گاڑی کی طرف اشارہ کیا جس میں ایک بھارتی شخص کو حفاظتی افواج نے ایک شدت پسند سمجھ کر تب گولی مار دی جب وہ ایک پولیس گاڑی کو اورٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں اس گاڑی کی طرف دیکھ نہیں سکی اور میں نے اپنی نظریں جھکالیں۔ مگر ان حادثات نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔
مگر مجھے حیرت تب ہوئی جب ہم تھوڑی دیر بعد ایک پاکستانی علاقے سے گزر رہی تھے۔ وہاں نہ تو دکھ کا نشان تھا نہ ہی خوف کا۔ یہ اچھے علاقوں میں شمار ہوتا ہے مگر نسبتاً زیادہ امیرانہ علاقہ نہیںسمجھا جاتا۔ وہاں لوگ بے خوفی سے اپنا کام کر رہے تھے۔ شاید وہ یہ سوچ کر خوش تھے کہ وہ الخبر کی ’گولڈن بیلٹ‘ میں نہیں رہتے تھے۔ ایک ریستوراں میں بیٹھے اپنے تکوں اور نان کا انتظار کرتے ہوئے مجھے کچھ عجیب سا محسوس ہوا اور کھانا کھاتے ہوئے مجھے دل پر بوجھ سا لگا۔ شہر کے اس حصہ میں سب کچھ کتنا معمول کے مطابق ہے؟ ہم انسانوں کے لیے سب کچھ بھلا کے زندگی جینا کتنا آسان ہے؟ مگر کیا یہ صحیح ہے؟ میں نے دل ہی دل میں ان لوگوں کے لیے دعا کی جو اس دن مارے گئے تھے۔ مجھے اپنی ایروبکس ٹیچر کی فکر ہے۔ میں اپنے غیر ملکی دوستوں کے بارے میں سوچتی ہوں اور ان کا خوف اور درد سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ سب مجھ سے کہتے ہیں کہ میں اپنے شوہر کو غیر ملکیوں سے دور رہنے کو کہوں۔ اور میں یہ کیسے کہہ دوں کہ وہ سب لوگ غلط ہیں؟ راشد مال میں، جو کہ الخبر میں سب سے بڑا شاپنگ سینٹر ہے، اب گورے غیر ملکی دکھائی ہی نہیں دیتے۔ جہاں صبح کافی پینے کئی غیر ملکی خواتین لگ بھگ روز ہی آتی تھیں، وہاں اب مشکل ہی سے کوئی دکھائی دیتا ہے۔ ان میں سے کچھ ہیں جو اپنے خوف پر قابو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’ہم واپس نہیں جا سکتے، ہمارا کام یہاں ہے‘۔’ ہم کہیں نہیں جا رہے‘۔ مگر ہم سب جانتے ہیں کہ بہت سارے غیر ملکی سعودی عرب چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے جا رہے ہیں۔ شاید کچھ رک بھی جائیں۔ اب تک کمپاؤنڈ سعودی عرب میں اونچے مرتبے کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ جو لوگ کمپاؤنڈز میں رہتے تھے وہ خود کو محفوظ سمجھتے تھے، اور عالی شان گھروں، سوئمنگ پولز، ’جمز‘ وغیرہ کا مزہ اٹھاتے تھے۔ کمپاؤنڈز میں عورتوں کو بھی اکیلے گھومنے، گاڑی چلانے اور بےحجاب رہنے کی آزادی ہے۔
مگر اب لوگ کمپاؤنڈز کے باہر رہنا ہی بہتر سمجھنے لگے ہیں۔ بہت ساری کمپنیوں نے اپنے دفاتر بحرین میں قائم کر لیے ہیں۔ کمپاؤنڈز میں رہنے والے عزیزوں سے ملنا دشوار ہو گیا ہے۔ شہر میں ہر طرف حفاظتی افواج کی بھیڑ سے لگی رہتی ہے۔ حال ہی میں سعودی حکومت نے غیر ملکیوں کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دی ہے۔ شہر معمول پر آنے کی کوشش تو کر رہا ہے مگر مزید تشدد اور غیر ملکیوں پر حملوں کا اندیشہ اب بھی ہے۔ سب کوستمبر کا انتظار ہے جب بچوں کے سکول دوبارہ کھلیں گے اور چھٹیوں پر گئے لوگ لوٹ کر آئیں گے ۔ میں امید اور دعا کرتی ہوں کہ میرے شہر میں امن لوٹ آئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||