BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 February, 2004, 14:40 GMT 19:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اندھیری دنیا: مرغی لائے ہو؟

عبدالشکور
عبدالشکور
ٹافی لے لو، بِسکٹ لےلو، بالٹلی والا، جگ گلاس والا، لوٹے پتیلے لے لو، ٹرین کے ڈبوں میں آوازیں لگاتے ہوئے اِدھر سے اُدھر ایک ڈبے سے دوسرے ڈبے کی طرف آتا جاتا تھا اور میری آنکھیں بھی نہیں تھیں۔ شروع میں تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا اس کے بعد مشکلات کا عادی ہوگیا اور صبح سے شام تک یہی کرتا۔ ان دنوں میں اکیلا رہا کرتا تھا۔ والدین سے پہلے میں کچھ رشتہ داروں کے ساتھ پاکستان آگیا تھا۔

ہم ایک جہاز سے چکوال ہوائی اڈے پر اترے، پھر کراچی کے لئے ٹرین میں بیٹھ گئے، کسی نے ٹکٹ نہیں مانگا، مگر ٹرین میں سے میری کپڑوں کی تھیلی کوئی لےگیا، میں روتا رہا کہ میرے کپڑے چلے گئے۔ کراچی ریلوے اسٹیشن پر اترا اور وہیں ایک تخت پر سوگیا، سخت نیند میں تھا۔ ایک آدمی نے کہا کہ اٹھو یہ تمہارے باپ کی جگہ نہیں ہے۔ اٹھا، روتا ہوا کیونکہ میں اکیلا ہوگیا تھا۔

ان صاحب نے پوچھا: ’ کہاں سےآئے ہو؟‘ بتایا کہ دلی سے آیا ہوں اور میرے والد کا نام یہ ہے، وہ بھارت کے شہر ممبئی میں دودھ کا کام کرتے ہیں۔ بس ہونا کیا تھا اُنہوں نے مجھ کو گلے لگایا اور کہاں کہ تم میرے بہت اچھے دوست کے بیٹے ہو۔ پھر وہ اپنے گھر لے گئے اور پوچھا کہ کیا کرسکتے ہو؟ میں نے ریلوے میں نوکری کی خواہش کی، مگر تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا تو انہوں نے کہا کہ تم ٹرین میں کچھ چیزیں بیچنا شروع کردو، پھر اُس دن سے میں نے یہ کام شروع کیا اور اپنا پیٹ پالنے لگا۔ کرائے کے گھروں میں رہتے ہوئے کبھی اِدھر، کبھی اُدھر۔ کھارادر کے علاقے میں صبح اسکول جاتا اور دوپہر بارہ بجے کے بعد ٹرین میں ٹافیاں بیچا کرتا تھا، پھر شام کو گھر چلاجاتا۔

ایک دن پلنگ پر سورہا تھا کسی نے اٹھایا اور کہا تمہارے والد نے تمہیں ملتان بلایا ہے، وہ ملتان میں رہتے ہیں۔ میں اُن سے ملنے گیا اور اُس شہر میں جی نہ لگنے کی وجہ سے میں دوبارہ کراچی آگیا کیونکہ یہ ایک بڑا شہر تھا اور بچپن سے ہی میں اپنا شکار مارنے کا عادی تھا۔ اسی وجہ سے چاہتا تھا کہ اس جگہ رہوں جہاں میں آسانی سے کماکر اپنا پیٹ پال سکوں۔ ہم نے سنا ہے کہ والدین کی خدمت کرنی چاہئے تو پیسے جمع کر کے ان کو بھی بھیجنا چاہئے مگر انہوں نے میری بھیجی ہوئی رقم واپس کردی۔

 اس وقت میں بغیر چھڑی کے چلتا تھا۔ کیونکہ اس وقت تک یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ آنکھیں بھی کوئی چیز ہوتی ہیں اور لوگوں کو باہر کچھ دکھائی بھی دیتا ہے۔ بس آہستہ آہستہ معلوم ہوا۔
عبدالشکور

ہم پلیٹ فارم کے باہر سے ٹرین میں چڑھتے تھے، کیونکہ پلیٹ فارم سے چڑھنا منع تھا۔ غیر قانونی طریقے سے ہم پلیٹ فارم کے باہر سے داخل ہوتے اور اگر کوئی پکڑلیتا تو ہمیں کہتا کہ اگلی بار سگریٹ کا پیکٹ لیکر آنا یا دوسرے شہر سے مرغی لیکر آنا۔ کوئی کہتا کہ تمہیں کئی بار پکڑلیا ہے، تم کچھ لیکر نہیں آتے اس بار تم گائے کا بچھڑا لیکر آنا۔

