BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 February, 2004, 18:20 GMT 23:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اندھیرے کا سفر: میں نے آواز کی روشنی ڈھونڈھ لی

اندھیرے کا سفر: میں نے آواز کی روشنی ڈھونڈھ لی
اندھیرے کا سفر: میں نے آواز کی روشنی ڈھونڈھ لی
سب کچھ کرلیا مگر آج بھی ماں سے کوئی سوال کرتا ہے کہ آپ کی زندگی آپ کے بچوں کے ساتھ کیسی ہے، تو وہ رو پڑتی ہیں۔ عورتیں نرم دل ہوتی ہیں، اسی وجہ سے ایسا ہوتا ہے، ورنہ تو میری زندگی ایسی ہے کہ بہت سے آنکھوں والوں کی زندگی ایسی نہیں ہوگی۔ بچپن سے گانا گانے کا شوق، زمین پر تھال پڑا ہویا کوئی پتیلا اس کو بجانا شروع کردیا کرتا تھا۔ اسکول میں بھی ایسا ہی کرتا، جو کوئی موسیقی کی چیز ملتی اُس کو ہاتھ میں لے کر بجانا شروع کردیا کرتا تھا۔

کشور کمار کو سُنتا تو لگتا کہ یہ میں گارہا ہوں یا میرا کوئی رشتہ دار، عزیز واقارب، کوئی بہت ہی قریبی شخص گارہا ہو۔ میرے جسم میں ایک عجیب سا احساس ہوتا تھا، ایک ایسا احساس جو کسی کو بتایا نہیں جاسکتا۔ ایک دفعہ اسکول میں گانے کا پروگرام تھا، مجھے ہار مونیم بجانا تھا، میرے والد نے ایک مجھے دلوایا۔ میں صبح اپنے بستے میں رکھ کر لے گیا، مگر وہ اور میرا بستہ چوری ہوگیا۔ میں نے رونا شروع کیا کیونکہ شام میں اسکول کا پروگرام تھا اور مجھے وہاں بجانا تھا۔ گھر آکر بہت رویا اور شام کو پروگرام میں شریک ہونے کے لئے گیا تو وہاں ایک گلوکارکا بہت بڑا کی بورڈ رکھا تھا، اسکول کی ٹیچر نے اُن سے کہا کہ ہمارے ایک شاگرد کو کیا آپ یہ استعمال کرنے کیلئے دے سکتے ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ ’اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اس کی تو ساری ترتیب خراب ہوجائیگی۔ پھر اُس کو یہ استعمال کرنا بھی نہیں آتا ہوگا۔‘

اسکول کے اُستادوں کے اصرار پر انہوں نے مجھے اس کو استعمال کرنے کی اجازت دی۔ میں نے وہ بجایا مجھے اتنی داد ملی کہ تمام اخبارات میں خبریں چھپ گئیں۔ اُس دن سے میں نے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا، اُس کے بعد والد صاحب نے ایک چھوٹا کی بورڈ لاکر مجھے دیا، جس پرصبح شام میں ریاض کرتا تھا۔ مجھے موسیقار بننے کا بہت شوق تھا۔ فرصت کے اُوقات میں صرف موسیقی سنا کرتا اور بجایا کرتا تھا۔ اب میں باقاعدہ موسیقار بنتا جارہا تھا، اور بہت سی جگہ اپنے فن کا مظاہرہ کر چکا تھا۔ اسی دوران میں کشور کمار کو سننا شروع کیا۔

ایک دن صبح اطلاع ملی کہ کشور کمار کا انتقال کوگیا۔ یہ بات تیرہ اکتوبر انیس سو ستانوے کی ہے۔ مجھے ایک جھٹکا لگا کہ یہ آواز اب نہیں آئیگی، جو ہے وہ تو ہے۔ مگر نئے گانے کشور کمار کی آواز میں نہیں آئینگے۔ اُس دن سے میں نے سوچا کچھ بھی ہو میں گلوکار بنوں گا۔ میری آواز بہت خراب تھی مگر ان تھک محنت کے بعد میں گلوکار بننے میں کامیاب ہوگیا۔ آج بھی گا لیتا ہوں مگر اپنے آپ کو بلکل صحیح نہیں سمجھتا ہوں۔

میری آواز بہت خراب تھی میرے والد نے بہت سمجھایا کہ بیٹا بچپن سے جو شوق ہے وہ ہی رکھو، کیوں تم گلوکار بننا چاہتے ہو۔ مگر میری مسلسل کوششوں کو دیکھ دیکھ کر انہوں نے یہ کہنا ختم کیا، اب میں مسلسل محنت کرتا اور اُن کو اپنی آواز سناتا وہ کہتے ہاں بہتر ہوئی ہے اور پھر میری آواز بہتر ہوتی چلی گئی جس میں میرے والدین کا بڑا ہاتھ ہے۔

ویسے تو میری کامیاب زندگی کے پیچھے بھی انہی دونوں کا ہاتھ ہے۔ کیونکہ انہوں نے ہمیشہ مجھے حوصلہ دیا، ہمیشہ دوستوں کی طرح ہم دونوں بھائیوں کو رکھا، کیونکہ میرا دوسرا بھائی بھی نابینا ہے اور اچھا کار مکینک ہے۔

آج سب کچھ کرلیتا ہوں، ایک عام آدمی سے اچھا کماتا ہوں، مگر والدین کے دل میں ایک بات ضرور ہے کہ ہمارے بیٹوں کی آنکھیں نہیں ہیں۔ اپنی اٹھائیس برس کی عمر میں مختلف پروگرامات میں اپنے فن کا مظاہرہ کرچکاہوں، گانا گاکر لوگوں کی داد وصول کرتا ہوں، مگر مجھے اپنے نابینا ہونے پرکوئی غم کا احساس نہیں ہے، کیونکہ اب تو میں کمپیوٹر پر بھی لوگوں سے بات بھی کرلیتا ہوں۔


نوٹ: یہ آپ بیتی بلال شفیع نے کراچی میں ہمارے نامہ نگار محمد ارسلان کو رقم کروائی۔ اگر آپ بھی ایسے ہی حالات سے دوچار ہیں یا کبھی رہے ہیں، تو ہمیں اپنی کہانی کم سے کم الفاظ میں لکھ کر بھیجئے۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام نہیں شائع کریں گے

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد