’ڈرتا ہوں کہ دھرا جاؤں گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں صدرِ پاکستان جنرل پرویز مشرف کی توجہ موجودہ حکومت کے دور اقتدار میں طلباء کو درپیش مسائل کر طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ جنرل پرویز مشرف سے میں یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ سترہ سال تک تعلیم حاصل کرنے اور سخت محنت کرنے کا آخر کیا مقصد رہ جاتا ہے جب ڈاکٹروں کو آخر میں کنٹریکٹ یعنی عارضی ملازمت ہی ملنی ہے۔ میں صدر پرویز مشرف کی توجہ اس بات کی طرف بھی دلانا چاہتا ہوں کہ حکومت ایم اے ( پشتو) اور ایک ڈاکٹر کو ایک ہی جیسی تنخواہ دیتی ہے۔ جبکہ ڈاکٹر بننے کے لئے طلبا کو سخت محنت اور اعلیٰ نمبر حاصل کرنے کے بعد ہی کسی میڈیکل کالج میں داخلہ ملتا ہے جہاں وہ چھ برس تک چکی میں پستے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر بن جانے کے بعد انہیں کیا ملتا ہے؟ اس لئے میرے خیال میں موجودہ نسل بیرونی ممالک جانے پر مجبور ہو جاتی ہے جہاں نہ صرف بھاری تنخواہیں ملتی ہیں بلکہ معاشرتی سطح پر وقار میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ میرے خیال میں صوبہ سرحد کے گورنر صاحب نے جو پالیسیاں اپنا رکھی ہیں، ان کے باعث میڈیکل کا تعلیمی نظام تباہی کے دہانے پر آ پہنچا ہے۔
ذہین طلباء بیرون ملک جا رہے ہیں جس کی وجہ سے آئندہ چند برسوں میں سینیئر عہدوں کو پُر کرنے کے لئے کوئی نہیں بچے گا۔ اس سے نہ صرف صحت عامہ بری طرح متاثر ہو گی بلکہ گزشتہ پچاس برس کی جدوجہد کے بعد آج جہاں ہم پہنچیں ہیں، وہ مقام بھی کھو دیں گے۔ جنابِ صدر، میرے خیال میں باصلاحیت ڈاکٹروں کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ اس لئے میری درخواست ہے کہ آپ اس مسئلے پر ذاتی طور پر توجہ دیں ورنہ پاکستان میں صرف ایسے ڈاکٹر بچیں گے جو ملیریا کا علاج بھی نہیں کر سکتے۔ جنابِ صدر، ملک کے دیگر اداروں کی حالت بھی خستہ ہو چکی ہے۔ عوام کو فوری اور شفاف انصاف میسر نہیں، غربت پر قابو پانے میں مسلسل ناکامی کا سامنا ہے، طبی سہولیات کا فقدان ہے، امیروں کے اثاثوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور غریب لوگ غریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ اس تمام صورت حال کے باعث ملک میں انارکی یعنی طوائف الملوکی پھیلنے کا خدشہ بہت بڑھ گیا ہے۔ میں آپ کو بہت کچھ لکھ کر بھیجنا چاہتا ہوں لیکن ڈرتا ہوں کہ دھرا جاؤں گا اور آپ کے زیر نگرانی چلنے والی ایجنسیاں میرے خلاف کارروائی کریں گی۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’ آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کے اظہار خیال کے لئے ہے۔ ان خیالات سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ آپ بھی اپنے خیالات اور مسائل ہمیں لکھ کر بھیجیئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||