BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 March, 2004, 13:16 GMT 18:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائلی علاقہ، کالاقانون

اکرم اللہ جان کوکی خیل خیبر ہاؤس جیل پشاور سے
اکرم اللہ جان کوکی خیل خیبر ہاؤس جیل پشاور سے
میرا جرم یہ ہے میں قبائیلوں کی آزادی اور حقوق کی جنگ لڑ رہاہوں، ملک کے دوسرے علاقوں کی طرح فاٹا میں رہنے والے طلباء کو بھی بہتر تعلیم کے مساوی مواقع دلانا چاہتاہوں اور ان کو ایک صدی سے زائد عرصہ سے مسلط ایف سی آر (فرنٹیر کرائمز ریگولیشن) جیسے کالے اور استعماری طاقتوں کے بنائے ہوئے قانون سے نجات دلانا چا ہتا ہوں۔

مجھے جیل میں تیسرا مہینہ ہونے کو ہے۔ گزشتہ سال چھبیس دسمبر کو میں لنڈی کوتل ڈگری کالج کے چند طلباء سے ملاقات کرنے جمرود جیل چلا گیا تھا جنھیں انتظامیہ نے گرڈ اسٹیشن پر مبینہ حملے کے الزام میں گرفتار کیا ہوا تھا۔ گرفتار ہونے والوں میں میری تنظیم کے کچھ کارکن بھی شامل تھے۔ میں نے جیل جاکر لائن آفیسر سے درخواست کی کہ ہم گرفتار شدہ طلباءسے ملنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولٹیکل ایجنٹ نے طلباء سے ملاقات پر پابندی لگائی ہے۔ بعد میں علاقہ تحصیلدار نے مجھے بھی جیل کے احاطے سے گرفتار کرکے پابندِ سلاسل کردیا۔ مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں نے طلباء کو مشتعل کرنے اور ان کو جیل سے بھگوانے کی کوشش کی۔ اگر میں واقعی جیل توڑ سکتا تھا تو اب تک تو میں خود جیل سے نہیں بھاگ چکا ہوتا ؟

کیا میں جیل توڑ سکتا تھا؟
 میں نے جیل جاکر لائن آفیسر سے درخواست کی کہ ہم گرفتار شدہ طلباءسے ملنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولٹیکل ایجنٹ نے طلباء سے ملاقات پر پابندی لگائی ہے۔ بعد میں علاقہ تحصیلدار نے مجھے بھی جیل کے احاطے سے گرفتار کرکے پابندِ سلاسل کردیا۔ مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں نے طلباء کو مشتعل کرنے اور ان کو جیل سے بھگوانے کی کوشش کی۔

یہ سب بے بنیاد الزامات ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اصل بات یہ ہےکہ میں ایک سیاسی کارکن ہوں اور نوجوانوں کی ایک تنظیم ’جوان پختون گوند‘ کا چیئرمین بھی ہوں جبکہ انتظامیہ چاہتی ہے کہ میں سیاسی سرگرمیاں سے دور رہوں۔ ہماری تنظیم جوان پختون گوند نے گزشتہ دو سالوں میں خیبر ایجنسی میں نوجوانوں کے حقوق کے حوالےسے بڑا کام کیا ہے اور انھیں شعور دینے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔

گرفتاری کے دو گھنٹے بعد مجھے جمرود جیل سے باڑہ منتقل کیاگیا اور وھاں پر کچھ دن رہنے کے بعد مجھے خیبر ہاؤس جیل منتقل کردیا گیا جہاں پر پو لیٹکل ایجنٹ خیبر کا دفتر بھی ہے۔ خیبر ہاؤس میں دو بیرک ہیں ایک چھوٹا اور دوسرا بڑا۔ بڑے بیرک میں تقریباً بیس کے قریب قیدی رہ سکتے ہیں جبکہ دوسرے بیرک میں تین سے چار قیدیوں کے رہنے کی گنجائش ہے۔ پہلے میں بڑے بیرک میں تھا لیکن اب چھوٹے میں آگیا ہوں۔

دونوں بیرکوں میں اکثر اوقات گنجا ئش سے زیادہ قیدی ہوتے ہیں۔ بڑے بیرک ہے کےساتھ ایک ملحقہ باتھ روم بھی ہے جبکہ دوسرے بیرک میں کوئی باتھ روم نہیں۔ قیدیوں کو رفع حاجت کے لیے بڑے بیرک میں جانا پڑتا ہے جو ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اگر کسی قیدی کے پیٹ میں تکلیف ہو یا وہ رفع حاجت کےلیے باتھ روم جانا چا ہتا ہے تو پہلے وہ سنتری کو بلائے گا جو آکر تالا کھولے گا، پھر دوسرے بیرک کا دروازہ کھلے گا اور یہ سب کچھ پولیس والوں کی موجودگی میں ہوتا ہے۔

کھانے میں دونوں وقت ایک چھوٹی سی روٹی دی جاتی ہے اور اس کے ساتھ تھوڑا سا آدھا کچا اور آدھا پکا دال چنا، لوبیا، آلو یا کبھی کبھی دال ماش دی جاتی ہے۔ تمام قیدی دن رات ان بیرکوں میں بند رہتے ہیں۔ ان کے دروازے مضبوط لوہے کی سلاخوں سے بنے ہوئے ہیں جہاں سے قیدی باہر جھانک سکتے ہیں اور ملاقاتیوں سے ملاقات بھی کرسکتے ہیں۔ رات کے وقت ان دروازوں سے ٹھنڈے ہوا کے جھونکے آتے ہیں جس کی وجہ سے بے چارے قیدی ٹھٹھر کر رہ جاتے ہیں۔

جب تیز بارش لگی ہو تو چھت سے پانی ٹپکتا ہے اور بیرک کے بڑے ڈسٹ بن سے جونزدیک ہے، بدبو بھی آتی ہے۔ یہاں اندر سردی سے بچاؤ کا کوئی انتظام نہیں۔ جیل انتظامیہ کی طرف سے بستر وغیرہ فراہم نہیں کیا جاتا اور کوئی طبی سہولت بھی موجود نہیں۔ اگر کوئی قیدی بیمار ہوجاتا ہے تو باربار رونے پیٹنے اور درخواستوں کے بعد جیل انتظامیہ انہیں اس شرط پر ہسپتال لےجاتی ہےکہ وہ اپنے پیسوں سے علاج کرائے گا۔ ہاں اگر آپ کے پاس پیسے زیادہ ہیں اور آپ خاصہ داروں اور لائن افسر کو خوش رکھ سکتے ہیں تو آپ کو علاج کے علاوہ صدر کے چکر لگانے اور سیر وتفریح کا موقع بھی فراہم کیا جاسکتا ہے۔

ہمارے ساتھ والی بیرک میں صادق خان نامی قیدی ہے جس کی عمر اسی سال ہے۔ وہ دمّے کا مریض ہے اور اسے اکثر سانس کا مسئلہ ہوجاتا ہے لیکن بے چارہ غریب بھی ہے۔ اگر اس کا علاج نہیں کرایا گیاتو وہ جیل کے اندر مر جائے گا۔ اس کے ساتھ ایک اورجوان قیدی بائیس سالہ امیرزیب قوم قمبر خیل رہتا ہے۔ اسے گردوں کا مسئلہ ہے اور پیشاب میں خون آتاہے۔ امیرزیب اکثر اوقات تکلیف کی شدت کے باعث روتا رہتا ہے۔ بائیس سالہ ایک اور نوجوان انورخان کے گردوں میں پتھر ہے۔ اس کو جب تکلیف ہوتی ہے تو سارے جیل کو سر پر اٹھا لیتاہے لیکن یہاں سننے والا کون ہے؟

کالا قانون
 زیادہ قیدی چالیس ایف سی آر کے قوانین کے تحت پابند سلاسل ہیں- یہ ایک ایسا کالا قانون ہے جو انگریزوں نے ایک صدی قبل قبائلی علاقہ جات میں رائج کیا تھا۔ اس قانون کو کسی عدالت میں چیلنج بھی نہیں کیا جاسکتا۔

خیبر ہاؤس کے دونوں بیرکوں میں نوے فیصد سے زیادہ قیدی چالیس ایف سی آر کے قوانین کے تحت پابند سلاسل ہیں- یہ ایک ایسا کالا قانون ہے جو انگریزوں نے ایک صدی قبل قبائلی علاقہ جات میں رائج کیا تھا۔ اس قانون کو کسی عدالت میں چیلنج بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کی سات قبائلی ایجنسیوں میں پولیٹیکل حکام اس قانون کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں اور غیور قبائلیوں کی آزادی کو سلب کررہے ہیں۔

میرا تعلق ایک سیاسی خاندان سے ہے۔ میرے دادا مرحوم ملک ولی خان کوکی خیل کوکی خیل قبیلے کے سربراہ تھے اور انیس سو باسٹھ میں قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔ وہ میرے والد صاحب اسلام آباد میں ایک اہم سول سرکاری عہدے پر فائزہیں۔ میرے تین بچے مجھے اکثر اوقات یاد آتے ہیں۔ دوسال پہلے بھی میں اسی قسم کے الزامات میں گرفتار ہوا تھا۔ جب میں جیل سے رہا ہوا تو میں نے کئی ایسے قیدیوں کو رہائی دلانے میں اہم کردار ادا کیا جو سو فیصد بے گناہ تھے۔ ان میں ایک سندھی بھی تھا جو پانچ سال تک بغیر کسی جرم کے بند رہا۔

اس دفعہ بھی میرا مصمم اردہ ہے کہ رہا ہوتے ہی بیرک کے جو کئی بے گناہ قیدی ہیں، ان کی رہائی کے لیے انشاءاللہ ہر ممکن کوشش کروں گا۔



نوٹ: اکرم اللہ جان کوکی خیل نے یہ گفتگو ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے کی اور ان کی کہانی چھپنے کے چار دن بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ اگر آپ بھی ایسے یا اس سے ملتے جلتے حالات سے گزرے ہوں تو اپنی کہانی ہمیں براہ راست بھیج سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام شائع نہیں کریں گے۔
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد