جیل کہانی، حصہ دوئم: چودہ برس کی عمر میں جیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جیل میں تیسرا دن تھا اور اجنبیت خاصی کم ہو چکی تھی۔ میں فرضی ناموں کی مدد سے چند ساتھی قیدیوں کا تعارف کراتا چلوں۔ کالیاکی عمر تقریباً سترہ برس تھی۔ وہ نو برس کی عمر میں پہلی بار جیل آیا جس کے بعد آنا جانا لگا رہا۔ وہ معمولی نوعیت کی چوریاں کرتا تھا لیکن اب کوئی بڑا کام کرنے کا سوچ رہا تھا۔ اسے زندگی میں کوئی پچھتاوا نہیں تھا اور جیل، عدلیہ اور پولیس کے متعلق خاصی معلومات رکھتا تھا۔ گانا گانے کے علاوہ سگریٹ، شراب اور چرس پینے کا بھی شوقین تھا اور جیل میں ہردلعزیز تھا۔ منڈہ خانہ کے نمبردار کاشف کی عمر سترہ یا اٹھارہ برس تھی۔ بارہویں جماعت کا طالبعلم تھا۔ غصے میں کالج کے ایک لڑکے کو قتل کر بیٹھا تھا۔ اس کا مقدمہ تقریباً ایک برس سے زیر سماعت تھا۔ اسے اپنے کیے پر پچھتاوا تھا اور زیادہ وقت خاموش رہتا تھا۔
دلدار پہلی بار جیل آیا تھا۔ کامیابی سے ڈاکہ ڈالا اور ایک بوڑھی خاتون کو چھری سے بری طرح زخمی کر دیا تھا۔ واردات کے دوران چہرے پر نقاب نہ ہونے کے سبب پکڑ لیا گیا تھا۔ اسے اپنے کیے پر کوئی پچھتاوا نہ تھا اور رہائی کے بعد نئے عزم و حوصلے اور محتاط انداز سے یہی کام کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس نے کبھی سکول کا منہ نہ دیکھا تھا۔ کاکو خان کی عمر پندرہ یا سولہ برس تھی اور چہرے سے انتہائی معصوم نظر آتا تھا۔ چرس بیچتا تھا اور اس کام کو غیر قانونی بھی نہیں سمجھتا تھا۔ وہ واحد قیدی تھا جو میرے سامنے رہا ہوا۔ شیدی کی عمر تقریباً بیس برس تھی اور وہ منڈہ خانہ کا سب سے بڑا قیدی تھا۔ وہ اکثر و بیشتر جیل آتا تھا۔ گاڑیاں چھیننےکا کام کرتا تھا لیکن اب کوئی اور کام کرنا چاہتا تھا۔ عمر منڈہ خانہ کا سب سے کم عمر قیدی تھا۔ اس کی عمر تیرہ سال تھی۔ اس پر امنے چچا کے بیٹے کو زندہ جلانے کا الزام تھا۔ اپنے آپ کو بےقصور بتاتا تھا۔ اکثر روتا اور بڑی درد بھری آواز میں گانے گایا کرتا تھا۔ اس نے سگریٹ اور چرس بھی پینی شروع کر دی تھی۔ شکیل جیل میں پہلی دفعہ آیا تھا اور اس کی عمر سولہ سال تھی۔ اس پر ایک لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام تھا۔ وہ اس الزام کی صحت سے انکار کرتا تھا اور زیادہ تر خاموش رہتا تھا۔ اس کو اس بات کا بہت دکھ تھا کہ زیادہ تر لوگ اس کو گناہ گار سمجھتے تھے۔ اس کو جیل سے رہائی پانے کی بھی زیادہ خواہش نہیں تھی۔ سعید ایک سیاسی جماعت کا رکن تھا۔ اس کی عمر انیس برس کے لگ بھگ تھی۔ انیس سو ترانوے کے الیکشن میں اس کے ہاتھوں مخالف جماعت کا ایک کارکن ہلاک ہو گیا تھا۔ اس کو اپنے عمل پر پچھتاوا تو تھا لیکن ساتھ ہی اس بات کا دکھ بھی تھا کہ اس کی جماعت نے اس کے لئے کچھ نہیں کیا۔
یہاں کی دنیا باہر کی دنیا سے بالکل مختلف تھی یہاں پر اچھائی اور برائی کے معیار اور طرح کے تھے۔ قتل کے ملزم کو سب سے معزز سمجھا جاتا تھااور چوری اور جنسی جرم کے ملزم کو حقیر جانا جاتا۔ منڈہ خانہ میں رہنے والوں کو کچھ اور طرح کی سہولیات بھی میسر تھیں جن میں ان کو مفت چرس مہیا کی جاتی تھی۔ وہاں پر مامور پولیس والے بھی اس سے بخوبی واقف تھے بلکہ بعض تو کبھی کبھی قیدیوں کے ساتھ مل کر چرس بھی پیتے تھے۔ جیل کے جمعدار (جیل کے انچارج) کو بھی سب کچھ پتہ تھا اور وہ جب کسی کو چرس کا سگریٹ پیتے یا بناتے دیکھتا تو پنجابی میں ایک جملہ کہا کرتا تھا جس کو ہم سلیس اردو میں اس طرح بیان کر سکتے ہیں۔ ’تھوڑی سے چرس لے کر لوگوں کو نہ دکھایا کرو اور سائیڈ پر بیٹھ کر پیا کرو‘۔ جیل میں جو کھانا دیا جاتا تھا وہ میں نے کسی کو کھاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ کھانا کیا تھا بس بڑے سے برتن میں سرخ رنگ کے پانی کی ایک تہہ جمی ہوتی تھی اور اس کے پیندے میں جو کچھ ہوتا تھا، اس کو جیل کا عملہ دال کا نام دیتا تھا۔ کچھ قیدی جیل والے سالن کو پانی کا تڑکا لگا کر اس کو کھانے کے قابل بنا لیتے تھے۔ زیادہ تر قیدی اپنا سالن خود بناتے تھے۔ البتہ جو روٹیاں دی جاتی تھیں وہ کھانے کے قابل ہوتی تھیں۔ ہر قیدی کو ایک روٹی دی جاتی تھی۔ صبح کے ناشتے میں روٹی کا چوتھائی حصہ اور اور ایک نیم سیاہ محلول ہوتا تھا جس کو جیل کا عملہ چائے کا نام دیتا تھا۔
جیل کا جمعدار اکثر منڈہ خانہ آتا اور لڑکوں کی تلاشی لیتا تھا۔ اگر کچھ روپے نکل آتے تو رکھ لیتا اور اگر کوئی اعتراض کرتا تو اس کو چکی میں بند کردیتا۔ چکی جیل کے اندر چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں انسان بمشکل لیٹ سکتا تھا۔ اس میں ان قیدیوں کو رکھا جاتا تھا جن سے جمعدار صاحب کی نہیں بنتی تھی یا جو لڑائی جھگڑا کرتے تھے۔ مغرب کے بعد سب قیدیوں کو بیرکوں میں بند ہونے کا کہا جاتا تھا۔ اس کو جیل کی زبان میں گنتی بند کرنے کا عمل کہتے تھے اور باہر سے تالا لگا دیا جاتا تھا۔ منڈہ خانہ چونکہ ایک چھوٹے سے کمرے پر مبنی تھا، اس لئے اس میں سونے میں انتہائی مشکل پیش آتی تھی۔ اس پر مزید یہ کہ جیل اہلکاروں کا حکم تھا کہ آپس میں فاصلہ رکھ کر سویا جائے۔ جب سونے کی جگہ کچھ کم پڑ جاتی تو کچھ لوگ رضاکارانہ طور پر رات تاش کھیل کر اور چرس پی کر جاگ کر گزارتے تھے اور پھر دن کو نیند پوری کرتے تھے۔ جیل میں ویسے تو ہر طرح کے قیدی موجود تھے مگر میری دلچسپی ان قیدیوں کے ساتھ زیادہ تھی جن کے کیس کی نوعیت مجھ سے ملتی تھی۔ جیل میں پتہ چلا کہ وہاں پر بہت سے ایسے قیدی ہیں جن کا باپ یا بیٹا کسی کیس میں مطلوب ہے اور ان کی عدم دستیابی پر ان کو پکڑ کر جیل میں ڈال دیا گیا۔ جیل میں فجر کی نماز کے بعد قیدیوں کے لئے ایک مولانا صاحب جیل کی ایک مسجد میں ایک اصلاحی درس بھی دیا کرتے تھے۔ لیکن اس میں وہی لوگ جایا کرتے جو پہلی مرتبہ جیل کے مہمان بنے تھے۔
جیل کی بی کلاس چونکہ مسجد کے ساتھ تھی، اس لئے جب میں نماز پڑھنے جاتا تو وہاں میری ملاقات ایک شخص سے ہوتی جو مجھ سے اکثر ہمدردی جتایا کرتا تھا۔ وہ جیل کا سب سے بارسوخ قیدی تھا۔ وہ ایک مشہور ڈاکو کا بھائی تھا اور اس پر بیس مقدمے قائم تھے۔ وہ اپنی رہائی کے لئے بہت پرامید تھا۔ وہ اکثر اپنے ساتھ ہونے والے پولیس مقابلوں کے قصے سنایا کرتا تھا۔ اس کا دعوی تھا کہ وہ نواز شریف سے بھی ملاقات کر چکا ہے۔ جیل میں قیدیوں کی واحد تفریح ریڈیو تھا۔ عید کے دنوں میں ان کو ٹیپ رکھنے کی بھی اجازت ہوتی تھی۔ شام کو کچھ قیدی والی بال کھیلا کرتے تھے۔ جب قیدیوں کی لڑائی ہوا کرتی تھی تو ان کو لترکی سزا دی جاتی تھی۔ لتر ایک خاص قسم کی چیز ہوتی ہے جس کو لکڑی کا ایک دستہ لگا ہوتا ہے۔ دستے کے ساتھ آدھی فٹ چوڑائی اور ایک فٹ لمبائی کا ٹائیر کا ربر لگا ہوتا ہے اور ہر جیل میں اس کی ہئیت مختلف ہوتی ہے۔ لتر کی سزا کے موقع پر تمام قیدیوں کو بلایا جاتا تھا۔ دیکھنے والوں کی دلچسپی صرف اس بات میں ہوتی تھی کہ کوئی قیدی کتنے لتر بغیر چیخے چلائے کھا سکتا ہے۔ کبھی کبھار اس بات پر ان کی شرط بھی لگ جاتی تھی۔ میں نے بیس سے زیادہ لتر کھاتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا لیکن بعض لوگوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ستر تک خاموشی سے برداشت کر لیتے تھے۔
میرے گھر والے مسلسل میری رہائی کے لئے کوشاں تھے اور میری ضمانت بھی ہو گئی تھی۔ لیکن مجسٹریٹ کا اصرار تھا کہ جب تک میرے والد صاحب واپس آ کر پیش نہیں ہوں گے، اس وقت تک مجھے جیل سے رہا نہیں کیا جائے گا۔ لیکن میری قسمت نے میری یاوری کی اور مغرب کے وقت مجھے جیل سے رہا کر دیا گیا۔ جس شخص کے اغوا میں میرے والد صاحب کو نامزد کیا گیا تھا، اس کو آرمی کی ایک ایجنسی تفتیش کے لئے اٹھا کر لے گئی۔ اس پر الزام تھا کہ اس کے پاس راء کی کوئی خاتوںن ایجنٹ ٹھہری رہی ہے۔ بعد ازاں وہ بے قصور ثابت ہوا مگر زبان بند رکھنے کی صورت میں اس کو چھوڑ دیا گیا تھا اور اس طرح میرے والد کی اس مقدمہ سے جان چھوٹی۔ آج اس واقعہ کو دس سال بیت چکے ہیں۔ میرے اندر جیل جانے کا خوف جاتا رہا ہے مگر میں آج بھی کچھ سوالوں کے جواب نہیں ڈھونڈ سکا ہوں: کیا ایجنسوں کو اس بات کا پابند نہیں کیا جا سکتا کہ وہ جب وہ کسی بھی علاقے سے کسی شخص کو حراست میں لیں تو کم از کم متعلقہ تھانہ کو یہ ہدایت کر دیں کہ اس کی گمشدگی کے بارے میں کسی قسم کی کوئی ایف آئی آر نہ کاٹی جائے؟ کیا مذاہب اور دنیا کے قوانین میں اس بات کی گنجائش ہے کہ اگر ملزم یا مجرم دستیاب نہ ہو تو اس کے قریبی عزیز کو پکڑ لیا جائے؟ انسانی حقوق کی تنظیمیں یہ مسئلہ کیوں نہیں اٹھاتیں۔ یہ بات دوسری ہے کہ جیل کے اندرونی حالات جیل سے باہر کے حالات سے کون سے اچھے ہیں جو ان کی بات کی جائے۔ نوٹ: اس کہانی کے راوی کا نام ان کی درخواست پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اگر آپ بھی ایسے یا اس سے ملتے جلتے حالات سے گزرے ہوں تو اپنی کہانی ہمیں براہ راست بھیج سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام شائع نہیں کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||