عورت: ہمارے پاس اختیارات کہاں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج کل کے ایم پی اے کے پاس کیا اختیارات ہیں؟ ہمارے اختیارات تو ضلعی اور یونین کونسل ناظمین میں تقسیم ہوکر رہ گئے ہیں۔ مرحوم ضیاءالحق کے دور میں ممبران اسمبلی کو جواختیارات حاصل تھے اسکی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ سرحد میں تو وزیراعلٰی بھی بےاختیار ہیں کیونکہ ایک چھوٹی سی بات پرچیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو تبدیل کردیا گیا۔ سارے اختیارات مرکز کے پاس ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ انیس سو پچاسی میں جب میں پہلی دفعہ سرحد اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی تو اس وقت ملک میں مارشل لاء تھا لیکن ممبران تمام اختیارات کے مالک ہوا کرتے تھے۔ عوام کے مسائل بھی حل ہوتے تھے اور ضلعی انتظامیہ بھی منتخب نمائندوں سے خوف کھاتی تھی لیکن اب تو ایم پی اے کی کوئی حیثیت ہی نہیں، کوئی ان کو نہیں پوچھتا۔ میں بنیادی طور پر ڈاکٹر ہوں اور میرا تعلق پشاور سے ہے۔ میرے شوھر پاک فوج میں میجر رہ چکے ہیں۔ میں نے پہلی دفعہ انیس سو انہتر میں کنٹونمنٹ بورڈ کا الیکشن لڑا۔ اس وقت میرا مقابلہ بیگم شیریں وھاب سے تھا جو قائداعظم کی ساتھی رہی تھیں اور کسی زمانے میں وزیر بھی رھیں۔ میں نے وہ انتخابات جیت کر عملی سیاست میں قدم رکھا لیکن مسلم لیگ میں شمولیت انیس سو پچاسی میں صوبائی اسمبلی کی رکن منتخب ہونے کے بعد کی۔ اس کے بعد سے میں سرحد میں مسلم لیگ خواتین ونگ کی صدر ہوں۔ میں انیس سو چوراسی میں مجلس شوریٰ کی رکن بھی رہی۔ ھم پانچ بہن بھائی ہیں جبکہ میرا ایک بیٹا اور بیٹی ہے۔ بچپن سے مجھے سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن چونکہ ہمارا خاندان سیاسی تھا اسی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ مجھے بھی سیاست سے لگاؤ پیدا ہوا۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ میں نہ عوام بالخصوص خواتین کی خاطر نوکری کو خیرآباد کہہ کر عملی سیاست میں قدم رکھا۔ اب میں اپنا کلینک بھی چلاتی ہوں اور سیاست بھی کرتی ہوں۔
سرحد میں شریعت بل پاس ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ یہ تو وہی بل ہے جو ہمارے قائد نوازشریف نے انیس سو نوے میں پارلیمینٹ سے پاس کروایا تھا۔ میرے خیال میں ایم ایم والے شریعت کے نفاذ میں مخلص نہیں ہیں ان کو چاہیے کہ عوام کے حقیقی مسائل کے حل پر توجہ دیں۔ غیر اہم چیزوں کو چھوڑ کر منہگائی، بےروزگاری اور بھوک و افلاس کے خاتمے پر اپنی توانائیاں خرچ کریں۔ دیہی علاقوں میں عورتوں کو کئی قسم کے مسائل کا سامنا ہے ۔ان میں تعلیم کی کمی ہے، وہ بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں اور صحت عامہ کے مشکلات ہیں۔ خواتین اگر خود آگے نہیں آئیں گی تو ان کے مسائل کون حل کرے گا ؟ دو ہزار چار عورتوں کے جاگنے کا سال ہے کیونکہ اب پارلیمینٹ میں ان کی نمائندگی اچھی خاصی ہوگئی ہے۔ اسی طرح مقامی حکومتوں میں بھی وہ زیادہ تعداد میں ہیں اور ان کے نہ ہونے سے جو خلاء پیدا ہوا تھا، اب پورا ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ایم ایم اے نے لیگل فریم ورک آرڈر کی منظوری کےسلسلے میں حکومت کا ساتھ دے کر اچھا نہیں کیا کیونکہ اس سے فردِ واحد کے ہاتھ مزید مضبوط ہوگئے ہیں۔ مشرف کل بھی غیر آئینی صدر تھے اور آئندہ بھی رھیں گے۔ انہوں نے تلوار کی نوک پر ایک منتخب حکومت کو ختم کیا اور متحدہ مجلس عمل نے ایک آمر کا ساتھ دیا۔ زندگی میں مختلف قسم کے واقعات پیش آتے رھتے ہیں لیکن ایک واقعہ ایسا ہے جسے میں ساری زندگی نہیں بھلا سکتی۔ یہ آٹھ سال پہلے کی بات ہے۔ گرمیوں کے دن تھے اور میں اپنی کلینک میں بیٹھی ہوئی تھی کہ تین خوبصورت جوان افغان خواتین اندر داخل ہوئیں۔ لمبے قد کی ان عورتوں نے آنکھوں پر بڑے بڑے چشمے لگائے ہوئے تھے۔ شکل سے تینوں ایسی لگتی تھیں جیسے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق ہو۔ میں نے اشارہ کیا کہ جو مریض ہے وہ سامنے والے کمرے میں چلی جائے۔ لیکن جیسے ہی میں نے چیک اپ شروع کیا، ان میں ایک خاتون نے میرے اوپر پستول تان لیا اور کہا ’جو سونے کی چوڑیاں پہنی ہوئی ہیں ان کو چپ چاپ نکال دیں ورنہ گولی چل جائیگی۔‘ اس دوران جس خاتون نے اپنے آپ کو مر یض ظاہر کیا تھا اس نے جیب سے ایک قسم کا سپرے نکال کر میرے ناک کے نزدیک چھڑک دیا جس سے میں بے ہوش ہوکر زمین پر گر گئی۔ اللہ تعالی نے میرا پردہ رکھنا تھا کہ جیسے ہی میں زمین پر گری میرے پاؤں سامنے والے دروازے سے ٹکرا گئے جس سے دروازہ کھل گیا۔ تھوڑی سی ہوا اندر آئی جس سے مجھے ہوش آگیا اور میں فوری طور پر باہر کی طرف لپکی اور شور مچانا شروع کردیا لیکن چور خواتین اس سے پہلے فرار ہوچکی تھیں۔ اس واقعے کے بعد کئی سال تک میں نے سونے کی چوڑیاں نہیں پہنی۔ نوٹ: نسر ین خٹک نے یہ گفتگو ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے کی۔ اگر آپ بھی اپنی آپ بیتی ہمارے قارئین تک پہنچانا چاہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||