فراڈ کرنے والا مزے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مجھے فراڈ کے ایک بے بنیاد کیس میں گرفتار کیا گیا ہے حالانکہ دھوکہ میرے ساتھ ہوا ہے۔ جس نے فراڈ کیا ہے وہ باہر مزے کر رہا ہے لیکن پولیٹکل انتظامیہ نے مجھے اندر کردیا ہے۔ میں پرسٹن یونیورسٹی اسلام آباد میں کمپیوٹر انجنیرنگ میں زیر تعلیم رہا ہوں۔ چند ماہ قبل اسلام آباد میں آزربائیجان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے بھائی کومیں نے انگلینڈ کا ویزہ لگوا کر دیا جس کے بدلے اس نے مجھے چھ لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا لیکن کام ہونے کے بعد وہ اپنے وعدے سے پھر گیا اور مجھے پیسے نہیں دیئے۔ اس کے بعد میں نے کسی طریقے سے اس کی گاڑی حاصل کر لی اور حیات آباد پشاور میں ایک دوست کے ہاں کھڑی کر لی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ گا ڑی اسلام آباد میں رینٹ اے کار کی ایک کمپنی کی ہے۔ کمپنی والوں نے مجھے فون کیا اور کہا کہ گا ڑی ہماری ہے اور آزربائیجانی کرائے پر لے کر گیا تھا۔ میں نے انھیں بتایا کہ گاڑی پشاور میں کھڑی ہے اگر آپ لوگوں کی ہے تو واپس کر دیتا ہوں۔ اس طرح میں کمپنی کے مالک کو لیکر پشاور آگیا۔ کمپنی کے مالک نے مجھے کہا کہ خیبرایجنسی میں اس کا دوست رہتا ہے پہلے ان سے ملتے ہیں بعد میں گاڑی حیات آباد سے لے لیں گے۔ مجھے تو قبائلی علاقہ کے بارے میں علم نہیں تھا کیونکہ میں تو پہلی دفعہ یہاں آیا تھا۔ وہ مجھے سیدھا معاون پولیٹکل ایجنٹ کے دفتر جمرود لےگیا اور وہاں مجھ پر الزام لگایا کہ میں نے انکی گا ڑی چرائی ہے۔ میں نے اے پی اے کو سارا قصہ سنایا اور اسے کہا کہ میں تو گاڑی واپس کرنے آیا ہوں لیکن کمپنی کا مالکمعاون پولیٹکل ایجنٹ کا دوست تھا۔ اے پی اے نے ہمارے ساتھ خاصہ داربھجوائے اور میں نے گاڑی مالک کو واپس کر دی۔ وہ اس میں بیٹھ کر اسلام آباد چلاگیا اور مجھے بعد میں تحصیلدار جمرود کے حوالے کیا گیا۔ میں نے جب اسے بتایا کہ میں فلسطینی طالب علم ہوں تو اس نے خاصہ داروں کو حکم دیا کہ اس کو مارو۔ خاصہ داروں نے مجھے بلاوجہ مارنا شروع کیا اور میرے اوپر چار ڈنڈے توڑے جس سے میں لہولہان ہوگیا۔ مجھے جیل میں تقریباً تین مہینے سے زیادہ ہوگئے ہیں۔ پہلے میں جمرود جیل میں تھا بعد میں لنڈی کوتل اوراب خیبرہاؤس منتقل کردیاگیا ہوں۔ بنیادی طورپر ہم فلسطین کے رہنے والے ہیں لیکن مجھے اردن کی شہریت بھی حاصل ہے۔ میری عمر اٹھارہ سال ہے اور ہم کئی سال تک سعودی عرب میں رہے ہیں۔ میرے والد صاحب مدینہ منورہ میں قبلتین مسجد میں منیجر تھے۔ دس سال قبل ہم سعودی عرب سے پاکستان منتقل ہوگئے اور پشاور کے حیات آباد میں سکونت اختیار کر لی۔ اس دوران میرے والد صاحب نے انجینیئرنگ یونیورسٹی لاہور سے ڈگری حاصل کی اور لاہور ہی میں حریر خشان غنام عمرو پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام سے پنیر کی ایک کمپنی کھولی۔ دوسال قبل میری ماں اور بہن بھائی اردن چلے گئے جبکہ والد صاحب چودہ اگست دو ہزار تین کو کسی کام کے سلسلے میں متحدہ عرب امارات چلے گئے تھے اور ابھی تک واپس نہیں آئے۔ میری گرفتاری کے بارے میں، میرے والدین اور گھر کے کسی اور فرد کو علم نہیں۔ میں یہاں سے کوشش کر رہا ہوں کہ کسی طریقے سے اسلام آباد میں اردن کے سفارتخانے میں اطلاع کر دوں لیکن ابھی تک رابط نہیں ہوسکا ہے۔ جمرود جیل میں انٹلیجنس والوں نے پندرہ دن مجھ سے تحقیقات کیں اور پھر سپیشل برانچ کے حوالے کیا جنھوں نے پیدائش سے لیکر اب تک کے حالات کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ کوئی مارپیٹ یا تشدد نہیں کیا بلکہ بڑی عزت سے پیش آئے۔ تحقیقاتی اداروں کو جب میں نے قصہ سُنایا تو ان سب کی یہ رائے تھی کہ مجھے بے گناہ گرفتار کیاگیا اور جلد رہا ہو جاؤں گا لیکن ابھی تک تو میں جیل ہی میں ہوں۔ اگر مجھ سے تفتیش ہونی تھی تو اسلام آباد یا پشاور میں ہونی چاہئے تھی کیونکہ گاڑی اسلام آباد کی تھی اور پشاور میں کھڑی تھی یہ خیبرایجنسی درمیان میں کہاں سے آگئی؟ میں نے خیبر ایجنسی کی حدود میں کوئی جرم نہیں کیا لیکن میرے خلاف کیس قبائلی علاقہ جات میں رائج قوانین کے مطابق چل رہا ہے اور یہ بات میری سمجھ سے بالکل باہر ہے۔ میری سکولنگ پشاور اور اسلام آباد میں ہوئی ہے اس لیے مجھے پشتو، اردو اورفارسی بھی آتی ہے جبکہ عربی میری مادری زبان ہے۔ میں اب تک خیبرایجنسی کی تین جیلوں میں رہ چکاہوں۔ میں نے معلوم کیا ہے کہ ان جیلوں میں اکثریت بےگناہ قیدیوں کی ہے جو معمولی معمولی جرائم میں بند ہیں۔ میری تو اب یہی بڑی خواہش ہے کے کسی طریقے سے میرے گھر والوں کو میرے بارے میں معلوم ہوجائے اور مجھے یہاں سے نکال لے جائیں۔ نوٹ: جیل کہانی قیدیوں کی آپ بیتیوں اور حالات پر مشتمل ایک سلسلہ ہے جو جمعرات پانچ اپریل سے بی بی سی اردو سروس کے پروگرام سیربین پر ہر ہفتے پیر، منگل اور بدھ کے روز نشر کیا جائے گا۔ محمد احمد خشان نے اپنی یہ کہانی اسی سلسلے میں ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی کو سنائی۔ اگر آپ بھی ایسے یا اس سے ملتے جلتے حالات سے گزرے ہوں تو اپنی کہانی ہمیں براہ راست بھیج سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام شائع نہیں کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||