اندھیری دنیا: جب زمین پیروں تلے نہ رہی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بچپن ہی سے دیکھنے میں مشکل ہوتی تھی مگر دیکھتا تھا اور بچوں کے ساتھ کھیلا بھی کرتا۔ ایک دن اسکول کی گاڑی سے گلی کے کونے پر اترا تو کچھ نظر نہیں آیا۔ میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ گلی میں آوازیں لگانا شروع کیں، کوئی نہیں آیا۔ اپنے آپ کو اکیلا محسوس کررہا تھا، ایک بچے کے کھیلنے کا شور سنائی دیا اس کو آواز دی کہ مجھے میرے گھر چھوڑدو۔ وہ دن میری زندگی کا بہت کٹھن دن تھا کیونکہ اب طے ہوچکا تھا کہ میں کبھی نہیں دیکھ سکتا ہوں۔ والدین کراچی لیکر آئے، ڈاکٹر نے آپریشن کیا اور بتایا کہ کچھ نہیں ہوسکتا۔ میں تو ذہنی طور پر تیار تھا مگر ماں باپ کے لئے یہ بات سننا کافی مشکل تھا کیونکہ میں گھر میں سب سے بڑا تھا اور میری عمر پندرہ سال تھی۔ میرے والدین اور دوسرے بہن بھائیوں نے میرا بہت ساتھ دیا اور میں نے نابیناؤں کے اسکول میں جانا شروع کر دیا۔ وہاں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ پھر شکارپور سے نکل کر حیدرآباد آیا اور وہاں نابیناؤں کے اسکول میں کرسی اور چار پائی بننے کا کام شروع کر دیا۔ اس کے بعد کراچی آکر نوکری تلاش کرنا شروع کی مگر نوکری پرائیوٹ جگہ ملتی نہیں ہے اور گورنمنٹ نے جو معذوروں کے لئے مخصص کی ہوئی سیٹوں کا اعلان کیا ہوا ہے، اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ میں گھر میں سب سے بڑا ہوں اور ہر وقت بس یہ احساس دل میں رہتا ہے کہ گھروالوں کو کچھ کرکے دکھاؤں۔
آج بھی گھر والے تمام مشکلات یا گھر کے دوسرے معاملات میں مجھ کو ہی آگے کرتے ہیں۔ نابیناؤں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اگر گھر والے ساتھ دیں تو دنیا ساتھ رہتی ہے اور اگر گھر والے ساتھ چھوڑدیں تو زندگی گزارنا بہت مشکل کام ہوجاتا ہے۔ میرے گھر والوں نے مجھ کو پوری طرح حوصلہ دیا اور مجھ سے ایسے بھی کام لئے جو بینائی رکھنے والے زیادہ آرام سے کرسکتے تھے مگر میری والدہ ہمیشہ مجھ سے کہتیں کہ’توجا کیونکہ تو دکاندار سے صحیح طرح بات کرے گا اور کوئی گیا تو خراب چیز مہنگے داموں لیکر آجائیگا۔‘ ان کے اس اعتماد کی وجہ سے مجھ میں ہر کچھ کرنے کا حوصلہ ہے۔ ۔ زندگی سے میں ہر وقت لڑتا ہوں، جدوجہد کرتا ہوں۔ اگر چلتے ہوئے کسی گڑھے میں گر گیا تو اپنے آپ کو حوصلہ دیتا ہوں کہ آنکھیں رکھنے والے بھی گڑھوں میں گرجاتے ہیں، میں گرگیا تو اس میں کوئی انوکھی بات نہیں ہوئی۔ زندگی کے پندرہ سال میری آنکھیں تھیں تو میں اپنے گھر والوں کا اور چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال کرتا تھا، آج بھی آنکھیں نہ ہونے کے باوجود اپنے تین بھائی اور تین بہنوں کا اسی طرح خیال کرتا ہوں۔ والد صاحب نے لاء کی ڈگری لی اور والدہ بھی گریجویٹ ہیں۔ گھر میں تمام لوگ پڑھے لکھے ہیں، بس میں صرف دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کرسکا۔ بینائی جانے کے بعد میری صلاحیتوں میں بےحد اضافہ ہوا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ جب میری آنکھیں تھیں تو مجھ میں اتنی صلاحیت نہیں تھی کہ میں ٹیلیفون ایکسچینچ چلانے کا ڈپلومہ حاصل کرسکتا مگر آنکھیں جانے کے بعد میں نے سب کچھ کیا۔ ہو سکتا ہے کہ میں یہ باتیں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ اب میری آنکھیں نہیں ہیں۔ تاہم مجھے وہ دن ہمیشہ یاد رہیگا جس دن میں اپنی اسکول کی گاڑی سے گلی کے کونے پر اترا تھا تو میرا گھر پہنچنا مشکل ہوگیا تھا۔ نوٹ: محمد خلیل شیخ نے یہ گفتگو کراچی میں ہمارے نمائندے محمد ارسلان سے کی۔ اگر آپ بھی اپنی آپ بیتی ہمارے قارئین تک پہنچانا چاہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||