اُس زمانے میں پندرہ روپے کا خرچ کرنا ایک مشکل کام تھا، مگر اب ٹرین میں کمانے کے لئے کچھ کرنا تھا۔ پندرہ روپے جمع کیے اور دوسرے شہر سے آتے ہوئے گائے کا بچھڑا لیتے ہوئے آیا۔ کوئی بھی یہ خیال نہیں کرتا تھا کہ میری آنکھیں نہیں ہیں۔ سب کے ساتھ برابر کا رویہ اختیار کیا ہوا تھا۔ اس کے بعد والی نسل نے خیال کرنا شروع کیا۔ وہ اس طرح نہیں کیا کرتے تھے، تو ہم نے آرام سے کام کرنا شروع کیا اور پھر ہم ٹرینوں میں چیزیں بیچنے کے ماہر ہوگئے تھے، یہاں سے وہاں آرام سے گھوم لیا کرتے تھے۔

اس وقت میں بغیر چھڑی کے چلتا تھا۔ کیونکہ اس وقت تک یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ آنکھیں بھی کوئی چیز ہوتی ہیں اور لوگوں کو باہر کچھ دکھائی بھی دیتا ہے۔ بس آہستہ آہستہ معلوم ہوا۔ میں جب لوگوں سے ٹکراتا تو وہ کہتے کیسے آدمی ہو؟ میں کہتا آپ جیسا ہی ہوں، وہ کہتے کہ دیکھ کر نہیں چلتے؟ تو میں پوچھتا کہ کیا آپ مجھ سے مختلف ہیں، تو جواب ملتا کہ ہاں ہماری آنکھیں ہیں اور ہم دیکھ کر چل سکتے ہیں، بغیر کسی سے ٹکرائے اس طرح آہستہ آہستہ مجھے معلوم ہوا کہ دوسرے لوگ مجھ سے مختلف ہیں۔

اس سے پہلے میں سمجھتا تھا کہ تمام لوگ میرے ہی طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک خوش نصیبی یہ رہی کہ مجھے کسی نے اندھا ہونے کا احساس بھی نہیں دلایا مگر لوگوں کی ٹھوکریں کھا کھاکر مجھے معلوم ہوا کہ کچھ چیز مجھ میں اور عام انسانوں میں مختلف ہیں۔

شادی ہوئی تو میں نے کچھ نہیں دیکھا، مگر میری بیگم مجھے بتاتی کہ یہ چیز ایسی ہوتی ہے، یہ ویسی ہوتی ہے۔ آج تک وہ میرا بہت خیال کرتی ہیں، خیال کرنے کے لئے آج میری چھ بیٹیاں اور تین بیٹے بھی ہیں مگر ان کی اپنی زندگی ہے اور ہماری خود کما کر کھانے کی عادت نے ہی آج ہم کو یہاں لاکر کھڑا کردیا۔

1949ء سے 1991ء تک ٹرین میں ٹافیاں بیچیں، آج بھی بیچ سکتا ہوں مگر حکومت نے بیچنے والوں پر پابندی لگادی ہے اور ٹرین کے ڈبے ٹھیکوں پر دے دیے، جن کو روزانہ سو روپے دینا پڑتے ہیں۔ اسٹیشن پر تو آمدنی نہیں تھی، تو کہاں سے دوں؟

یہاں تو لوٹے اور ٹافیاں بیچنے کا کام بند کروادیا، مگر نابیناؤں کے لئے بیت المال سے کچھ خرچ نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی دوسرا روزگار فراہم کیا گیا کیونکہ یہاں جو آتا ہے وہ اپنی جیب بھر کر جاتا ہے کسی دوسرے کی نہیں۔


نوٹ: یہ آپ بیتی عبدالشکور نے کراچی میں ہمارے نمائندے محمد ارسلان کو رقم کروائی۔ اگر آپ بھی ایسے ہی حالات سے دوچار ہیں یا کبھی رہے ہیں، تو ہمیں اپنی کہانی کم سے کم الفاظ میں لکھ کر بھیجئے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد