BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 January, 2004, 15:31 GMT 20:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عورت کہانی: میں سائرہ کو نہیں بھلا سکتی

عورت کہانی: میں سائرہ کو نہیں بھلا سکتی
عورت کہانی: میں سائرہ کو نہیں بھلا سکتی

متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے سرحد اسمبلی میں اپوزیشن کو کھڈے لائن لگا دیا ہے حالانکہ ہم نے مخالفت برائے مخالفت سے بچنے اور صوبےکی ترقی کے لیے ان کےساتھ ہر وقت تعاون کیا اور آئندہ بھی کر ینگے لیکن لگتا ہے ان کی حکومت ناکام ہوگئی ہے۔

ذاتی فعل

 ہمیں اس سے کیا غرض اگر کوئی فلم دیکھتا یا موسیقی سنتا ہے؟ یہ تو ان کا ذاتی فعل ہے

ایم ایم اے کی ناکامی کی وجہ بھی یہی ہے کہ انہوں نے اہم مسائل کو ایک طرف رکھکر غیر اہم چیزوں کو پکڑ لیا ہے۔ ہمیں اس سے کیا غرض اگر کوئی فلم دیکھتا یا موسیقی سنتا ہے؟ یہ تو ان کا ذاتی فعل ہے لیکن اگرکوئی بے روزگار ہے، غریب کو روٹی میسر نہیں، منہگائی بڑھ رہی ہے اور امن وامان کی حالت خراب ہے تو ہمیں اس پر لازمی توجہ دینا ہوگی کیونکہ انہی لوگوں نے ہمیں منتحب کیا ہے اور انہی کے مسائل کے حل کے لیے ہمیں آواز بلند کرنی ہے۔ جہاں تک مخالفت کا سوال ہے تو میرے خیال میں اپوزیشن کے بغیر جمہوریت چل ہی نہیں سکتی بلکہ جمہوریت کا حسن ہی مخالفت میں مضمر ہے۔

خواتین کے حوالے سے اس حکومت کی پالیسیاں بالکل غلط ہیں۔ میں خود ایک سوشل ورکر رہ چکی ہوں۔ مجھےپتہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کے کتنے مسائل ہیں۔ میں نے اپنی عمر کا زیادہ تر حصہ ملک میں ہونے والے ترقیاتی سکیموں سے منسلک ہوکر گزارا ہے اور مجھے معلوم ہے کہ ہماری عورتیں کتنی کسمپری کی زندگی گزار رہی ہیں۔

میری پیدائش صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع کرک میں انیس سو پچپن میں ہوئی۔ چونکہ میر ے والد ایک سرکاری ملازم تھے اسی وجہ سے میری ابتدائی تعلیم ملک کے بڑے بڑے شہروں میں ہوئی۔ بی اے کرنے کے بعد میں سروس میں آگئی لیکن پھر میں نے انیس سو چوراسی، پچاسی میں دو سال کی چھٹی لی اور اس دوران سوشل ورکس کے مضمون میں ایم اے کیا۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں مختلف بین الاقوامی غیر سرکاری اداروں کے ساتھ منسلک رہی اور اس دوران کافی تجربہ حاصل کیا۔ بچپن سے مجھے سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں تھی حالا نکہ میرے خاندان کا سیاست سے تھوڑا بہت واسطہ رہا تھا لیکن عملی سیاست میں کوئی نہیں تھا۔ نوکری کے دوران سرکاری افسران سے اکثر اوقات ملاقاتیں ہوتی تھیں جس سے مجھے سیاست سے ایک لگاؤ پیدا ہوا۔ آفتاب احمد خان شیرپاؤ سے جو ہماری پارٹی کے چیئرمین بھی ہیں اور دو دفعہ سرحد کے وزیراعلی بھی رہ چکے ہیں، اکثر اوقات ملاقات ہوتی تھی۔ ان سے کچھ مراسم بڑھے اور مجھے پی پی پی شیرپاؤ کا منشور بھی اچھا لگا تو میں نے اس پارٹی میں شمو لیت اختیار کر لی۔

اس سے پہلے میں کونسلر بھی رہ چکی تھی۔ میں نے عوام کے حقیقی مسائل بالخصوص عورتوں کے مشکلات کا مشاہدہ کونسلر بننے کے بعد کیا۔ جب تک خواتین کو منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا ان کے بڑھتے ہوئے ان گنت مسائل کبھی حل نہیں ہونگے کیونکہ ایک عورت ہی دوسری عورت کے مسائل بہتر طریقے سے سمجھ سکتی ہے۔

یہ بھی غلط نہیں کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ تعلیم کی کمی ہے۔ اس قسم کے واقعات دیہی علاقوں سے رپورٹ ہورہے ہیں جہاں پر تعلیم کی شدید کمی ہے۔ یہ تشدد بھی دو قسم کا ہے جسمانی اور جنسی۔ کچھ قوانین بھی اس طرح بنے ہیں جو امتیازی ہیں جیسے حدود آرڈینینس جو ابھی تک ایک متازعہ قانون ہے اور جو عورت کی حیثیت کو کم کر رہا ہے۔ اس قسم کے قوا نین کا از سر نو جائزہ لینا ضروری ہے۔ تاہم ہمارے پختون معاشرے میں جہاں عورتوں کے مسائل ہیں وہاں ان کو قدر کی نگاہ سے بھی دیکھا جاتا ہے۔ میں نے بیس سال تک مردوں کے ساتھ کام کیا ہے اور میرے ساتھ کام کرنے والوں نے ہمیشہ میری عزت کی ہے۔

پانی

 اس نے بتایا کہ یہ زخم لوہے کے بنے ٹین سر پر پانی بھر کر لانے سے ہوئے ہیں۔ سائرہ تین کلومیڑ دور سے پانی بھر کر لاتی تھی۔

زندگی میں مختلف قسم کے واقعات پیش آتے ہیں۔ ان میں بعض ایسے ہوتے ہیں جو ذہن پر نقش ہوجاتے ہیں۔ اسی قسم کا ایک واقعہ میرے ساتھ ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آیا جہاں ہم ایک واٹر سپلائی سکیم پر کام کر رہے تھے۔ اس علاقے میں پانی کی شدید قلت تھی۔ عورتیں دور دور سے پانی بھر کر لاتی تھیں اور جو پانی ان کو میسر تھا وہ بھی صاف نہیں تھا اور مضرِ صحت تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک دس سالہ خوبصورت بچی جس کا نام سائرہ تھا اس کے سر پر ایک گہرا لال زخم تھا جس پر بال نہیں تھے۔ میں نے قریب کھڑی بچی کے ماں سے پوچھا کہ اپ لوگ اس بچی کا علاج کیوں نہیں کرتے؟ یہ پوچھنا ہی تھا کہ ماں کی آنکھوں سے آنسو فوارے کی طرح پھوٹنے لگے۔ میرے اصرار پر اس نے بتایا کہ یہ زخم پانی سے بھرے لوہے کے ٹین سر پر رکھ کر لانے سے ہوئے ہیں۔ سائرہ تین کلومیڑ دور سے پانی بھر کر لاتی تھی۔ میں نے انکو بچی کا علاج کرنے کے لیے کچھ پیسے دیئے لیکن سائرہ کا وہ معصومیت سے بھرا چہرہ میں کبھی نہیں بھول سکتی۔


نوٹ: نسر ین خٹک نے یہ گفتگو ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے کی۔ اگر آپ بھی اپنی آپ بیتی ہمارے قارئین تک پہنچانا چاہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد