بس اِک آس ہے۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک تو عورت ہونا اور وہ بھی نابینا، اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں مجبوریاں ہی مجبوریاں ہیں۔ میری پیدائش کے ڈیڑھ سال بعد والدہ اور چار سال بعد میرے والد کا انتقال ہوا۔ اس کے بعد ماموں اور نانا نے پرورش شروع کی۔ ہم دو بہن بھائی تھے، بڑا بھائی پاکستان میں اور میں بھارت میں اپنے ماموں اور نانی کے پاس رہتی تھی۔ ان تمام لوگوں کا میرے ساتھ ایسا رویہ تھا جیسے کہ میں نابینا نہ تھی۔ ماموں مجھے چڑیا گھر لے جاتے، جادوگھر، میوزیم، پارک اور سنیما تمام جگہ گھماتےاور مجھے بتاتے کے یہ چڑیا ہے، یہ بندر ہے اور مجھ سے پوچھتے کہ یہ تصویر کیسی ہے؟ جب سنیما میں فلم دیکھنے جاتی تو ہر چیز کو محسوس کرتی، پوری پوری فلموں کے مکالمے یاد کرلیا کرتی تھی اور گھر آ کر دوسرے لوگوں کو سنایا کرتی تھی۔ میں کپڑے پسند کرنے میں مہارت رکھتی ہوں۔ جارجٹ کو ہاتھ میں لے کر پہچان لیتی ہوں کہ اچھی والی ہے یا خراب والی مگر زندگی گزارنا ایک مشکل کام یوں تھا کہ ماں باپ سر پرنہ تھے اور بھائی پاکستان میں تھا۔ 1981ء میں بھائی نے کوشش کر کے مجھے کراچی بلوایا۔ بھارت میں ایئرپورٹ پر ماموں، رشتہ دار اور پڑوسی چھوڑنے آئے اور جہاز میں بٹھا دیا۔ لیکن جب کراچی پہنچی تو بھائی نے ہوائی اڈے پر ہی مجھ سے کہا کہ اپنی بھابھی کے ساتھ کوئی اونچ نیچ نہ کرنا۔ یہ سن کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی کیونکہ میں نابینا تھی اور بھائی نے ماموں اور دوسرے رشتہ داروں سے دور بلوایا اور اب کہہ رہے ہیں کہ تمھاری بھابھی ایسی ہے تو اس سے الجھنا نہیں۔ بھابھی کو مجھ سے ڈر یہ تھا کہ یہ میری نند ہے، گھر پر حکمرانی کرے گی تو پہلے ہی اپنے شوہر کو سمجھا دو جس کے بعد میرے بھائی نے بیوی کا ہی کہا مانا۔ میں نے زندگی گزارنا شروع کی مگر زندگی تھی کیا؟ کراچی میں بس گھر میں کھانا مل جاتا تھا، وہ تو کسی جانور کو بھی مل جاتا ہے۔ چار سال بعد جب میں نابیناؤں کے اسکول میں چارپائی بننے کی کلاس لینے گئی تو وہاں میرے ایک استاد نے بتایا کہ وہ یہاں اکیلے ہیں اور ان کے تمام رشتہ دار مدراس میں ہیں۔ میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اگر یہ بیمار پڑ جائیں تو ان کا کون خیال رکھے گا؟ میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھ سے شادی کریں گے تو وہ راضی ہوگئے۔ ہماری شادی 1985ء میں ہوئی۔ انہوں نے ہمیشہ میرا خیال کیا، مجھ سے محبت کی، اخلاق سے پیش آئے اور کبھی کوئی دکھ نہیں دیا۔ 1990ء میں ان کی طبیعت خراب ہوئی اور ان کی تیمارداری کرتے ہوئے میں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہماری دو بیٹیاں تھیں۔ میں بچوں کو سنبھالتی اور شوہر کی خدمت کرتی۔ گھر کے تمام کام کرتی لیکن سب سے زیادہ دشواری مجھے روٹی پکانے میں ہوتی جو میں آج بھی نہیں پکا سکتی۔ بس گزارا کر لیا زندگی میں۔ مگر اب تو بیٹیاں اتنی بڑی ہیں کہ وہ میری تمام مشکلات کی ساتھی ہیں کیونکہ سڑک پر چلنا آج تک بھی ایک مشکل کام ہے۔ اس لئے اپنی کسی نہ کسی بیٹی کو ساتھ رکھتی ہوں۔ زندگی میں صرف اپنے شوہر کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔ انہوں نے دولت نہیں دی، گھر نہیں دیا مگر اتنی محبت دی کہ مجھے زندگی میں ان کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ ان کا انتقال 1992ء میں ہوا جب دونوں بیٹیاں چھوٹی تھیں۔ آج بھی انہیں یاد کر کے آنکھیں بھر آتی ہیں۔ وہ مجھ سے بہت محبت کرتے تھے۔ اِن دنوں زندگی گزارنا خاصا مشکل کام ہے کیونکہ ذریعہ معاش کچھ نہیں اور نابینا ہونے کی وجہ سے کر بھی کچھ نہیں سکتی۔ بس حکومت سے ایک آس ہے کہ وہ بچوں کے لئے کچھ کردے مگر سرکاری اداروں میں دھکے کھاتے کھاتے اب میری عمر پچاس سال ہوچکی ہے اور حاصل کچھ نہیں ہوا۔ نوٹ: یہ آپ بیتی حنیفہ خاتون نے کراچی میں ہمارے نامہ نگار محمد ارسلان کو رقم کروائی۔ اگر آپ بھی ایسے ہی حالات سے دوچار ہیں یا کبھی رہے ہیں، تو ہمیں اپنی کہانی کم سے کم الفاظ میں لکھ کر بھیجئے۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام نہیں شائع کریں گے |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||