BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 January, 2004, 14:50 GMT 19:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈائری: ایف بی آئی کا سایہ

واشنگٹن میں ایف بی آئی کا صدر دفتر
واشنگٹن میں ایف بی آئی کا صدر دفتر
میں امریکی ریاست ورجنیا کی ایک یونیورسٹی میں طالب علم ہوں۔ میری پیدائش اور پرورش اسلام آباد میں ہوئی۔ مجھے کبھی امید نہیں تھی کہ میں امریکہ آؤں گا اور تعلیم کا ایک موقع ملے گا۔ میری پرورِش پاکستان کے ایک روشن خیال مسلم گھرانے میں ہوئی تھی اور میں نے ہمیشہ مسلم قدامت پرستوں سے نفرت کی۔

امریکہ آنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اس ملک میں زندگی بسر کرنے کے لئے مذہب سے قریب رہنا واحد راستہ ہے۔ میں نے مذہب کے بارے میں مزید جانکاری حاصل کرنی شروع کردی۔ اور جلد ہیں میں نے اسلام اور اسلامی مراکز سے تعلق قائم کرلیے۔

پھر گیارہ ستمبر آیا اور حالات خراب ہوتے چلے گئے۔ لوگ مجھے مضحکہ خیز نظروں سے دیکھنے لگے۔ ہم لوگوں نے حراستوں کی خبریں سنیں۔ کبھی کبھی خوف لگتا تھا۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہاں کچھ نہیں ہوتا اور زندگی حسین ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ میں مسلسل خوف کے عالم میں رہتا ہوں۔

میں جنوری سن دوہزار دو اور فروری دوہزار تین میں برطانیہ اور پاکستان میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے گیا۔ جب میں مارچ میں واپس امریکہ آیا تو امریکی تفتیشی محکمۂ ایف بی آئی کے اہلکار مجھ سے پوچھ گچھ کے لئے پہنچے۔

اس کے بعد سے میرے لئے زندگی کی اذیتیں شروع ہوگئیں۔ حکام میرے دفتر بھی پہنچے اور تین گھنٹوں تک پوچھ گچھ کرتے رہے۔ انہوں نے میرے اوپر الزامات لگائے اور ڈرایا، دھمکایا۔ زندگی آسان نہیں تھی۔ اس دن تو وہ لوگ چلے گئے لیکن میری نیند حرام ہوگئی۔ مجھے گرفتار ہونے کا مسلسل خوف تھا۔

اللہ کو معلوم کیا ہورہا تھا۔ وہ میرے پاس ایک دوست کے بارے میں پوچھنے آئے جو گیارہ ستمبر کے بعد لشکر کے ساتھ ٹرینِنگ کے لئے پاکستان گیا تھا۔ اس کے بعد جون دوہزار تین میں اس کے اور اس کے دوسرے دس ساتھیوں کے خلاف الزامات عائد کیے گئے۔ اس وقت وہ سعودی عرب میں تھا۔ اسے سعودی عرب سے گرفتار کرکے امریکہ لایا گیا، صرف دوروز قبل جب اس کی شادی کراچی میں ہونی تھی۔

افسوس کہ یہ مقدمہ اب بھی چل رہا ہے۔ اس نے الزامات قبول کرلیے اور اسے گیارہ سال کے لئے جیل بھیج دیا گیا۔ مجھے ایف بی آئی نے تین بار واشنگٹن بلایا، پوچھ گچھ کے لئے۔ میں مسلسل خوف کے عالم میں رہتا ہوں، بالخصوص اس وقت جب میں امریکہ سے باہر سفر کرتا ہوں۔ میں یہاں گرین کارڈ ہولڈر ہوں۔

مجھے ایک مسلمان کی حیثیت سے زندگی گزارنے سے کوئی افسوس نہیں ہے۔ افسوس امریکہ ہمارے لوگوں کو ناپسند کرتا ہے۔ کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہاں زندگی خوشگوار ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ میں نے اوپر جن گیارہ لوگوں کا ذکر کیا ہے ان پر مقدمہ چل رہا ہے، اس ماہ۔ لیکن ان میں سے چھ افراد نے پہلے ہی اقرار جرم کرلیا ہے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد