فیملی عدالتیں: پختون معاشرے میں اہم تبدیلی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ساجدہ ہماری پڑوس میں رہتی تھی، دو سال پہلے اس کی شادی اپنے ماموں کے بیٹے جاوید سے ہوئی۔ شادی کے بعد اٹھارہ سالہ ساجدہ کے کچھ مہینے تو ہنسی خوشی گزر گئے، لیکن اس کے بعد ظلم کے پہاڑ ٹوٹنے لگے۔ جو سونے کے زیورات اس کو خاوند کے گھر والوں نے بناکر دیے تھے وہ کچھ مہینوں کے بعد جاوید نے اس سے چھین کر فروخت کردیے جس کے بعد میاں بیوی میں لڑائیاں اور تلخیاں شروع ہوئیں- اس دوران ان کے دو بچے بھی پیدا ہوئے۔ کچھ عرصہ کے بعد ساجدہ خاوند کا گھر چھوڑ کر ماں باپ کے گھر آگئی جبکہ بچے خاوبد نے زبردستی اپنے پاس روک لیے۔ میں نے ساجدہ کی طرف سے بچوں کے برآمدگی کے لئے فیملی کورٹ میں مقدمہ درج کرلیا جو ہم نے جیت لیا اور عدالت کے حکم پر ساجدہ کو اپنے بچےبھی واپس مل گئے۔ میں نے ساجدہ کو سمجھایا کہ کہ اپنے شوہر جاوید سے صلح صفائی کرو کیونکہ علحیدگی اس مسئلے کا حل نہیں، آپ لوگوں کے بچے بھی ہیں اور ان حالات کے بچوں پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ میری اس بات پرساجدہ خوب روئی اور کہنے لگی: ’بی بی جی میں تو چاہتی ہوں کہ اپنے خاوند کے گھر چلی جاؤں لیکن مجھے اپنے سسُر سے خطرہ ہے جس نے دو بار مجھے جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ میرا خاوند تو بے غیرت ہے کیونکہ میں نے اس کو بتایا بھی ہے لیکن وہ کچھ نہیں کرتا، وہ کہتا ہے کہ صبر سے کام لو-‘ ایک دن تو ساجدہ نے بھری عدالت کے سامنے اپنے سسُر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں گھر آجاؤں گی اگر یہ (سسُرصاحب) میرے بیڈ روم میں نہ آنے کا یقین دلائے۔ جان گل کے کیس میں تو اس کے خـاوند شہنواز خان نے تو قانون، اسلام اور انسانیت کے حدیں بھی پھلانگ دیں تھیں۔ جان گل پانچ بچوں کی ماں تھی لیکن اس کے خاوند شہنواز خان نے پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے بھی اپنی شادی شدہ ممانی سے نکاح کر لیا تھا- شہنواز خان کے والدین نے خود عدالت میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ان کا بیٹا شادی شدہ ممانی سے نکاح کرکے روپوش ہوگیا ہے۔ آپ اندازہ کریں کہ اس قسم کے واقعات بھی ہمارے معاشرے میں ہورہے ہیں جس میں خواتین کو ہی ظلم و استبداد اور استحصال کا نشانہ بنایا جارہاہے۔ پشاور میں ایک فیملی کورٹ ہے جس میں روزانہ ساٹھ سے زائد مقدمات کی سماعت ہوتی ہے- اس واحد فیملی کورٹ میں اکثر جونیئر خواتین ججوں کو تعینات کیا جاتا ہے جن کو بالکل بھی تجربہ نہیں ہوتا ہے اور نہ قانون سے اتنے بہت واقف ہوتے ہیں۔ اسکی وجہ سے اس عدالت میں زیر سماعت مقدمات کے نمٹانے میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔ بعض اوقات ایسے مقدمات بھی آجاتے ہیں جن کو جج صاحبان خود بھی نہیں سمجھتیں اور ان کو آگاہی حاصل کرنے میں کافی عرصہ لگ جاتا ہے۔ فیملی مقدمات شوہر، بیوی اور بچوں سے متعلق ہوتے ہیں اور چونکہ نئے جج شادی شدہ بھی نہیں ہوتے اسی وجہ سے ان کو سمجھنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور خواہ مخواہ عدالت کا وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔ یہ تو حکومت کی غلطی ہے کہ نئی خاتون جج آتی ہے، اس کو تجربہ حاصل کرنے کے لئے فیملی کورٹ بھیج دیا جاتا ہے یعنی یہاں پر بھی عورتوں کیساتھ ہی زیادتی ہورہی ہے کیونکہ اس عدالت میں تو صرف عورتوں کے کیس ہوتے ہیں- جو جج تھوڑا بہت تجربہ حاصل کرلیتا ہے اس کو تبدیل کرکے اس کی جگہ دوسری نئی خاتون جج لائی جاتی ہے اور اسی طرح مقدمات کے پایۂ تکمیل تک پہنچنے میں تاخیر ہوتی رہتی ہے۔ محکمۂ قانون کو چاہئے کہ فیملی کورٹ میں شادی شدہ اور تجربہ کار خواتین ججوں کو تعینات کرے تاکہ عورتوں کے بڑھتے مسائل وقت پر حل ہوں۔ میرا تعلق بنیادی طورپر افغانستان سے ہے لیکن میری پیدائش پشاور میں ہوئی۔ ہمارے آباء وآجداد تقریباً تیس سال قبل افغانستان سے ہجرت کرکے پشاور آکر یہاں آباد ہوئے تھے۔ بی اے میں نے فرنٹیر کالج برائے خواتین پشاور سے کیا جبکہ ایل ایل بی خیبر لاء کالج سے کیا- پشاور میں چونکہ وکالت کے شبعےسےبہت کم خواتین وابسطہ ہیں اسی وجہ سے میں نے بھی اس پیشے کا انتخاب کیا کیونکہ مجھے یہاں پر اس میں کم وقت میں زیادہ کامیابی کے امکانات نظر آئے۔ میں فیملی کیسز کرتی ہوں- پہلے پختون عورتیں شوہر کےخلاف عدالت جانے سے کتراتی تھیں کیونکہ یہ یہاں پر یہ برا سمجھا جاتا تھا لیکن اب تو یہ بہت عام ہو گیا ہے۔ آج کل تو پختون معاشرے میں خُلع، طلاق، علحیدگی، نان و نفقہ، حقوق زوجیت اور بچوں کی حوالگی سے متعلق مقدمات کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہاہے اور اس کی وجہ عورتوں کا اپنے حقوق سے آگاہی ہے جس کا سہرا غیرسرکاری اداروں کے سر ہے جنہوں نے بہت کم وقت میں زیادہ کام کیا ہے۔ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ صوبۂ پنجاب میں وقت کے ساتھ ساتھ فیملی قوانین میں تبدیلیاں اور ترامیم لائی جارہی ہیں لیکن صوبۂ سرحد کا محکمۂ قانون سویا ہوا ہے۔ وہ آج سے بیسں برس پہلے جں طرح تھا آج بھی اسی جگہ خاموش تماشائی بنا ہواہے۔ پنجاب میں عدالتوں نے بیوی کو یہ اختیار دیا ہےکہ اگر شوہر اس کی مرضی کے خلاف دوسری شادی کرے تو وہ خاوند کے خلاف فیملی کورٹ میں مقدمہ درج کرسکتی ہے، جبکہ سرحد میں عورت کو یہ حق حاصل نہیں- یہاں پر بیوی براہ راست خاوند کے خلاف کیس نہیں کرسکتی ہے- پہلے اسے ڈسڑکٹ یا یونین کونسل میں عرضی جمع کرنی ہوگی اور وہاں سے جب اجازت ملےگی تب جاکر مقدمہ درج کرسکے گی- دوسری اہم بات یہ ہے کہ اکثر کونسلر حضرات انگوٹھا چھاپ ہیں، انہیں اس بارے میں علم ہی نہیں بلکہ یہ تو اتنے پچیدہ مسئلے ہوتے ہیں کہ وکیل کے علاوہ عام تعلیم یافتہ لوگ بھی اسے نہیں سمجھ سکتےہیں- میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ وکالت کے پیشے میں نام پیدا کروں اور حلال رزق کماؤں۔ اس کے علاوہ میری اور کوئی بڑی آرزو نہیں- اس وقت میری عمر 27 سال ہے ہم دس بہن بھائی ہیں، میں سب سے بڑی ہوں- میں اپنے علاقے کی کونسلر بھی ہوں۔ وکالت کے ساتھ میں اپنے علاقے کے مسائل کے حوالے سے بھی کام کرتی ہوں- نوٹ: اس مضمون میں شروع کےدو واقعات میں جو نام ہیں وہ تبدیل کردیے گئے ہیں۔ شبانہ گل تاجک نے یہ گفتگو ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے کی۔ آپ بھی اپنی آپ بیتی ہمیں لکھ کر بھیج سکتے ہیں، ہمیں ضرور شائع کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||