چودہ برس کی عمر میں جیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اکتوبر انیس سو چورانوے کی اٹھائیس یا انتیس تاریخ تھی۔ اس وقت میری عمر چودہ سال تھی اور میں نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ میں فجر کی نماز پڑھنے گھر سے نکلا ہی تھا کہ دو آدمی میرے پاس آئے اور میرا نام پوچھا۔ میرے جواب دینے پر ایک نے میری آنکھوں پر پٹی باندھی، ہاتھوں پر ہتھکڑی لگائی، گاڑی میں ڈالا اور سختی سے خاموش رہنے کو کہہ کر روانہ ہو گئے۔ اس وقت ہم سرگودھا کے قریب ایک قصبے میں رہتے تھے۔ مجھے اغوا کرنے کے بعد پہلے تو سرگودھا لے جایا گیا جہاں گاڑی میں کچھ اور لوگ بھی سوار ہو گئے۔ اس دوران میں نے دبے الفاظ میں اس تمام کارروائی کی وجہ جاننے کی کوشش کی لیکن انہوں نے سختی سے خاموش رہنے کو کہا اور میں نے اسی میں عافیت جانی۔ میرے ساتھ ایک نرمی یہ برتی گئی کہ میرا ایک ہاتھ ہتھکڑی سے آزاد کر دیا گیا مگر آنکھوں پر پٹی بدستور بندھی رہی۔ مجھے گاڑی کی سیٹ پر لیٹا دیا گیا اور تمام سفر اسی حالت میں گزرا۔ جب مجھے نیچے اترنے کو کہا تو آنکھوں کی پٹی اور ہتھکڑی کھول دی گئی۔
میرے سامنے ایک پہاڑی علاقہ تھا اور اغواکنندگان نے کلاشنکوف تھام رکھی تھیں۔ مجھے ایک بیٹھک یعنی مہمان خانہ لے جایا گیا۔ یہاں ایک نوجوان نے مسکرا کر میرا استقبال کیا اور بیٹھنے کو کہا۔ بیٹھک میں قالین بچھا تھا اور میں سمٹ کر ایک کونے میں جا بیٹھا۔ مجھے اغوا کرنے والوں میں سے ایک اندر داخل ہوا اور صرف اتنا بتایا کہ میں ایک سرکاری ایجنسی کی حراست میں ہوں۔ میں نے ڈرتے ہوئے اپنا جرم پوچھا تو معنی خیز انداز میں مسکرایا اور کہا کہ یہ تم خود ہی بتاؤ گے کہ تم نے کیا کیا ہے۔ تمام اغوا کنندگان روانہ ہونے سے قبل محض اتنا کہہ گئے کہ میں کوئی ایسی حرکت نہ کروں کہ انہیں تشدد کرنا پڑے۔ میں تین روز تک اسی بیٹھک میں رہا اور اس دوران ایک شخص ہر وقت میرے ہمراہ رہا۔ رات کے وقت تقریباً آٹھ سے دس افراد اس بیٹھک میں سوتے تھے۔ وہ لوگ تین روز تک مجھ سے یہی پوچھتے رہے کہ میں نے کیا جرم کیا ہے اور مجھے یہاں کیوں لایا گیا ہے اور یہ یقین بھی دلاتے کہ سچ بولنے کی صورت میں مجھے چھوڑ دیا جائے گا ورنہ تشدد کی دھمکیاں دیتے۔ لیکن انہوں نے ان دھمکیوں پر کبھی عمل نہیں کیا۔
یہ لوگ خود کو سرکاری ایجنسی کا ملازم بتاتے تھے اوران کے بقول یہاں اکثر مجرموں کے بچوں کو لایا جاتا تھا اور یہ جمرود ایجنسی (فاٹا) کا کوئی علاقہ تھا۔ میں جب ان سے اپنی حراست کی وجہ پوچھتا تو لاعلمی کا اظہار کرتے۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ میرے گھر والوں کو میری بابت مطلع کر دیا گیا تھا جبکہ انہیں اس وقت اطلاع دی گئی جب مجھے باقاعدہ طور پر سرکاری حراست میں لیا گیا تھا۔ تین روز بعد چار نئے لوگ آئے اور اپنے کارڈ دکھا کر پریشان نہ ہونے کو کہا اور بتایا کہ میں سرکاری حراست میں ہوں مگر انہوں نے بھی میرا جرم نہ بتایا۔ ان لوگوں نے مجھے دوبارہ ہتھکڑی پہنا کر جیپ میں لیٹنے کو کہا لیکن اس بار میری آنکھوں پر پٹی نہ باندھی گئی۔ ڈھائی گھنٹے کے بعد مجھے جیپ سے اترنے کو کہا گیا۔ اس بار میرے سامنے ایک تھانہ تھا اور پولیس اہلکار چوکنا انداز میں کھڑے تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ میں ایبٹ آباد کے ایک تھانے میں ہوں۔ مجھے بتایا گیا کہ ایک شخص کے اغوا کی ایف آئی آر میں میرے والد کا نام شامل ہے اور چونکہ میرے والد ملک سے باہر ہیں اس لیے ان کی جگہ مجھے گرفتار کیا گیا ہے۔
یہ سن کر میرا سر چکرا گیا کیونکہ میں نے اغوا ہونے والے کا نام زندگی میں پہلی بار سنا تھا۔ مجھے زیادہ حیرت اس بات پر تھی کہ ہم لوگ سرگودھا میں رہتے تھے اس لیے ایبٹ آباد سے اغوا ہونے والے شخص سے ہمارا تعلق کیسے ہو سکتا ہے۔ عدالت میں پیشی پر ایک مجسٹریٹ نے چار روز کا ریمانڈ دے دیا۔ تھانہ والوں نے مجھے سی آئی اے پولیس کے حوالے کر دیا کیونکہ وہی اس کیس سے نمٹ رہے تھے۔ ان لوگوں نے مجھ پر جسمانی تشدد تو نہ کیا لیکن اس کی کسر دیگر حربوں سے پوری کر دی۔ انہیں میرے مجرم ہونے پر کچھ ایسا یقین تھا جیسا مسلمانوں کو خدا کی ذات پر ہوتا ہے۔ یہ لوگ مجھے بھوکا رکھتے، ایبٹ آباد میں نومبر کی سردی میں ننگے پاؤں زمین پر کھڑا رکھا جاتا اور بدن ڈھانپنے کے لیے صرف شلوار قمیض۔ خوفزدہ کرنے کے لیے وہاں لائے گئے ملزموں کو میرے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا۔ ان لوگوں کا اصرار رہتا کہ جب تک مغوی بازیاب نہیں ہوتا مجھے حراست میں رکھا جائے گا۔ اس دوران میرا ایک پڑوسی میرے لیے کپڑے لایا تو اسے بھی تشدد کا نشانہ بنانے کے تین روز بعد چھوڑ دیا گیا۔ ریمانڈ کی مدت ختم ہونے پر دوبارہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا اور عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا جہاں ایک نئی دنیا میری منتظر تھی۔ ایبٹ آباد جیل میں تین بڑی بیرکیں تھیں، ایک ہسپتال، ایک چھوٹی مسجد اور ایک لائبریری اور ایک بی کلاس بیرک تھی۔ اس کے ساتھ زنان خانہ تھا جہاں خواتین قیدیوں کو رکھا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جسے منڈا خانہ کہتے تھے کیونکہ یہاں کم عمر قیدیوں کو رکھا جاتا تھا۔ مجھے بھی منڈہ خانے میں رکھا گیا تھا۔ منڈہ خانہ میں رہنے والے تمام قیدیوں (قیدی کا لفظ محض سہولت کے لیے استعمال کر رہا ہوں کیونکہ ان میں سے کوئی بھی سزا یافتہ نہیں تھا اور سب عدالتی ریمانڈ پر تھے) کی عمریں بارہ سے بیس برس کے درمیان تھیں۔
ایک لڑکے نے قریب آ کر پوچھا کہ کونسی دفعہ لگی ہے، میں خاموش رہا کیونکہ میں اس بابت کچھ نہ جانتا تھا۔ اس نے پوچھا کہ کیا جرم کیا ہے، میں نے کہا کہ کوئی نہیں تو وہ طنزاً مسکرایا اور اپنا تعارف کراتے ہوئے کہنے لگا کہ وہ منڈہ خانے کا نمبردار ہے (جیل میں بیرک کے اندر انچارج آدمی کو نمبردار کہتے ہیں)۔ اس نے با رعب لہجے میں کہا کہ اس کی اجازت کے بغیر میں منڈہ خانہ سے باہر نہیں جا سکتا۔ اگلے روز مجھے جیل سپرنٹنڈنٹ کے سامنے پیش کیا گیا اور اس نے کہا کہ مجھ سے کوئی شخص ملاقات نہیں کر سکتا لیکن اس کی وجہ نہ بتائی گئی۔ نوٹ: اس کہانی کے راوی کا نام ان کی درخواست پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اگر آپ بھی ایسے یا اس سے ملتے جلتے حالات سے گزرے ہوں تو اپنی کہانی ہمیں براہ راست بھیج سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام شائع نہیں کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||