BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قانون سے کھلواڑ

ڈاکٹر سیمی محمود جان
ڈاکٹر سیمی محمود جان
میں نے جب شور مچایا تو سخت گیر وارڈن نے آخر کار دارالاطفال کا دروازہ کھول دیا۔ جب میں اندر داخل ہوئی تو ایسا لگا جیسے کالی کوٹھڑی کے اندر آگئی ہوں۔

کمرے کے اندر با لکل اندھیرا تھا، تھوڑی دیر کے بعد مجھے جلے ہوئے گوشت کی بو محسوس ہوئی جب میں نے غور کیا تو ایک بچہ فرش پر پڑا ہوا نظر آیا جس کا پاؤں تیل کے چولہے سے جل گیا تھا لیکن علاج نہ ہونے کے باعث وہ زخم خراب ہوچکا تھا۔

میں نے اس بچے کو ہسپتال میں داخل کیا، اس کا علاج کرایا اور بعد میں وہ بالکل ٹھیک ہوگیا۔ میں زندگی میں سب کچھ بھول سکتی ہوں لیکن اس بچے کے جلے ہوئے زخم کو کبھی نہیں بھول سکتی۔

یہ پشاور کا دارالاطفال تھا جہاں پر لاوارث، بے سہارا اور لاچار بچوں کی پرورش ہوتی ہے۔

حدود آرڈیننس
 حدود آرڈیننس ضیاءالحق کے دور میں لاگو ہوا تھا اور بعض لوگ اسے اللہ تعالی کی حدود کہتے ہیں۔ جہاں تک مجھے پتہ ہے قرآن شریف میں تو کوئی آرڈیننس نہیں ہے۔
ڈاکٹر سیمی محمود جان

میری کوئی اولاد نہیں تھی اور میرے دو بچے پیدائش سے قبل ہی ضائع ہو چکے تھے۔ اس لاوارث بچے کا علاج کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی ایک بیٹے کی نعمت سے نوازا۔

میری پیدائش پشاور میں ہوئی لیکن چونکہ میرے والد فوجی افسر تھے اور ان کی پوسٹنگ ترکی میں تھی اسی وجہ سے میں نے ابتدائی تعلیم انقرہ ترکی میں حاصل کی- 1963 سے 1966 تک ہم ترکی میں رہے اس کے بعد پاکستان آگئے۔ خیبر میڈیکل کالج پشاور سے میں نے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی اور پھر رائل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل اسکول آف لندن سے میں نے خون کی بیماریوں میں اسپشلائزیشن کیا۔ 1983 میں پہلی پاکستانی خاتون ڈاکڑ بن گئی جس نے بون میرو میں مہارت حاصل کی۔ گیارہ سال تک میں لندن میں رہی بعد میں پاکستان آگئی۔ 2001 میں، میں نے حیات آباد پشاور میں اپنا ایک پرائیویٹ ہسپتال بنادیا۔

بنیادی طورپر ہم مسلم لیگی ہیں۔ میرے ماموں یوسف خٹک قائداعظم اور لیاقت علی خان کے ساتھ رہے۔ میں کالج کے زمانے سےہی سیاست میں سرگرم تھی۔ 1983 میں بچوں سے جبری مشقت کے سلسلے میں بڑا کام کیا۔ اس دوران میں پاکستان فیڈریشن آف بزنس اینڈ پروفیشنل ویمن کی جنرل سیکرٹری بھی تھی- خواتین کے حوالے سے میں نے بڑاکام کیا۔

میں نے پشاور میں پہلا ورکنگ ویمن ہاسٹل بنایا جس پر بعد میں مجھے ایک بین الااقوامی اعزاز بھی ملا- میں نے زیادہ تر ترقیاتی کاموں میں حصہ لیا جن کو مکمل کرنے میں مجھے اکثر اوقات مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ اپنا پرائیویٹ ہسپتال بنانے میں مجھے جن مصائب سے گزرنا پڑا وہ مجھے ہی پتہ ہے۔

ان حالات میں مجھے محسوس ہوا کہ رفاہ عامہ کے کاموں کو انجام تک پہنچانے کے لئے پارلیمنٹ کا ممبر بننا ضروی ہے۔ اسی طرح جب اکتوبر 2002 میں عام انتخابات ہوئے تو مجھے اپنی پارٹی نے خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب کرلیا اسی طرح میں ایم پی اے بن گئی۔

ہمارے ملک میں عورتوں کے مسائل بہت زیادہ ہیں۔ موجودہ حکومت نے خواتین کے حقوق کےحوالے سے جو کمیشن بنایا ہے اس کو مزید فعال بنایا جائے اور جو متنازعہ فیملی قوانین ہیں ان کو ختم کیا جائے۔ حدود آرڈیننس ایک امتیازی قانون ہے جو ضیاءالحق کے دور میں لاگو ہوا تھا ان میں تبدیلی اب ناگزیر ہوچکی ہے۔ بعض لوگ ان کو اللہ تعالی کی حدود کہتے ہیں۔ جہاں تک مجھے پتہ ہے قرآن شریف میں تو کوئی آرڈیننس نہیں ہے۔

طلاق بھی ہمارے ملک میں کھیل بن کر رہ گیا ہے۔ شوہر ان کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ آپ الجزائر کی مثال لیں وہ بھی ایک اسلامی ملک ہے لیکن وہاں کوئی اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا۔ لیکن اگر کوئی طلاق دے گا تو اسے اپنی ساری جائیداد پہلی والی بیوی کے نام کرنی ہوگی اور بچے بھی ماں کے پاس ہی رہیں گے۔

اسی طرح مصر میں بھی کوئی دوسری شادی اس وقت تک نہیں کرسکتا جب تک وہ اپنی ساری جائیداد پہلی والی بیوی کے نام نہ کردے۔ ہمارے مذہب ’اسلام‘ میں عورتوں کو جو حقوق حاصل ہیں وہ نہ تو عیسائیت میں ہیں اور نہ یہودیت میں۔

قرآن مجید میں واضع طور پر لکھا ہے کہ جنت ماں کے پاؤں تلے ہے اور مائیں کون ہیں؟ عورتیں ہی ہیں جن پر ظلم ہوتا ہے اور مختلف قوانین کے نام پر ان کے تمام بنیادی حقوق غصب کردیے جاتے ہیں۔

مجھے خواتین کے حقوق اور طب کے شعبہ میں گراں قدر خدمات کے صلے میں دو بین الاقوامی اعزازات ملے ہیں۔ ایک اعزاز مجھے 1988 میں ورلاڈ جونیئر چیمبر آف کامرس کی طرف سے دیا گیا۔ یہی ایوارڈ سابق امریکی صدر جان کِنیڈی کو بھی ملا تھا جبکہ دوسرا اعزاز انٹرنیشنل ہال آف فیم کا ملا جو مجھے پشاور میں پہلا ورکنگ ویمن ہوسٹل بنانے، پشاور ہی میں فاطمید فاونڈیشن کا دفتر کھولنے اور خواتین اور بچوں کے لئے کام کرنے کے اعتراف میں دیا گیا۔


نوٹ: ڈاکڑ سیمی محمود جان نے یہ گفتگو ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے کی۔ اگر آپ بھی اپنی آپ بیتی ہمارے قارئین تک پہنچانا چاہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد